پاکستان سٹیزن پورٹل، پرانی بوتل میں نئی شراب

پاکستان سٹیزن پورٹل، پرانی بوتل میں نئی شراب
پاکستان سٹیزن پورٹل، پرانی بوتل میں نئی شراب

  

اللہ کرے عمران خان نے پاکستان سٹیزن پورٹل یعنی عوام کی آواز کا جو نظام متعارف کرایا ہے، وہ واقعتاً ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو۔ وزیر اعظم عمران خان نے تو اسے عوامی احتساب کا نام دیا ہے اور یہ خوشخبری بھی سنائی ہے کہ اب ہر محکمے، ادارے اور سرکاری عہدے پر فائز شخص کا عوام احتساب کرسکیں گے۔ آنے والے دنوں میں علم ہوگا کہ یہ نظام کس حد تک کارگر ہے اور اس سے کیا تبدیلی آئی ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی محکمے یا ادارے سے تنگ ہے، چونکہ ہر طرف رشوت کا بازار گرم ہے، اس لئے معمول کے کام بھی بغیر رشوت یا سفارش کے نہیں ہوتے۔ جہاں لوگوں کو اپنی تنخواہ، پنشن اور واجبات لینے کے لئے بھی رشوت دینا پڑتی ہو، وہاں حالات کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں بگڑے نظام کو سیدھا کرنے کی بجائے، اُن لوگوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جو اس نظام کی موشگافیوں سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں، اب بھلا آپ کتنوں کو ٹھیک کرسکتے ہیں، یہاں تو ایک ڈھونڈو ہزار بدعنوان اور رشوت خور ملتے ہیں، پھر اُن کا نیٹ ورک درجہ بدرجہ اُوپر تک جاتا ہے۔ جب تک محکمے کے بڑے کو اُس کے نیچے ہونے والی بے قاعدگیوں، بدعنوانی اور ظلم و زیادتی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاتا، بہتری آہی نہیں سکتی۔

ہمارے جیسے ممالک میں،جہاں نظام میں اتنی جان نہیں کہ وہ از خود لوگوں کو اُن کے حقوق دلاسکے، اس قسم کے سلسلے متعارف کرانے پڑتے ہیں۔مغلیہ دور میں عدل جہانگیری کی جو شکل تھی، وہ اب بھی کسی نہ کسی انداز میں نظر آہی جاتی ہے۔ امریکہ یا برطانیہ میں توکبھی کسی حکمران کو یہ ضرورت پیش نہیں آئی کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لئے الگ سے کوئی نظام وضع کرے۔ وہاں ریاست کے ادارے خود کار نظام کے تحت وہ سب کچھ کرتے ہیں، جس کی قانون اور آئین میں صراحت کردی گئی ہو۔ یہاں نظام سرکار تو ایک بے جان گھوڑا ہے، جس میں جان ڈالنے کے لئے ایسے لیپا پوتی والے کام کرنا پڑتے ہیں۔ معاف کیجئے یہ کوئی بہت انقلابی یا پہلا قدم نہیں جو تحریک انصاف کی حکومت نے اُٹھایا ہے، ہاں ٹیکنالوجی کا استعمال ضرورپہلی بار کیا جا رہا ہے، وگرنہ اس سے پہلے نوے کی دہائی میں نواز شریف بھی عوام کی براہ راست کال سنتے رہے ہیں اورشہبازشریف نے بھی ایسے کئی کام کئے،

