کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ (1)

کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ (1)
کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ (1)

  

اپنی فوجی سروس کے دوران صوبہ بلوچستان میں دوبار میری پوسٹنگ ہوئی۔ پہلی بار 1971ء میں قلات سکاؤٹس خضدار میں جو آج کل خضدار سے شفٹ ہو کر قلات چلی گئی ہے اور تھری ونگ سکاؤٹس یونٹ بن چکی ہے جبکہ میرے زمانے میں یہ وَن ونگ کور تھی یعنی اس کی نفری تقریباً ایک انفنٹری بٹالین کے لگ بھگ تھی۔ دوسری بار 1982ء میں بلوچستان میں جو پوسٹنگ ہوئی وہ ہیڈکوارٹر 16انفنٹری ڈویژن میں تھی۔۔۔اس ڈویژن کے علاوہ وہاں 33انفنٹری ڈویژن، ای ایم ای ٹریننگ سنٹر اور آرڈننس ٹرینگ سنٹر بھی تھے۔ سکول آف انفنٹری اور ٹیکٹکس بھی تھا لیکن سب سے زیادہ اہم اور پرکشش ملٹری ادارہ ’’کمانڈ اینڈ سٹاف کالج‘‘ تھا جس سے فارغ التحصیل (گریجوایشن کرنا) ہونا پوری فوج میں ایک ٹریٹ سمجھا جاتا تھا اور آج بھی وہی صورت حال ہے۔ آرمی کی طرف سے الاٹ شدہ میرا گھر چلتن روڈ پر واقع تھا جہاں سے سٹاف کالج کی مسافت کوئی زیادہ نہ تھی۔۔۔ پانی تقسیم چوک سے ایک کلومیٹر فاصلہ کچھ زیادہ نہ تھا۔

اس وقت سٹاف کالج کی نئی بلڈنگ ہنوز تعمیرنہیں ہوئی تھی لیکن اس کی پروفیشنل شہرت اور دبدبہ اس وقت بھی نہ صرف پاک فوج بلکہ دنیا بھر کی افواج میں ایک باوقار ملٹری تربیتی ادارے کے طور پر مسلّم تھا۔ مجھے کئی بار وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس وقت میری سروس 14برس ہو چکی تھی اور اس حوالے سے کالج کے کئی کیپٹن اور میجر رینک کے سٹوڈنٹ دوست احباب میں سے تھے۔

اس زمانے میں (اور آج بھی) بیرونی ممالک کے کئی سٹوڈنٹ آفیسرز یہاں آتے تھے جن میں امریکی بھی شامل تھے۔ یہ کورس تقریباً پورے ایک سال (44ہفتے) کا ہوتا ہے اور 1982ء کے کورس میں جو امریکی آفیسر زیرتربیت تھا اس کا نام میجر ڈیوڈ سمتھ (David Smith) تھا جو بعد میں بطور مصنف ، صحافی، ملٹری اتاشی اور میڈیا پرسن بہت مشہور ہوا۔ حال ہی میں (ستمبر 2018ء) اس کی ایک چھوٹی سی کتاب منظر عام پر آئی ہے جو 164صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا عنوان ہے: ’’کوئٹہ کا تجربہ‘‘ (Quetta Experience) ۔۔۔اس میں کرنل سمتھ نے اپنے قیامِ کوئٹہ (بطور سٹوڈنٹ آفیسر) کا ذکر کیا ہے اور کالج کے بارے میں ایسی معلومات بھی فراہم کی ہیں جو ماسوائے سٹاف کالج کی طرف سے شائع ہونے والی کتابوں اور مضامین کے کسی اور کتاب میں میری نظر سے نہیں گزریں۔ اس کا ایک باب ’’سٹاف کالج کی تاریخ‘‘ پر بھی ہے جو نہ صرف پاکستان کی مسلح افواج کے افسروں کے لئے بلکہ سویلین قارئین کے لئے بھی عمومی طور پر دلچسپ اور معلومات افزا ہوگا۔۔۔

