سندھ میں گورنر راج۔۔۔صدر مملکت کا خوش آئند بیان

سندھ میں گورنر راج۔۔۔صدر مملکت کا خوش آئند بیان

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سندھ میں گورنر راج کی خبروں میں صداقت نہیں۔ صوبے میں آصف علی زرداری سے مل کر بہتری لانا چاہتے ہیں۔ سندھ کی ترقی کے لئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے۔ صدر عارف علوی نے ترکی روانہ ہونے سے پہلے عام مسافروں کی طرح قطار میں لگ کر امیگریشن کا عمل مکمل کروایا، وہ شلوار قمیض اور واسکٹ میں ملبوس تھے، استنبول پہنچنے پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا وہ ترکی میں جدید ترین ایئرپورٹ کے افتتاح کی تقریب میں بھی شریک ہوں گے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کہا ہے کہ سندھ میں گورنر راج نہیں لگ رہا۔ اس سے پہلے آصف علی زرداری بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ حکومت گرانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، تاہم اے پی سی کے حوالے سے بعض وزراء کو خاصی پریشانی لاحق ہے اور وہ جب اے پی سی کے انعقاد پر نکتہ چینی کرتے ہیں تو آصف علی زرداری کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کو بھی رگیدنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں اس ماحول میں اچھا ہوا صدر مملکت نے سندھ میں گورنر راج کے حوالے سے بروقت وضاحت کر دی۔

اس وقت وفاق اور دو صوبوں میں تو تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں، پنجاب میں مسلم لیگ (ق) بھی حکومت کے ساتھ شریکِ اقتدار ہے، اسی طرح وفاق میں بھی سات آٹھ جماعتیں تحریک انصاف کی حمایت میں شریک ہیں جن میں ایم کیو ایم (پ) سب سے بڑی جماعت ہے جس کے وفاق میں دو اہم وزیر بھی ہیں، بلوچستان میں وزیراعلیٰ جام کمال کا تعلق اگرچہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ ہے لیکن صوبائی حکومت میں تحریک انصاف بھی شامل ہے۔ سندھ واحد صوبہ ہے جس کی صوبائی حکومت میں وفاق کی حکمران جماعت کا کوئی عمل دخل نہیں۔ پیپلزپارٹی نے 2008ء کے بعد اس صوبے میں مسلسل تیسری مرتبہ حکومت سازی کی ہے البتہ اتنا ہے کہ اب کی بار صوبے کے قائد حزب اختلاف کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ ان حالات میں جب پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے گرد گھیرا تنگ ہونے کی خبریں اڑتی ہیں اور ان کے بعض دوست نیب یا ایف آئی اے میں زیر تفتیش ہیں یا بعض ایسے بینک اکاؤنٹس سامنے آتے ہیں جن کے بارے میں ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈر وہ نہیں ہیں جن کے نام پر اکاؤنٹس ہیں ان اکاؤنٹس کو منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یہ سب معاملات مل ملا کر ان افواہوں کا باعث بنتے ہیں کہ سندھ میں گورنر راج لگایا جا رہا ہے۔ سندھ کی حکومت کے بارے میں مخالفین توجو بھی کہتے رہیں لیکن جس پارٹی کی صوبے میں حکومت ہے اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا خیال ہے کہ سندھ حکومت نے محدود وسائل میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

