اعظم سواتی کچی آباد ی خالی کروانا چاہتے تھے جس پر ان کے ملازمین نے محنت کش کے گھر میں گھس کر حملہ کیا:نجی ٹی وی کی رپورٹ میں انکشا ف

اعظم سواتی کچی آباد ی خالی کروانا چاہتے تھے جس پر ان کے ملازمین نے محنت کش کے ...
اعظم سواتی کچی آباد ی خالی کروانا چاہتے تھے جس پر ان کے ملازمین نے محنت کش کے گھر میں گھس کر حملہ کیا:نجی ٹی وی کی رپورٹ میں انکشا ف

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اعظم سواتی اپنے فارم ہاﺅس کے پیچھے واقع کچی آباد ی خالی کروانا چاہتے تھے جس کہ لئے ان کے ملازمین نے محنت کش نیاز خان کے گھر میں داخل ہوکر حملہ کیا ، محنت کش کے بچوں اوربیوی نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی ، اعظم سواتی کے ساتھ ساتھ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے بھی اسلام آباد پولیس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ۔

جیونیوز کے مطابق اعظم سواتی اپنے فارم ہاﺅس کے پیچھے قائم کچی آباد ی خالی کروانا چاہتے تھے اور اس کے لئے اعظم سواتی نے اس کے لئے آئی جی اسلام آباد کو درخواست دی تھی اور آئی جی اسلام آباد اس معاملے کوقانون طور پر حل کرنا چاہتے تھے ۔ آئی جی اسلام آباد نے ا س حوالے سے شہزاد ٹاﺅن میں اس علاقے کا دورہ بھی کیا تھا ۔ اس معاملے میں اعظم سواتی اکیلئے شامل نہیں بلکہ اس میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی بھی شامل ہیں ، وہ اعظم سواتی کے گھر پر آئے تھے اور اس موقع پر پولیس پر دباﺅ ڈالنے کی بھی کوشش کی تھی ۔ اعظم سواتی کا ملزم نیاز خان پندرہ ہزار روپے پر ملازمت کرتا ہے اور اعظم سواتی کے ملازم نیاز خان کے گھر پر حملہ کرنے آئے تھے اور ان کے گھر میں آکر خواتین اور بچوں پر حملہ کیا گیا جس پرنیاز خان کی بیوی اور نوبچوں اپنے دفاع میں ان پر حملہ کیا جس میں اعظم سواتی کے ملازمین زخمی ہوگئے ۔  اس حوالے سے پولیس کی چین آف کمانڈ کونظر انداز کرکے ڈائریکٹ آئی جی پنجاب سے رابطہ کرکے دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی گئی اور وزیر اعظم عمران خان کے سامنے غلط منظر کشی کی گئی۔ اب اس کیس میں نیاز خان کی دوبیٹیوں اور بیوی کوبھی جوڈیشل کردیاگیا ہے ۔

مزید : قومی /جرم و انصاف /اہم خبریں