نئی ٹیکنالوجی کے پردے میں پرانا اور آزمودہ کام

نئی ٹیکنالوجی کے پردے میں پرانا اور آزمودہ کام

وزیر اعظم عمران خان نے ایوان وزیر اعظم میں ایک مرکزی شکائتی مرکز کا افتتاح کر دیا ہے۔ یہ جدید الیکٹرونک نظام والا دفتر ہے جس میں انٹرنیٹ کے ذریعے شکایات بھجوائی جا سکیں گی۔ وزیر اعظم عمران خان نے اسے ایک بڑا کام اور احتساب کا اعلیٰ عمل بھی قرار دیا ان کے بقول اس نظام کے تحت وہ خود ان کے وزراء، سرکاری محکمے، ادارے اور تمام لوگ احتساب کی زد میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے اس شکایات مرکز کی خود نگرانی کرنے کو کہا ہے اور زور دے کر کہا ہے کہ اب سب کا احتساب ہوگا۔ وزیر اعظم کمپیوٹر سافٹ ویئر (نئی بنائی ویب سائٹ) پر بہت بھروسہ کئے ہوئے ہیں تاہم ان کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس ملک کے 22 کروڑ باشندے کس کس عذاب سے دو چار ہیں۔ شکایات کی تعداد کا کچھ اندازہ اس امر سے لگا لیں کہ براہ راست ٹیلی کاسٹ ہونے والی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی کہ دس ہزار افراد ’’لاگ اِن‘‘ بھی ہو چکے تھے، یوں آج کے اس دور میں جلد ہی ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں شکایات پوسٹ ہو جائیں گی اور پھر ان کو چھانٹ کر الگ الگ کرکے متعلقہ اداروں سے معلومات یا جواب طلبی کا مرحلہ آئے گا، یہ دائرہ بہت پھیلے گا اور یہ مرکز بڑھ کر وسیع ہوتا جائے گا۔ خود عمران خان کہتے ہیں۔ ’’میں سارے پاکستان کا چیف ایگزیکٹو ہوں‘‘ تو ان کو وہ مسائل بھی حل کرانا پڑیں گے جو صوبائی حکومتوں کے دائرہ کار اور اختیار کے تحت آئے ہوں گے۔ اس راہ میں 18 ویں ترمیم بھی حائل ہو گی اگرچہ مجموعی طور پر صوبے بھی شکایت کے ازالے سے پرہیز نہیں کریں گے۔دنیا بھر میں یہ ’’ای کمپلینٹ‘‘ کا نظام رائج ہے اور اسی سے متاثر ہو کر شاید یہاں بھی شروع کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس سے ملتے جلتے سیل ماضی میں کچھ زیادہ ڈلیور نہیں کر سکے پھر بھی ہم اس کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ اس راہ میں جو مشکلات اور مسائل آئیں گے ان کو خندہ پیشانی سے حل کر لیا جائے گا، دوسری صورت میں مایوسی ہوئی تو نقصان ہوگا۔ اس مرکزی شکائتی مرکز کا دائرہ کار وسیع ہے بہتر ہوگا کہ صوبائی سطح پر بھی ایسا انتظام کر کے مرکز بنائے اور شروع کئے جائیں کہ اسی طرح 22 کروڑ کی آبادی والے ملک کے باسی کچھ ریلیف حاصل کر سکیں گے۔ تا حال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ صوبائی اختیار میں آنے والے واقعات یا حادثات کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا، صوبوں کو اعتماد میں لیا گیا یا نہیں۔؟بہتر عمل تو یہی ہے کہ ایسے مراکز صوبوں میں بھی قائم کئے جائیں کیونکہ اکثریتی شکائتوں کا تعلق صوبوں ہی سے ہوگا۔ ہم وزیر اعظم کی توقعات سے ہی اپنی دعاؤں کے اثر کو جوڑتے اور دعا گو ہیں کہ ان کا یہ فیصلہ مثبت اور بہترین ثابت ہو۔

مزید : رائے /اداریہ