کبھی کالیں ریسیو کیں اور کبھی انفرمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کی شکایات ریکارڈ کرائیں، مگر معاملہ ڈھاک کے تین پات ہی رہا۔ ایک عرصے سے وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں شکایات سیل کام کر رہے ہیں، یہ ایسا پھونڈہ مذاق ہے، جو پہلے سے مظلوم سائل کو مزید بے اَسرا اور مظلوم بناکر رکھ دیتا ہے، ایسے سیلوں میں درخواست دینے والوں کو ایک چٹھی موصول ہوتی ہے، جس میں اُن کی درخواست اُسی محکمے کے بڑے افسر کو اس کورنگ لیٹر کے ساتھ بھیج دی جاتی ہے کہ ایک سائل کی درخواست بھجوائی جارہی ہے، براہ کرم اس پر ہمدردانہ غور کرکے اگر داد رسی بنتی ہے تو ضرور کی جائے۔ میرا یہ زندگی بھر کا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ کسی ڈی پی او کی مرضی کے بغیر ایس ایچ او اپنے تھانے کی حدود میں ات نہیں مچاسکتا، اسی طرح کوئی پٹواری، قانون گو اور نائب تحصیلدار ڈپٹی کمشنر کی آشیر باد کے بغیر لوگوں کی زندگی اجیرن نہیں کرسکتا۔ یہ تو سب ایک ہی استحصالی نظام کے کردار ہیں اور اس گلے سڑے نظام نے ان کی ذہنیت بنادی ہے کہ یہ سب عوام کو اپنا شکار سمجھتے ہیں، جسے نوچنا، لوٹنا اور ذلیل و خوار کرنا اُن کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔

میں شہباز شریف کے نوٹس لینے والی پالیسی کا سخت ناقد رہا ہوں، میں نے کئی بار اس پر لکھا کہ اگر بیوروکریسی نے کام وزیر اعلیٰ کے نوٹس لینے پر ہی کرنے ہیں تو پھر باقی سارے محکمے بند کر دینے چاہئیں۔ کئی بار تو شہباز شریف کو خود موقع پر پہنچ کر مظلوموں کو انصاف دلانا پڑتا تھا، کیا ہم اسے گڈ گورننس کہہ سکتے ہیں؟۔۔۔ پھر وطن عزیز میں ایک اور ڈرامہ بھی ہوتا رہا ہے، کھلی کچہری کا ڈرامہ۔ جس نے بھی اس کا نام کھلی کچہری رکھا، وہ کوئی بہت بڑا نوسر باز تھا، جس نے ہر سرکاری افسر کو جج بنا دیا اور اُسے کھلی کچہری لگانے کا حق دے دیا۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ اپنی بدعنوانی اور ظلم کے لئے مشہور ایس ایچ اوز بھی کھلی کچہریاں لگاتے رہے۔

بھلا یہ کسی ملک میں ہوتا ہے کہ افسران اپنے معمول کے نظام میں تو عوام کو کوئی ریلیف نہ دیں، پھر الگ سے کھلی کچہری لگا کر اُن کی درخواستوں پر ایسے احکامات جاری کریں،جن پر عملدرآمد نہ ہوسکے۔ دیکھا جائے تو اس قسم کے سارے ہتھکنڈے عوام کو بے وقوف بنانے اور انہیں طفل تسلی دینے کے لئے اختیار کئے جاتے ہیں۔ آج تک کسی حکمران کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ نظام کو جوابدہ بنائے۔ اس ظالم نظام کا بال بھی بیکانہ کرسکنے والے مختلف حیلے بہانے اختیار کرتے رہے۔ کسی نے اُس دفتری نظام کو تبدیل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی، جو سارے مسائل کی جڑ ہے، جس میں بیٹھا ہوا معمولی کارندہ بھی یزیدی ذہن لے کر بیٹھتا ہے کہ کسی مظلوم کو نہیں چھوڑنا، کسی فریادی کا کام نہیں کرنا۔

