مذہب کے نام پر سیاست سے معاشرے پر منفی اثرات

مذہب کے نام پر سیاست سے معاشرے پر منفی اثرات
مذہب کے نام پر سیاست سے معاشرے پر منفی اثرات

  

برطانیہ کی کرکٹ ٹیم کا نوجوان کرکٹر معین علی پاکستان نژاد ہے۔معین علی اور اس کے جڑواں بھائی عمردونوں کو جنون کی حد تک کرکٹ کا شوق ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں جڑواں بھائیوں کی شادی بھی دو ٹوئن سسٹرز سے ہوئی ہے۔ ان کا بڑا بھائی قدیر بھی ورک شائر سے کاونٹی کرکٹ کھیل چکا ہے یوں کرکٹ ان کا خاندانی کھیل ہے۔

جب 9/11 کا واقعہ ہوا معین علی کی عمر 14 سال تھی۔ مغربی تہذیب میں رہنے والے اس نوجوان پر اس واقعہ نے گہرے اثرات مرتب کئے ۔ساتھی طالب علموں کے جملوں سے اسے اپنے مسلمان ہونے پر اکثر تنقید سہنی پڑتی۔اس کے ذہن میں مسلمانوں کے بارے میں عجیب و غریب سوالوں نے جنم لینا شروع کردیا۔پھر جب وہ مزید بڑا ہوا تو لندن کے انڈر گراؤنڈ اسٹیشن میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا جسے 7/7 کا نام دیا گیا۔

اس حادثے نے اس کے ذہن میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مزید سوالوں کوجنم دیا اور وہ اپنے دین اور مسلمانوں کے کردار کے بارے میں شدید الجھن کا شکار ہوگیا۔مغربی میڈیا کے پراپیگنڈے سے وہ بھی متاثر ہوا اور مسلمانوں کے کردار سے اسے بیزاری ہونے لگی۔

مغرب میں جب لوگ کسی داڑھی والے مسلمان کو دیکھتے تو فقرہ کستے BEAR IS FEAR یہ فقرہ سن کر اسے بھی ایسے مسلمان برے لگنے لگے اوردن بدن اس کے ذہن میں اپنے دین کے بارے میں منفی سوال اٹھنے لگے۔

اس دور میں معین علی نے کبھی سوچا بھی نہ تھاکہ آنے والے وقت میں وہ مکمل داڑھی کے ساتھ مسلمانوں کا سفیر بن جائے گا اور اسلام پر فخر کرے گا۔ایک کاونٹی میچ میں اس کی ملاقات ایسے کھلاڑی سے ہو گئی جو عیسائی مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر کے مکمل داڑھی کے ساتھ اپنا حلیہ تبدیل کر چکا تھا اس نے اسلام پر کافی ریسرچ کر رکھی تھی اور اسلام کی خوبیوں سے متاثر ہو کر ہی مسلمان ہوا تھا۔

معین علی کی اس سے گپ شپ ہوئی تو اس نے اس پر اپنے ذہن میں بیٹھے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی ’’تم نے عیسائی مذہب چھوڑ کر ایسا مذہب کیوں اختیار کر لیا جہاں لڑکیوں کی زبردستی شادیاں کرادی جاتی ہیں، جو مذہب عورتوں کو برقعے میں قید کردیتا ہے، انہیں تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے ،جہاں انسانوں کا قتل عام ایک کھیل ہے‘‘ اس نومسلم کھلاڑی نے مسکرا کر کہا ’’ میرے دوست ان افعال کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، یہ تمہارے پاکستان کے قبائلی کلچر کی برائیاں ہیں جسے تم مذہب کے ساتھ جوڑ رہے ہو، اسلام تو عورت کی رضا مندی کے بغیر شادی کی اجازت نہیں دیتا، اسلام میں عورت کو ستر ڈھانپنے کا حکم ہے، ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے چاہے عورت ہو یا مرد ، اسلام میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل سمجھا جاتا ہے‘‘ اس نے معین کو اسلام کی اصل تصویر دکھائی اور مسلمان کے اصل خوبصورت اور مہذب کردار سے روشناس کرایا۔