اب صدر مملکت اگر یہ کہتے ہیں کہ زرداری کے ساتھ مل کر سندھ میں بہتری لائیں گے تو یہ ان کی جانب سے ایک مثبت سوچ کا اظہار ہے لیکن ضروری ہے کہ وزیراعظم سمیت وزراء بھی اسی ذہن سے سوچیں اور اپنے شعلہ بار بیانات کا سلسلہ روک دیں ،روک نہیں سکتے تو سوچ کر بولا کریں۔ اگر حکومت پچاس کے قریب رہنماؤں کو گرفتارکرنا چاہتی ہے یا اس کے بعض وزیروں کے بقول نوازشریف دوسرے ریفرنسوں میں بھی سو فیصد سزا پانے والے ہیں تواس کا ڈھنڈورا پیٹنے کی ضرورت نہیں جب گرفتاری کی نوبت آئے گی ، ساری دنیا دیکھ لے گی اور جن کو سزا ہوگی وہ بھگت بھی لیں گے، جہاں تک اے پی سی کا تعلق ہے حزب اختلاف کی جماعتیں ایسی سرگرمیاں ہمیشہ سے کرتی آئی ہیں آج کی حزب اختلاف بھی اگر ایسا کر رہی ہے تو کچھ غلط نہیں کر رہی۔ تحریک انصاف کے رہنما اور آج کے وزرائے کرام جب حزب مخالف میں تھے اور کبھی دھرنے اور کبھی اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کر رہے تھے اگر وہ ان کا جمہوری حق تھا تو آج کی چند اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو کر ایک کانفرنس بھی نہیں کر سکتیں؟ ابھی تو ان جماعتوں نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔ آئندہ کسی وقت دھرنوں اور لاک ڈاؤنوں کی نوبت آ گئی تو حکومت کس منہ سے ان کی مذمت کرے گی کیونکہ یہ وہ ’’گناہ‘‘ ہے جو تحریک انصاف بڑے دھڑلے سے نہ صرف خود کرتی رہی ہے بلکہ اس پر فخر بھی کرتی رہی ہے آج بھی وزیراعظم عمران خان کئی بارکہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں دھرنا دیں کنٹینر حکومت دے گی اور شرکاء کے لئے بریانی کا اہتمام بھی کرے گی۔ اگر اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کی یہ پیش کش قبول کرتے ہوئے واقعی یہ بریانی کھانے پر آمادہ ہو گئیں تو پھر نہ جانے حکومت کا موقف کیا ہو؟

صدر عارف علوی اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح طورپر سندھ میں گورنر راج کے امکان کی تردید کرکے جو مثبت پیغام دیا ہے،سندھ کی حکومت اور پیپلزپارٹی کوبھی اس کے جواب میں خیرسگالی کا مظاہرہ کرکے دستِ تعاون دراز کرنا چاہیے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہیں لیکن مخالف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ رکھنی چاہیے کیا معلوم کس وقت کس جماعت کے تعاون کی ضرورت پڑ جائے۔ اس ضرورت کو وزیراعظم عمران خان سے بہتر کون جان سکتا ہے جنہیں گزرتے وقت نے ان رہنماؤں کو اپنے ساتھ شریک حکومت کرنے پر مجبور کر دیا ہے جنہیں وہ ’’پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو‘‘ کہتے نہیں تھکتے تھے، آج وہ اس ایم کیو ایم کے وزیروں کو بھی اپنی کابینہ میں شامل کرنے پر مجبور ہیں ۔جس کو وہ ایک زمانے میں قاتل کہتے تھے اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ کرنے کے لئے لندن تک چلے گئے تھے۔

سیاسی مفاہمت حکومت اور حزب اختلاف ہی کی ضرورت نہیں اپوزیشن جماعتوں کو بھی یہ بات دھیان میں رکھنی چاہیے آصف علی زرداری تو ویسے بھی سیاسی مفاہمت کے بڑے چیمپئن ہونے کے دعویدار رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی حکومت کے دور میں اپنے سیاسی مخالفین کو حکومت میں شامل کیا اور جب یہ مخالفین حکومت سے ناراض ہو جاتے تو انہیں منانے میں ہمیشہ پہل کی، اس لئے توقع ہے کہ سندھ حکومت صدر عارف علوی کے جذبہ خیرسگالی کو آگے بڑھائے گی اور وفاقی حکومت کی جانب سے سیاسی رہنماؤں کو جیلوں سے ڈرانے کا رویہ ترک کردیا جائیگا، عدالتیں اگرکسی سیاسی رہنما کو سزا دیں گی تو اس پر عمل حکومت اور انتظامیہ کا فرض ہو گا لیکن ہر روز بیان کے ذریعے اشتعال پھیلانے کا رویہ کسی صورت لائق تحسین نہیں ۔ آئین میں اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں، ان کی تردید بھی کی جا رہی ہے لیکن اگر واقعتا کسی حلقے کی یہ خواہش ہے کہ یہ ترمیم ختم ہو جائے تو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جائے اور ترمیم کے لئے وہی طریقہ اختیار کیا جائے جس طریقے سے یہ ترمیم دوتہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہوئی تھی۔ خواہ مخواہ غلط فہمیاں اور رنجشیں پیدا کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔

مزید : رائے /اداریہ