سرکاری محکموں کو اتنے بے محایا اخیارات دیئے گئے ہیں اور ضابطوں، قاعدوں نیز طریقہ کار میں اس قدر ابہام رکھ دیئے گئے ہیں کہ بوقت ضرورت سرکاری اعمال کسی بھی ضابطے کی اپنے مطلب کے مطابق توجیہہ پیش کرکے عوام کو الو بنا دیتا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ انہوں نے سرمایہ کاروں کے لئے ون ونڈو نظام بنانا ہے، جم جم بنائیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ عوام کے لئے بھی سرکاری محکموں میں ون ونڈو نظام متعارف کرائیں، یہ اس پاکستان سٹیزن پورٹل سے زیادہ اہم ہے۔ عوام چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے دھکے کھاتے ہیں، کوئی اُن کی سنتا نہیں، البتہ اگر وہ چند سو روپے رشوت کا نذرانہ پیش کردیں تو سب رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں۔ابھی اس بارے میں معلوم نہیں کہ وزیر اعظم کا یہ نیا نظام کس طرح کام کرے گا اور شکایات کے ازالے کے لئے کیا میکنزم اختیار کیا جائے گا؟ اگر تو یہ نئی بوتل میں پرانی شراب والا معاملہ ہے تو پھر اسے قصۂ پارینہ بنتے دیر نہیں لگے گی،

اگر تو اس میں وہی طریقۂ کار اختیار کیا گیا کہ ملنے والی شکایات، درخواستیں متعلقہ محکموں کو بھجوا دی جائیں گی اور سائل پھر اُسی دربار میں پیش ہوگا، جہاں کے عذاب سے بچنے کے لئے وزیر اعظم شکایت سیل کو درخواست دی تو پھر جلد ہی نئے پاکستان کا یہ منصوبہ فیل ہو جائے گا۔ اسی ملک میں ایک وفاقی محتسب کا دفتر بھی ہے، جس کے تمام صوبوں اور ڈویژنوں میں دفاتر ہیں۔ یہی کام وہ بھی کر رہے ہیں، سائل درخواست دیتا ہے، اُس درخواست پر متعلقہ محکمے سے جواب مانگا جاتا ہے، وہ جو بھی جواب دے، اُس پر اپنے ذرائع سے تحقیق یا تفتیش کرانے کا کوئی طریقہ کار نہیں، اُس جواب کی بنیاد پر ہی فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اگر واقعی یہ چاہتے ہیں کہ عوام سرکاری محکموں کا احتساب کریں تو پھر ایسی تمام شکایات کی چھان بین کے لئے انہیں ایک نظام بھی وضع کرنا ہوگا، اگر درخواستیں وصول کرکے اسی محکمے کے سربراہ کو بھیجی جاتی رہیں تو یہ ڈاک خانے کا کردار عوام پہلے بھی بہت دیکھ چکے ہیں۔ اس سٹیزن پورٹل کے مختلف فیچرز میں یہ بات بھی شامل ہونی چاہئے کہ سنگین نوعیت کی شکایات ایف آئی اے اور محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوائی جائیں گی، جس محکمے یا ضلع سے زیادہ شکایات موصول ہوں گی اور چھان بین کے بعد درست ثابت ہو جائیں گی تو اُس کے نگران افسر کو نہ صرف عہدے سے ہٹا دیا جائے گا، بلکہ اُس کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی بھی ہوگی۔ جب سے اس پاکستان سٹیزن پورٹل کا افتتاح ہوا ہے، لوگ ہزاروں کی تعداد میں اس پر رجسٹر ہو رہے ہیں، انہیں یوں لگ رہا ہے، جیسے ایک مکروہ ظالمانہ نظام کے خلاف انہیں داد رسی کا روزن مل گیا ہے، اس سے بھی اس تلخ حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے کہ عوام ظالمانہ دفتری نظام سے کس قدر تنگ ہیں۔ میں اپنا کالم اُسی جملے پر ختم کردوں گا، جو میں نے آغاز میں لکھا: ’’اللہ کرے عمران خان نے پاکستان سٹیزن پورٹل یعنی عوام کی آواز سننے کا جو نظام متعارف کرایا ہے، وہ واقعتاً ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو‘‘۔

مزید : رائے /کالم