امریکہ کے خلاف یہ کام کرنے کی ضرورت ہے

امریکہ کے خلاف یہ کام کرنے کی ضرورت ہے
امریکہ کے خلاف یہ کام کرنے کی ضرورت ہے

  



امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا کہنا ہے کہ بھارت امریکا کا فطری اتحادی ہے۔ اس کو خطے میں لیڈر بنائیں گے۔ ٹلرسن نے اس موقع پر پاکستان سمیت دوسرے ممالک کو یہ بھی باور کرایا کہ امریکا بھارتی فوج کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا خواہشمند ہے اور یہ کہ امریکہ بھارت کے ساتھ لڑاکا طیارے ایف 16 اور ایف 18 پر مذاکرات کے لیئے تیار ہے۔ امریکا بھارت کی خطے میں بالادستی کے لیئے اس کی پشت پر کھڑا ہے۔ امریکا کا یہ رویّہ خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ دے گا۔ امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کا اعتراف کرنے کے باوجود '' ڈومور'' کی یہ کہتے ہوئے ڈیمانڈ کی کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیئے کوششیں اور تیز کرے۔ امریکا نے ہمیشہ خطے کا آقا بننے کی کوشش کی ہے۔ اب کی بار اسے بھارت کی جی حضوری بھی حاصل ہے۔ پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت نے ٹلرسن سے ملاقات میں خطے اور پاکستان کی بقا و سالمیت کے حوالے سے کھل کر اپنا موقف بیان کیا۔ حکومت پاکستان نے قومی خودداری پر مبنی طرز عمل اختیار کیا اور امریکی وزیر خارجہ کو '' ڈومور'' کہنے پر ''نومور'' کا جواب سننا پڑا۔ پاکستان کی طرف سے '' نومور'' کا جواب بیس کروڑ پاکستانی عوام کے دل کی آواز ہے۔ امریکہ کو جب جب اپنے مفادات کے تحفظ کے لیئے پاکستان کی ضرورت پڑی ہے، پاکستان نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ لیکن جیسے ہی امریکی مفادات کی تکمیل ہوئی، تعلقات سردمہری کا شکار ہو گئے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنا مالی و جانی نقصان پاکستان نے اٹھایا ہے کسی دوسرے ملک نے نہیں اٹھایا۔ پاکستان کم و بیش ستر ہزار سول، ملٹری، پولیس اور دیگر جانیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربان کر چکا ہے۔ مالی نقصان کا تخمینہ اسّی ارب کے قریب لگایا جاتا ہے۔ مگر امریکا کا ڈومور کا مطالبہ رکنے میں نہیں آ رہا۔ ایک طرف ٹلرسن کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے تو دوسری جانب وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ شاید ٹلرسن نے وہ ثبوت دیکھے نہیں جو پاکستان نے امریکا اور اقوام متحدہ کو پیش کیئے۔ جن میں بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے اور پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔

2011 میں امریکی وزیر دفاع سینیٹر چک ہیگل نے ایک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ بھارت سالہا سال سے پاکستان کے خلاف مسائل پیدا کرنے کے لیئے مالی وسائل فراہم کر رہا ہے۔ بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف ایک محاذ کے طور پر استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔ بھارت نے پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگیوں سے فائدہ اٹھایا اور پاکستان کے لیئے مسائل پیدا کیئے‘‘۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پاکستان اپنی معیشت کی زبوں حالی کے باوجود اپنی مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیئے مزید 56 ارب روپے کا بوجھ اس وجہ سے برداشت کر رہا ہے تاکہ اس کی سرحد محفوظ ہو جائے۔ اس صورتحال میں امریکا کو پاکستان کی مدد کرنی چاہیئے نا کہ حوصلہ شکنی۔ پاکستان افغان سرحد پر باڑ لگانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو سرحد پار سے آ کر دہشت گردی کرنے والوں کا راستہ روکا جا سکے گا۔ امریکا کا پاکستان کے ساتھ لب و لہجہ وہ نہیں رہا جو ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے امریکا کو واضح جواب دیا جا رہا ہے کہ اب ہم نے بہت ڈومور کر لیا۔ اب نومور۔ اب آپ اپنا کردار ادا کریں تاکہ دنیا دیکھ سکے کہ آپ افغانستان میں امن لانے کے لیئے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس وقت پاکستانی وزیر خارجہ دنیا کے سامنے پاکستان کا موقف بھرپور انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ امریکا کبھی حقانی گروپ کے خلاف کارروائی اور کبھی دہشت گردوں کو پناہ دینے کا بہانہ بناتا ہے مگر اصل وجہ ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک جیسے منصوبے ہیں جو امریکا اور بھارت سے ہضم نہیں ہو رہے۔ اگر ہم مضبوطی سے قدم جمائے رہیں تو دنیا کو احساس ہو گا کہ پاکستان اس خطے میں امن کے لیئے ضروری ہے۔ پاکستان کی وجہ سے بدامنی نہیں ہو رہی۔ پاکستان کا موقف ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں۔ بلکہ امریکہ کا فطری حلیف بھارت پاکستانی سرحدوں کے قریب افغان علاقوں میں تین درجن کے قریب قونصل خانوں کے ذریعے دہشت گردوں کو تربیت فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ اس حوالے سے امریکہ پاکستان کی بجائے بھارت کو افغانستان میں اہم کردار دینا چاہتا ہے۔ جو کہ پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ امریکہ بھارت کو پاکستان پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے لیئے بھارتی بالادستی تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکہ اور بھارت کی اس اجارہ داری کی خواہش سے خطے میں پاکستان، چین، ترکی، روس اور ایران پر مشتمل دفاعی بلاک کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