اس ملاقات نے معین علی کی زندگی تبدیل کرکے رکھ دی۔اس نے فیصلہ کیا کہ وہ داڑھی رکھے گا اور دنیا کو بتائے گا کہ داڑھی خوف کی علامت نہیں، مسلمان دہشت گرد نہیں،بلکہ امن پسند ہوتا ہے، مسلمانوں میں عورتوں پر جبر نہیں کیا جاتا، بلکہ یہ جاہل قبائل کی روائت ہے۔اس نے اپنے بیٹے کا نام ابوبکر رکھا اور اپنے ساتھی کرسچین کھلاڑیوں کو خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کے خوبصورت اجلے کردار کے بارے میں بتایا۔

اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ مسلمان کا اصل کردار اپنی شخصیت کے ذریعے دنیا تک پہنچائے گا اور دنیا کا نظریہ تبدیل کرے گا جس میں وہ کامیاب رہا۔وہ کہتا ہے مجھے علم تھا کہ میرے اس حلئے کا شروع میں مذاق اڑایا جائے گا اور مجھ سے ان گنت سوال کئے جائیں گے میں نے ذہن بنا لیا تھا کہ میں ہر سوال کا جواب نرم لہجے اور مہذب طریقے سے دوں گا اور کسی بھی قسم کا غصہ یا طیش نہیں دکھاؤں گا۔

آج معین علی مسلمانوں کے سفیر کے طور پر جانا جاتا ہے۔وہ داڑھی جسے دہشت گردوں کے حلئے سے جوڑا جاتا تھا اب عام مغربی ٹیموں کے کھلاڑی فخر سے رکھ رہے ہیں یہ سب کمال اس صاحب علم نو مسلم کرکٹر کا ہے جس نے ایک مسلمان گھرانے کے نوجوان معین علی کو اسلام سے دور ہونے اور مغربی تہذیب کے قریب جانے سے بچا لیا۔ گوروں کی تہذیب میں پرورش پا کر جوان ہونے والا نوجوان آج پوری دنیا کے سامنے مسلمانوں کا قابل فخر چہرہ پیش کر رہا ہے۔

وہ روزے رکھ کر کھیلتا ہے اور اپنے ساتھی کرکٹرز کو اپنے اعمال سے اپنا گرویدہ بنا تا ہے۔ جب غزہ پر اسرائیلی بمباری کے بعد اس نے اپنی ٹی شرٹ پر اسرائیلی مظالم کو روکنے کا لوگو لگایا تو آئی سی سی نے اسے تنبیہ کی لیکن انگلش بورڈ اور ساتھی کھلاڑی اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے کہ وہ انسانیت پر ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے اس کا مذہب سے تعلق نہیں۔

کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں گلی گلی مدرسے کھلے ہیں ،ہر گلی میں مختلف مکاتب فکر کی مساجد موجود ہیں جہاں تواتر کے ساتھ جمعہ کے وعظ ہوتے ہیں اس کے علاوہ بھی مولوی صاحب ہر نماز کے بعد تقریر کا شوق پورا کرتے ہیں لیکن ہمارے نوجوانوں اور عام لوگوں کی کردار سازی نہیں ہو رہی ۔

ہمارے کھلاڑی جوئے، منشیات اور دوسرے دھندوں میں ملوث پائے جاتے ہیں ،ہمارے سرکاری دفاتر حرام خوروں کے اڈے بنے ہوئے ہیں ،نجی ادارے اور عام کاروباری لوگ سب دو نمبری میں ملوث ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی حالیہ دنوں میں کاروائیاں دیکھ لیں تو لگتا ہی نہیں کہ یہ کاروباری لوگ مسلمان ہیں اور ان پر اسلام کا تھوڑا بہت بھی اثر ہے سب بے ایمانی اور بد دیانتی میں ملوث ہیں۔ ایک سے ایک بڑا بے ایمان ملے گا بحیثیت معاشرہ ہم انتہائی کرپٹ ہوچکے ہیں۔

اسلام کی تعلیم سے ایک شخص معین علی کا ذہن بدل سکتا ہے تو ہمارے ہاں علما یہ کام کیوں نہیں کر رہے؟وہ کون سے ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے معاشرے کی اخلاقی تربیت نہیں ہو پارہی؟ ہمارے ہاں اس پہلو پر ٹاک شو ز میں یا کسی سکالر یا پھر خود علما نے غور کیا کہ ایسے کیا عوامل ہیں کہ 22کروڑ کی آبادی میں ہم ایسے ایک کروڑ لوگ بھی تیار نہیں کر سکے جو اسلام کے سفیر کہلائیں اور جن کے کردار سے حقیقی مسلمان کی جھلک نظر آتی ہو۔

