شاہ رخ جتوئی اور نمر مجید کی خام خیالی

شاہ رخ جتوئی اور نمر مجید کی خام خیالی
شاہ رخ جتوئی اور نمر مجید کی خام خیالی

  

دانا بزرگ کہتے ہیں کہ انسان کو ہر وقت خدا کی پناہ اور رحم مانگنا چاہئے۔ انسانوں کے ذہنوں میں جب یہ خناس پیدا ہوجائے کہ ان کے پاس دولت ہے، تعلقات ہیں ، اختیارات ہیں، وہ قانون سے بلند ہیں، ان سے کوئی پوچھ نہیں ہو سکتی۔ یہ خناس انسان کو لے بیٹھتا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملیر جیل کا دورہ کرکے قتل کیس کے مجرم شاہ رخ جتوئی کو سی کلاس میں ملنے والی آسائشوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ڈیتھ سیل میں منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ حسن سہتو کو معطل کر دیا اور آئی جی جیل سے رپورٹ طلب کرلی۔ اس کے ساتھ ہی شاہ رخ جتوئی کو اس بیرک میں بھیجنے کا حکم دیا جہاں قتل کے سزا یافتہ مجرموں کو رکھا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے جیل حکام سے استفسار کیا کہ قتل کیس کے ملزم کو جیل میں اتنی سہولت کس بنا پر فراہم کی جا رہی ہے۔سپریم کورٹ شاہ رخ جتوئی کی نظرثانی اپیل خارج کر چکی ہے۔

یہ ایک واقعہ ہے۔ دوسرا بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے اہم ہے۔ ملیر جیل میں منی لانڈرنگ کیس کے اہم ملزم طحہ رضا، انور مجید اور حسین لوائی بھی قید ہیں۔ خواجہ انور مجید اومنی گروپ کے کرتا دھرتا کے دوسرے بیٹے نمر مجید سپریم کورٹ آئے تھے جہاں سے انہیں ایف آئی اے ٹیم نے حراست میں لے لیا۔ نمر مجید منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت پر تھے اور انہیں بیان ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ نمر کو ایک روز رکھنے کے بعد ایف آئی اے نے رہا کر دیا۔ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ اومنی گروپ کی ملوں سے بہت بڑی مالیت کی شکر غائب کر دی گئی ہے۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ متعلقہ افسران کہاں تھے۔ ساتھ ہی ساتھ چیف جسٹس نے شوگر ملز سے چینی غائب ہونے پر انور مجید سے جیل میں تحقیقات کا حکم دے دیا۔ انور مجید کی جیل میں انہیں بی کلاس دینے کی درخواست بھی رد کر دی گئی۔ یہ بھی فیصلہ سنایا کہ منی لانڈرنگ کے معاملے پر وہ خود تمام معاملات دیکھیں گے اور بینکنگ کورٹ کوئی فیصلہ جاری نہیں کرے گی۔

یہ دونوں خبریں کئی لحاظ سے اہم ہیں اور عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان میں انتظامی عہدوں پر فائز افسران مملکت سے کہیں زیادہ وفاداری افراد سے نبھاتے ہیں۔ جیلوں میں تو جو کچھ ہو رہا ہے ، اس پر خود صوبائی حکومت کو اعلیٰ سظح کی تحقیقات کرانا چاہئے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ حکومت کے منظور نظر افراد قانون اور ضابطوں سے بالا تر بنا دئے جاتے ہیں۔ قانون کی کتاب اس وقت بند کر دی جاتی ہے جب افسران کی مٹھی گرم ہو جاتی ہے۔ شاہ رخ جتوئی قتل کے ایک ایسے مقدمے میں پھنسے ہیں جس میں انہوں نے انتقام لینے کے لئے نہتے شخص پر اس کا پیچھا کر کے کئی گولیاں ماری تھیں ۔ وہ شخص شاہ زیب تھے جن کی آخری سانس تک شاہ رخ گولی چلاتے رہے تھے ۔ وہ شخص ان کا پڑوسی تھا۔ ایک پولس افسر کا بیٹا تھا۔ اس کی بہن کی شادی کے بعد ولیمہ کی تقریب جاری تھی ۔25دسمبر 2012 کی تاریخ تھی۔ واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا تھا کہ شاہ زیب کی بہن کسی کام سے اپنے گھر آئی تو شاہ رخ جتوئی کے ایک ملازم غلام مرتضی لاشاری نے اسے چھیڑا۔ بہن نے واپس جاکر بھائی سے شکایت کردی۔

شاہ زیب نے ملازم کو سخت سست کہا اور ایک تھپڑ رسید کردیا۔ شاہ رخ طیش میں آگئے۔ انہوں نے شاہ زیب کا جو واپس ولیمہ کی تقریب میں جارہے تھے ، پیچھا کیا اور راستہ میں گولیاں مار دیں۔ شاہ زیب زخمی حالت میں اپنی گاڑی سے اترے ، زمین پر گر گئے ، وہ غالبا آخری سانسیں لے رہے تھے ۔ شاہ رخ کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا ، وہ زخمی شاہ زیب کے قریب گئے اور ان پر مزید گولیاں چلا دیں۔ شاہ زیب کے نوجوان طلباء ساتھیوں نے قاتل کی گرفتاری کے لئے مظاہروں کے علاوہ سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور پولیس کا ناک میں دم کردیا۔ پولیس کسی نہ کسی وجہ سے شاہ رخ کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی تھی اور ان کے والد سکندر جتوئی جو ایک بڑی ٹھیکیدار کمپنی کے مالک ہیں، بیٹے کو کسی قیمت پر ملک سے فرار کرانا چاہتے تھے لیکن معاملہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ عین دبئی فرار کے وقت وہ گرفتار کر لئے گئے۔

شاہ زیب کے والد اورنگزیب پولس افسر ڈی ایس پی ہونے کے باوجود اپنے اکلوتے بچے کے قتل کا مقدمہ درج کرانے میں مشکلات کا شکار رہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ان پر دباؤ بڑھایا گیا اور راضی نامہ کرنے کی کوششوں کی ابتدا ہوئی۔ ایک ہی مطالبہ تھا کہ مقدمہ کی پیروی نہیں کریں اور قصاص لے کر راضی نامہ کرلیں۔ بیٹیوں کا باپ اور بیٹا کھو دینے کے بعد وہ کسی اور نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتے تھے ، انہوں نے راضی نامہ کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کر دیا۔ مقدمہ کی ایک سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ مقتول کے ورثاء نے قاتل کو اللہ کے نام پر معاف کردیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے شاہ رخ اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کا حکم دے دیا تھا ۔ یکم فروری 2018 کو سپریم کورٹ نے کراچی کے شہریوں کے ایک گروپ کی اپیل کی سماعت پر فیصلہ تو نہیں دیا البتہ از خود نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا کہ مقدمہ کو دوبارہ چلایا جائے۔ سپریم کورٹ نے شاہ رخ جتوئی کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کر کے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو بحال رکھا تھا۔

شاہ رخ کے اربوں پتی والد سکندر جتوئی اپنے بیٹے کو ہر قیمت پر موت کی سزا سے بچانے کے لئے سرگرم تھے اور شاہ زیب کے والد اورنگزیب اپنی بیٹیوں کے مستقبل سے خوف زدہ تھے۔ قصاص کے بارے میں خبریں آئی تھیں کہ اورنگزیب نے بھاری رقم لے لی تھی لیکن انہوں نے جو حلف نامہ عدالت میں جمع کرایا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ وہ اللہ کے نام پر شاہ رخ جتوئی اور ان کے ساتھیوں کو معاف کرتے ہیں۔ لیکن وکلاء کی کوششوں کے باوجود معاملہ سلجھنے کی بجائے الجھتا گیا۔ جس کا اختتام اس طرح ہوا کہ شاہ رخ جتوئی جو جیل میں شہزادوں کی طرح رہ رہے تھے کیوں کہ وکلاء اور جیل حکام ان کے والد کے پیسے پر ناچ رہے تھے ۔ انہیں وہ تما م سہولتیں حاصل تھیں جو عام طور پر غیر دولت مند افراد کو کبھی حاصل نہیں ہوتیں۔ چیف جسٹس کے جیل کے اچانک دورے نے انہیں کال کوٹھری میں پہنچا دیا۔

دوسرا معاملہ نمر مجید کی گرفتاری کا ہے۔ خواجہ انور مجید کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ پاکستان واپس جاکر اپنے آپ کو ایک ایسے امتحان سے دوچار کر رہے ہیں ، جس سے جان آسانی سے چھوٹنے کی دور دور تک امید نہیں ہے۔ ایک بیٹا عبدالغنی پہلے ہی ان کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا ، دوسرے نے ضمانت کرائی ہوئی تھی۔ نمر سے ایک دن تفتیش کر کے انہیں رہا کر دیا گیا۔ والد کے ساتھ ساتھ بیٹوں پر بھی منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت مقدمات ہیں ۔ اایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کیا تو کچھ عرصے بعد ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ تو زنبیل عمر عیار ثابت ہوئی۔ جس جس طرح زنبیل کی تلاشی ہوتی رہی ، ایف آئی اے اور سپریم کورٹ کی بنائی گئی جے آئی ٹی کی حیرتوں میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ اب تک تو جیسا عدالت کو بتایا گیا ہے ، سینکڑوں ارب روپے کی منی لانڈنگ ہو چکی ہے۔ اس مقدمہ کی انتہاء بڑی ہی بھیانک ثابت ہونے کی توقع ہے۔ خواجہ انور مجید کی خام خیالی تھی کہ وہ گرفت سے محفوظ رہ سکیں گے۔ پاکستان میں موجودہ دور کے دولت مندوں کو یہ ہی خیال رہتا ہے کہ وہ قانون سے بالا تر ہیں اور ان کی گرفت ممکن نہیں ہوگی۔

مزید : رائے /کالم