نئے پاکستان کی شان بڑھانے کیلئے اردو کو فوری طور پر سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے

نئے پاکستان کی شان بڑھانے کیلئے اردو کو فوری طور پر سرکاری زبان کا درجہ دیا ...

نورپور نورنگا (نامہ نگار ) اردو قومی زبان ہونے کے باوجود ملک میں اپنی حیثیت نہ منوا سکی ،سپریم کورٹ کے دئیے گئے فیصلے کو تین سال مکمل ہوگئے ،وفاقی و صوبائی حکومتیں اردو کو دفاتر میں سرکاری زبان کے طور پر رائج کر نے میں ناکام تفصیل کے مطابق آج سے تین سال قبل سپریم کورٹ پاکستان نے اردو زبان کے حق میں فیصلہ دیا کہ اس کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے وفاقی و صوبائی حکومتیں تین ماہ کے اندر تمام اداروں میں سرکاری زبان کے طور پر (بقیہ نمبر46صفحہ7پر )

نافذ کریں تاحال وفاقی و صوبائی حکومتیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس ہیں روز نامہ پاکستان نے اردو زبان کے لیے سروے کیا مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے اظہار خیال کیا پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور امیدوار تحصیل ناظم ملک احمد عثمان چنڑ نے کہا کہ 8ستمبر 2015کو عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا تھا آئین کے مطابق اردو کو دفاتر میں سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا جائے مگر تین سال مکمل ہوچکے ہیں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلہ پر کہیں عمل ہوتا نظر نہیں آرہا ،حتٰی کہ خود عدالتیں بھی اپنے ہی کیے گے فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے قاصر ہیں ،آج بھی عدالتوں میں انگریزی زبان لکھی اور بولی جا رہی ہے تما م تر فیصلے انگلش میں لکھے جاتے ہیں۔ ماہر قانون خواجہ زبیر عاشق ایڈوکیٹ نے کہا آئین میں لکھا ہے اردو ہماری قومی زبان ہے اسے دفتری زبان بھی بنایا جائے آرٹیکل 251میں حکومت کو 15سال کی مہلت دی گئی تھی کہ مقررہ مدت میں سرکاری دفاتر کی زبان اردو کی جائے،1983 ؁ء میں یہ مدت ختم ہوچکی ہے مگر اس حوالے سے کوئی بھی حکومت کام کرنے کو تیار نہیں ۔ خواجہ محمد حسن گل نے کہا اگر اردو کو سرکاری زبان دینے کے فیصلے پر فوری عمل درآمد کیا جائے تو یہ موجودہ حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہوگا اس سے تما م تر سرکاری و غیر سرکاری ریکارڈ تک عام آدمی کو رسائی حاصل ہوگی ،2013کے انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ ن نے نیشنل لینگویج کمیشن بنانے کا وعدہ کیا تھا مگر اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں عمل درآمد کرانے کی توفیق نہ ہوئی انقلابی سرائیکی شاعردیوانہ بلوچ نے کہا کہ اردو ایک وسیع زبان ہے جو کافی ممالک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ہمارے ملک کی قومی زبان ہونے کے ناطے سپریم کورٹ نے ایک شاندار فیصلہ دیا جو سیاست کی نظر ہوگیا زبان کو زندہ رکھنے والی قومیں ہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں ،زبان کو زندہ رکھنے کا طریقہ بھی یہی ہے اس کو درس و نصاب کے ساتھ ساتھ قومی اداروں میں رائج کیا جائے ،اردو زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے کر باقی تمام مقامی زبانوں کے ساتھ بھی متوازی سلوک کیا جائے ۔معروف علمی شخصیت ملک محمد ریاض نے کہا جہاں انگریزی بولنے اور لکھنے کی ضروت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن دفاتر میں اردو زبان ہی رائج کی جائے حکومتی معاملات چلانے کے لیے انگریزی زبان کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،کیوں کہ اسے عوام کی اکثریت نہیں سمجھتی بلکہ اس سے ملک میں ایک طبقاتی تفریق پیدا ہورہی ہے جو لوگ ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولتے یا لکھتے ہیں وہ بھی احساس کمتری کا شکار ہیں جو طبقہ اس زبان کو نہیں سمجھتا وہ بھی احساس کمتری کے مرض میں مبتلاء ہے سروے میں موجود تمام شرکاء نے موجودہ حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اردو زبان کو فی الفور سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے تاکہ نئے پاکستان کی منفرد انداز میں شناخت ہو سکے۔

اردو

مزید : ملتان صفحہ آخر