پاکستان علما کونسل کو اس پہلو پر غور کرنا چاہئے کہ کیا وجہ ہے آج کا نوجوان اور عام شہری حقیقی مسلمان کے روپ میں نظر نہیں آرہا، ان سے کون سی ایسی غفلت ہو رہی ہے کہ لوگوں کا علما کے ساتھ وہ قلبی رشتہ استوار نہیں رہا جو چند دہائیاں پہلے تک ہوتا تھا اور محراب و منبر کا معاشرے کی کردار سازی میں کلیدی رول ہوتا تھا، جبکہ آج کے عام شہری اور خصوصاً نوجوانوں کا ان کے بارے میں تاثر ماضی والا نہیں اور وہ بہت بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔

ہمارے ہاں آج جس طرح عام شہریوں کا علماسے وہ قلبی و روحانی تعلق نہیں رہا اس میں سب سے بڑا رول ان سیاسی جماعتوں کا ہے جنہوں نے مذہب کے نام پر سیاست کرکے علما کے کردار کو سیاسی آلودگی کا شکار کیا ہے۔

علما کے عقیدت و احترام کے امیج کو مذہب کے نام پر قائم سیاسی جماعتوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے اور انہیں متعصب بنا کر عام شہریوں سے دور کرنے میں منفی کردار ادا کیا ہے۔

ہماری سیاسی مذہبی جماعتوں کی مفاد پرستانہ پالیسیوں،قول و فعل میں تضاد ان کی سیاسی تقاریر ،شعبدہ بازیوں جھوٹ اور مکروفریب سے خود کو دوسرے عام سیاستدانوں کی طرح پیش کرکے اپنے کردار کو شدید دھچکا لگا یا ہے ۔

جنہوں نے کردار سازی کرنی تھی ان کے اپنے کردار پر انگلیاں اٹھنے لگیں تو یہ بہت بد قسمتی کا مقام ہوتا ہے ۔یہ ایک طرف جس چیز کو غلط کہہ رہے ہوتے ہیں دوسری طرف اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں، یزیدیت پر تقاریر کرتے ،سود حرام قرار دیتے، رشوت کو سور کے گوشت سے تشبیہہ دیتے، بے ایمانی کو جرم سمجھتے اور مظلوم کا ساتھ دینے کا درس دیتے ہیں، جبکہ عملی طور پر یہ لوگ ظالم ،غاصب ،کرپٹ اور آمر کو سب سے پہلے آگے بڑھ کر اہلاً و سہلاً مرحبا کہنے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتے۔سیاسی ضرورتوں کے تحت دوسروں کی دل آزاری ،بہتان تراشی اور نفرت پھیلانے والی تقاریر اب روز مرہ کا معمول بن چکا۔

پڑھے لکھے نوجوانوں کا علما سے روحانی و قلبی تعلق سیاسی و مذہبی جماعتوں نے توڑکر رکھ دیا ہے جو معاشرے کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بد ترین سانحہ ، کہ کردار سازی کا بہت جان دار انسٹیٹیوشن بے فائدہ ہو کر رہ گیا ہے اور من حیث القوم ہمارا کردار بہت کمزور ہو چکا ہے۔

سیاسی جماعتوں کو مذہب کے نام سے جوڑ کر سیاست معاشرے کے لئے ایک نقصان دہ عمل ہے۔متحدہ ہندوستان میں مسلم لیگ کی طاقت کم کرنے کے لئے مذہب کے نام پر سیاسی جماعتیں بنانا انگریز کی ضرورت تو ہوسکتی ہے مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں95 فیصد مسلمان ہوں وہاں یہ خطرناک عمل ہے جس سے علما و مدرسہ سے عام شہری اور پڑھے لکھے نوجوانوں میں فاصلہ بڑھ رہا ہے ۔

دنیا کے تمام بڑے جمہوری ممالک میں کہیں بھی آپ کو مذہب کے نام پر سیاست کا کھیل نظر نہیں آئے گا۔یہ کھیل آپ کو 95 فیصد مسلمان ملک پاکستان میں ملے گا جہاں مذہب کے نام پر سیاسی جماعتیں ایسی روائتی سیاست کر رہی ہیں کہ بعض اوقات شرمندگی ہونے لگتی ہے اور روائتی پارٹیاں زیادہ مہذب اور ایماندار لگنے لگتی ہیں اور اس کا اظہار ووٹر ووٹ ڈالتے ہوئے بھی برملا کرتا ہے۔جمہوری ملک میں عوامی رائے جانچنے کا اس سے بہتر اور کوئی عمل ابھی تک وجود میں نہیں آیا۔

مذہبی جماعتوں کے زیر اثر ہماری پارلیمینٹ نے بعض ایسے قوانین بھی لوگوں پرلاگو کروائے ہیں جن کا ریاست کو پابند کرنے کا کوئی اختیار نہیں بنتا۔

وقت آگیا ہے کہ پاکستان علما کونسل اس بات کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لے کہ عام شہری اور پڑھے لکھے نوجوانوں کا روحانی و قلبی رشتہ دوبارہ کیسے علما سے جوڑا جا سکتا ہے۔وہ محراب و منبر کو ماضی کا مقام کیسے واپس دلا سکتے ہیں۔

معاشرے کی اخلاقی تربیت میں ان سے جو کوتاہی ہو ئی ہے اس کا ازالہ کیسے کیا جاسکتا ہے اور علما کا مثبت امیج بحال کرنے کے لئے انہیں مذہب کے نام پر قائم روائتی سیاسی گروہوں سے کس طرح دورری اختیار کرنی چاہئے۔پاکستان علما کونسل کو چاہئے کہ وہ اسلام کے نام پر اور علما دین کے نام پر بننے والی پارٹیوں سے درخواست کریں کہ وہ اپنے ناموں میں ترامیم کر لیں اور اسلام اور علما کا نام اپنی روایتی سیاست سے نہ جوڑیں جس سے تعصب ختم ہو اور جو منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ان کا کچھ نہ کچھ ازالہ کیا جا سکے۔جب آپ کسی سیاسی جماعت کی حمائت کرتے ہیں یا اس کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہیں تو آپ متعصب ہو جاتے ہیں آپ کو بالواسطہ اس کی سیاسی چالوں اور مفاد پرستانہ مکر و فریب کی نا چاہتے ہوئے بھی حمائت کرنا پڑتی ہے جس سے آپ کے پیروکاروں اور وعظ سننے والوں پر آپ کی شخصیت کا سارا بھرم ختم ہوجاتا ہے۔ ہمارے ہاں صدیوں سے علما کا ایک مقام اور امیج قائم ہے کہ یہ کلمۃالحق کہنے والے لوگ ہیں۔

اسلامی سوسائٹی میں انہیں اجلے ترین لوگ سمجھا جاتا ہے ۔یہ نایاب ہیرے ہوتے ہیں معاشرے کی محترم ترین شخصیات۔۔۔معاشرے میں غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر قانونی افعال پر یہ سب سے پہلے آواز اٹھا تے ہیں لیکن جب یہی لوگ ان گروہوں کا حصہ بنے بیٹھے ہوں گے اور سیاسی مفادات کی وجہ سے چپ سادھ لیں گے، بلکہ کھل کر ساتھ بھی دیں گے تو پھر بد اعتمادی سے معاشرہ شدید اخلاقی زوال کی طرف لڑھکتا جائے گا۔

پچھلی تین چار دہائیوں سے اگر دیکھیں تو سیاست نے علما کا امیج منفی طور پر متاثر کیا ہے۔عام لوگوں اور پڑھے لکھے نوجوانوں کا علما سے روحانی و قلبی تعلق کمزور کرنے میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کا کردار شامل ہے جس سے آج پورا معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو چکا اور دہشت گردی، کرپشن، فحاشی ،بے ایمانی اور بے راہروی کی بڑھتی شرح اس بات کی علامات ہیں کہ ہمارا اخلاقی تربیت کا یہ انسٹی ٹیوشن بالکل ناکام ہوچکا اور فعال کردار ادار کرنے کے قابل نہیں رہا۔

مزید : کالم