اس سلسلہ ء مضامین میں کرنل سمتھ کی اس کتاب کے علاوہ اور بھی کئی منابع سے استفادہ کیا گیا ہے۔

کمانڈ اینڈ سٹاف کالج، پاکستان آرمی کا ایک اہم اور معروف پروفیشنل ملٹری ایجوکیشن اور ٹریننگ کا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کو جنگ کے آپریشنل اور سٹرٹیجک لیول پر سینئر ملٹری آفیسرز کی ٹریننگ کا ذمہ دار گردانا جاتاہے لیکن یہ یونیورسٹی ہنوز نسبتاً نو عمر ہے اور سٹاف کالج کی کوکھ ہی سے جنم لینے والا ادارہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ یونیورسٹی پہلے نیشنل ڈیفنس کالج کہلاتی تھی اور لال کڑتی راولپنڈی میں قائم تھی۔ بعد میں اسے اسلام آباد شفٹ کر دیا گیا۔1962ء سے 1970ء تک سٹاف کالج کوئٹہ ہی سینئر ملٹری افسروں کی پیشہ ورانہ درسگاہ بھی رہا اور اس کے بعد اسے ایک الگ ادارہ کی شکل میں تبدیل کر دیا گیا۔ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی معروضی (Relative) اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے ، سٹاف کالج کوئٹہ کے ایک سابق کمانڈانٹ کا یہ فقرہ بڑا فکر انگیز ہے : ’’بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، پاکستان آرمی کی ہائر لیڈرشپ کا تعین کرنے کا پیمانہ ہے لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ ’’فیصلہ‘‘ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کرتا ہے کہ کس آفیسر نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی جانا ہے۔(یہ تبصرہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید محمد امجد کا ہے جو 1995ء سے لے کر 1998ء تک سٹاف کالج کے کمانڈانٹ رہے)

سٹاف کالج میں جتنے آفیسرز ٹریننگ پاتے ہیں، ان میں سے صرف 20% NDUکے لئے سلیکٹ ہوتے ہیں۔ باقی 80فیصد آفیسرز کے لئے سٹاف کالج کا ایک سال ان کی پروفیشنل ٹریننگ اور ملٹری ایجوکیشن کا سب سے بڑا تربیتی عرصہ شمار ہوتا ہے۔ اس سٹاف کالج کی شہرت بے مثال ہے جس کی اساس بہت سے پہلوؤں اور عوامل پر استوار ہے جن میں اس ادارے کی عمر، اس کے نامور اساتذہ اور طلبا اور 1947ء میں تقسیم برصغیر کے حالات و واقعات کو محیط ہیں۔

آیئے پہلے اس کالج کی عمر کا ذکر کرتے ہیں۔۔۔

1900ء میں انڈین آرمی کا کل سائز ایک لاکھ پچاس ہزار (1,50,000)افسروں اور جوانوں پر مشتمل تھا۔ اس میں نصف تعداد برٹش آرمی کی یونٹوں کی تھی ۔برٹش آرمی کی اعلیٰ سطحی ٹریننگ برٹش آرمی کے سٹاف کالج، کیمبرلے (انگلینڈ) میں کی جاتی تھی۔ انڈین سٹاف کور کے افسروں کے لئے اس وقت کیمبرلے میں انڈین آرمی کی صرف 6آسامیاں تھیں۔1902ء میں لارڈ (جنرل) کچنر (Kitchener) انڈین آرمی کے کمانڈر انچیف ہو کر انڈیا پہنچے تو ان کے ذہن میں انڈین آرمی کی توسیع اور تنظیمِ نو کا ایک پلان موجود تھا۔ اس پلان کی تفصیل بہت طویل و عریض ہے۔انڈین آرمی کی تنظیمِ نو کے موضوع پر اگر کسی قاری نے مزید مطالعہ کرنا ہو تو اس کے لئے انڈین آرمی کی ملٹری ہسٹری اور نیز جنرل کچنر کی سوانح حیات پر بہت سی کتابیں موجود ہیں۔ جنرل کو معلوم تھا کہ اگر انڈین آرمی کی توسیع کی گئی تو اس کے لئے آفیسرز کی تعداد میں بھی توسیع کی ضرورت ہو گی جبکہ سٹاف کالج کیمبرلے میں اس آرمی کے صرف 6 افسروں کو ہی داخلہ دیا جاتا تھا۔۔۔۔ اس کا حل کیا تھا؟۔۔۔

آرمی کی اس مجوزہ توسیع کے پیش نظر کمانڈر انچیف کچنر نے سوچا کہ کیوں نہ کیمبرلے کی طرز پر انڈیا میں بھی ایک ویسا ہی پروفیشنل تدریسی ادارہ قائم کیا جائے جس میں انڈین آرمی آفیسرز کی سٹاف کور کو ٹرین کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے ایک سکیم مرتب کر کے انگلینڈ میں اربابِ اختیار کو بھیج دی۔ لیکن اس وقت کی آرمی کونسل نے یہ تجویز مسترد کر دی۔۔۔ اس کی وجہ جو بیان کی گئی وہ بڑی عجیب و غریب تھی لیکن اس وقت کے برطانوی سویلین اور ملٹری اشرافیہ کے دل و دماغ کی آئینہ دار تھی۔

آرمی کونسل کا اعتراض یہ تھا کہ اگر ایسا کیا گیا اور انڈیا میں ایک نیا سٹاف کالج کھول دیا گیا تو انڈین آرمی میں ایک ’’نیا مکتبہ ء فکر‘‘ پیدا ہو جائے گا جو برٹش انڈین آرمی کے لئے آنے والے وقتوں میں کئی مسائل پیدا کر دے گا۔۔۔۔اور دوسرا اعتراض فنڈز کی کمی کا تھا۔جنرل کچنر نے اس اعتراض کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ برٹش آرمی میں کسی نئے ’’دبستانِ فکر ‘‘کا کوئی وجود نہیں۔ اگر ہو گا بھی تو یہ صرف چند سینئر آفیسرز کی رائے ہو سکتی ہے اور کچھ نہیں۔

میں یہاں کچھ دیر رک کر اپنے قارئین کی توجہ انگریز قوم کی اس دوراندیشی کی طرف دلانی چاہتا ہوں جو ان کی اعلیٰ عسکری قیادت کے فکر و نظر میں پائی جاتی تھی۔ یہی وہ دور اندیشی اور ژرف نگاہی تھی جس نے اس دور میں حضرت اقبال اور حضرت قائداعظم کو برطانوی فکر کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہو کر برصغیر کی آزادی کی تحریک کو ایک نیا استحکام بخشا۔ اور اقبال نے تو لارڈ میکالے کی فکر و نظر کو یوں بے نقاب کیا تھا:

سینے میں رہے رازِ ملوکانہ تو بہتر

کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر

تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب

سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر

اب اگر کوئی قاری عقبی دور بین سے دیکھے تو اسے معلوم ہو گا کہ لندن کی وار کونسل نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ اگر انڈیا میں ایک نیا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کھول دیا گیا تو ’’آرمی میں ایک نیا مکتبہء فکر (School of Thought) پیدا ہو جائے گا‘‘۔۔۔۔ اس نئے متکبہء فکر سے ان کی مراد انڈین آرمی میں اس انداز نظر کے پیدا ہونے کا خوف تھا جو 20ویں صدی کے آغاز میں ’’تحریکِ آزادی ہند‘‘ کے نام سے زور پکڑ رہی تھی۔ برطانوی سیاستدان، مدبر اور سینئر ملٹری آفیسرز کو ڈر تھا کہ اگر اس آرمی کو اعلیٰ عسکری قیادت کے رموز و اسرار کی ٹریننگ دی گئی تو وہ قابض برطانوی فوج کو اپنے ملک سے نکال دینے کی پلاننگ میں مسلح افواج کے رول کو ایک اہم حقیقت سمجھیں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں وہی انڈین آرمی کہ جس نے دوسو برس تک انگریز کمانڈروں کے ماتحت Serve کیا تھا،ان سے بد ظن ہوگئی اور تحریک آزادی کی بڑھ چڑھ کر حمائت کی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو صرف سیاست کے بل بوتے پر پاکستان حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ سیاسی اور عسکری قوتوں نے مل کر اس ’’ہمالہ‘‘ کو سرکیا۔ اقبال فرماتے ہیں کہ ان دونوں اجزائے حکومت میں اٹوٹ انگ کا سا رشتہ ہے۔۔۔ یعنی ووٹ بغیر طاقت ایک مکروفسوں ہے اور طاقت بغیر ووٹ کے پاگل پن اور جاہلیت ہے:

رائے بے قوت ہمہ مکرو فسوں

قوتِ بے رائے، جہل است و جنوں

ہم سٹاف کالج کا ذکر کررہے تھے۔۔۔

لارڈکچنر کی شخصیت بہت پاور فل تھی۔اس لئے وائسرائے ہند اورکچنر کے درمیان ہمیشہ ٹھنی رہی اور بسا اوقات وائسرائے کو اپنے کمانڈر انچیف کی سیادتِ رائے کو تسلیم کرنا پڑتا تھا۔ وار کونسل نے جب جنرل کچنر کی تجویز رد کردی توکچنر نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا اور درمیان کی راہ نکالی۔ وہ راہ یہ تھی کہ تین سال کے اندر اندر انہوں نے مطلوبہ فنڈز اکٹھے کرکے دیو لالی (Deolali) کے مقام پر ایک ابتدائی اور عارضی نوعیت کا سٹاف کالج کھول دیا اور کوئٹہ میں ایک مستقل سٹاف کالج کی بنیاد رکھ دی۔ کالج کے لئے کوئٹہ کا انتخاب جن وجوہات کے پیش نظر کیا گیا اس میں اس کی آب و ہوا، ٹیرین اور اس دور کے برٹش انڈیا کی افغانستان سرحد سے قربت تھی!

جہاں تک دیو لالی کا تعلق ہے تو یہ آج بھی انڈیا میں ایک صحت افزا مقام شمار ہوتا ہے اور مہاراشٹر صوبے کے ضلع ناشک میں واقع ایک مشہور ملٹری سٹیشن ہے اور ممبئی سے شمال مشرق کی طرف 100میل (140 کلو میٹر) دور ہے۔یہ عارضی سٹاف کالج دو برس تک (1905ء سے 1907ء تک) دیو لالی میں رہا اور جب کوئٹہ میں کالج کی تعمیر مکمل ہوگئی تو 1907ء میں اس کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ اس کے پہلے کورس میں صرف 24سٹوڈنٹ آفیسرز تھے جن میں سے 8انڈیا میں ریگولر برٹش آرمی یونٹوں کے انگریز آفیسرز تھے اور باقی 16کا تعلق انڈین آرمی سے تھا۔

1907ء سے لے کر تقسیم برصغیر (1947ء) تک کے 40برسوں میں اس کالج نے جو گریجوایٹ پیدا کئے ان میں 8فیلڈ مارشل اور 20چارستاروں والے جرنیل شامل ہیں۔ اس فہرست میں جو نمایاں نام ہیں ان میں فیلڈ مارشل منٹگمری، فیلڈ مارشل آکنلک، فیلڈ مارشل ولیم سلم آف برما، فیلڈ مارشل مانک شا اور فیلڈ مارشل محمد ایوب خان شامل ہیں۔۔۔ ان کے علاوہ اس دوران میں جنرل اسمے(Ismay)، جنرل گریسی اور جنرل کری آپا بھی اسی سٹاف کالج کے فارغ التحصیل تھے۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم