معاشرتی ناہمواریاں اوربے ترتیب معاشرہ

معاشرتی ناہمواریاں اوربے ترتیب معاشرہ
معاشرتی ناہمواریاں اوربے ترتیب معاشرہ

  

جس معاشرے میں پہلے ہی دن سے کسی بھی سطح پر توازن قائم نہ کیا گیا ہو، معاشرے کے ہر میدان میں اُونچ نیچ اور ناہمواری ہو وہاں مشکلات کیوں کر ختم ہو سکتی ہیں؟ پاکستان میں زرعی زمین کی کوئی پالیسی ہے نہ زرعی پیداوار کی کوئی منصوبہ بندی ہے۔ کچھ لوگ ہزاروں ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں تو کروڑوں لوگ بے زمین ہیں، جن کے پاس ہزاروں ایکڑ ہیں۔ ان کو یہ ضرورت نہیں کہ ساری زمین آباد ہو یا پیداوار میں اضافہ کیا جائے،کیونکہ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کچھ زمین آباد ہو تو کافی ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کے پاس بہت تھوڑی زمین ہے۔ انہوں نے زمین داری ترک کر رکھی ہے۔ وہ زمین کو آباد کرنے یا اس کی پیداوار بڑھانے کی بجائے بیرون مُلک جا کر کام کرنے میں اپنی بہتری سمجھتے ہیں۔ اس طرح ملک میں بہت زیادہ زمین غیر آباد ہونے کی وجہ سے قومی پیدوار میں اپنا حصہ ڈالنے سے قاصر ہے اور ہم اپنی زرعی اجناس اور خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوسرے ممالک کے محتاج بھی ہیں اور اپنا قیمتی زرمبادلہ ان ممالک کو منتقل کرنے پر مجبور بھی۔ اسی طرح زرعی پیداوار کی منصوبہ بندی نہ ہونیکے سبب ہماری زرعی اجناس پھلوں و سبزیوں کا بڑا حصہ یا تو ضائع ہو جاتا ہے یا اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ مثال کے طور پر کبھی آلووں کی اتنی پیدوار ہو جاتی ہے جسے سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے، تو کبھی پیاز کی کمی کی وجہ سے ہم بھارت سے درآمد پر مجبورہو جاتے ہیں۔

موسمی پھلوں کی یہ حالت ہے کہ جس سال کسی پھل کی پیداوار اچھی ہو تو اس کی قیمت بہت گر جاتی ہے، کیونکہ پاکستان میں پھلوں کو سٹور کرنے کے انتظامات بہت قلیل ہیں، حالانکہ پاکستان کے موسمی پھلوں کا دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ پاکستان کے خربوزے ہوں یا آم، تربوز ہوں یا ناشپاتی، امرود ہوں یا کنو انتہائی ذائقے دار اور خوشبو بھی نرالی۔ اب آئیے ذرا اپنے بازاروں اور مارکیٹوں کی طرف ہمارے بازار بھی کسی منصوبہ بندی سے بنائے گئے ہیں نہ دکانوں کی کوئی ترتیب ہے۔ کسی بھی شہر میں دیکھ سکتے ہیں کہ کریانے کی دکان کے ساتھ سبزی کی دکان ہے تو آگے گاڑیوں کو پنکچر لگانے والے کا کارخانہ ہے۔ ایک طرف بیکری یا ریسٹورنٹ ہے تو ساتھ آگے ورکشاپ ہے۔ جہاں گاڑیاں مرمت کی جاتی ہیں، جہاں جس کا جو جی چاہتا ہے کر لیتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو، جس مُلک کے اداروں کو اپنے آئینی اور قانونی اختیارات کا کچھ پتہ ہو نہ ذمہ داری کا احساس تو وہاں باقی معاملات میں توازن کیسے ہو گا؟ اگر مُلک میں انصاف کی بات کریں تو اس میں بھی توازن نہیں ہے۔

آج کل احتساب کا دور دورہ ہے، لیکن اس میں بھی سخت ناہمواری ہے۔ سارا احتساب صرف شریف فیملی کے گرد گھوم رہا ہے،جبکہ مُلک کے بڑوں میں شاید ہی کوئی ہو گا، جس نے قومی دولت کی گنگا میں ہاتھ نہ دھوئے ہوں گے۔

ہماری عدالتی تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے تو سوائے ندامت کے کچھ نظر نہیں آتا۔ کہیں جسٹس منیر کا نظریہ ضرورت ہے تو کہیں سجاد شاہ صاحب کی حکومت سے لڑائی۔ کہیں ڈوگر صاحب کی بے بسی ہے تو کہیں افتخار چودھری صاحب کی من مانی طاقت آج تک کسی چیف جسٹس صاحب نے عدالتی نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی ہے نہ عوام کو فوری اور سستا انصاف دینے کی کوئی سعی ہوئی ہے۔ موجودہ چیف جسٹس صاحب کا دعوی ہے کہ وہ عوام کو انصاف دلا کر اور مُلک سے کرپشن کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ اس خاکسار کی چیف جسٹس صاحب سے چند گزارشات ہیں۔ جن پر عمل کرنے سے جناب کی اپنی خواہشات پوری ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ اپنے ماتحت عدالتوں کے نظام کو ٹھیک کر دیں تو۔ پھر کسی چیف جسٹس صاحب کو ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور جیلوں میں چھاپے مارنے کی ضرورت رہے گی نہ ازخود نوٹس لینے کی۔

ماتحت عدلیہ کی کارکردگی کو بہتربنانے کے لئے کچھ عملی اقدامات کریں عدالتوں میں پڑے18 لاکھ زیر التواء مقدمات کو نمٹائیں ۔ ججوں کے لئے ایک کوڈ آف کنڈکٹ ہوتا ہے، جس کے مطابق کسی بھی جج کو اپنے فیصلوں کے ذریعے بولنا چاہئے۔ سالہا سال سے لٹکے کیسز کو انجام تک پہنچانا عدالتوں کی ذمہ داری ہے عدل و انصاف کسی بھی قوم یا معاشرے کے استحکام اور بقا کی ضمانت ہے اور انصاف بھی ایسا جو سب کے لئے یکساں ہو اسلام مکمل عدل کی ہدایت کرتا ہے ورلڈ جسٹس انڈیکس کے مطابق انصاف تک رسائی میں پاکستان 113 ممالک میں 106ویں نمبر پر ہے۔ ضلع کچہریوں اور سول عدالتوں میں ہر وقت عوام کا ایک جم غفیر ہوتا ہے۔ اور جسے پوچھیں دہائیوں سے اسی طرح عدالتوں میں خوار ہو رہے ہیں۔ کئی نسلیں انصاف کے انتظار میں اختتام کو پہنچ چکی ہیں۔ جب کوئی بے گناہ دن دہاڑے قتل ہو جاتا ہے اسے ثابت کرنے اور اس کا کیس لڑنے کے لئے پندرہ بیس لاکھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ جان لینا چاہئے کہ جب ریاست اپنے شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو جائے اور عدالتیں انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے عاری ہو جائیں تو پھر قوم میں نفاق پڑتا ہے اور مُلک کمزور ہو جاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم