بیرونُ ملک طالب علم گمراہ کیسے ہوتے ہیں

بیرونُ ملک طالب علم گمراہ کیسے ہوتے ہیں

مکرمی!آج کل پاکستانی طلبہ اور طالبات میں ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے اور ڈگری حاصل کرنے کا بڑا رجحان ہے،والدین اپنی قیمتی جائیدادیں بیچ کر اپنے بچوں کی یہ خواہش پوری کرتے ہیں، اِن طالب علموں میں کچھ تو اپنے اعلیٰ مقصد کی تکمیل پر کامیاب اور کچھ اس نئے ماحول کی تاب نہ لا کر اِسی میں گم ہو جاتے ہیں۔حمزہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی رہا، پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر کے وہ برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں داخل ہو گیا اور2011ء میں وہاں پہنچ گیا۔ وہاں کے بے دین اور گمراہ لوگوں، جو انسانیت کو ہی مذہب مانتے ہیں، کے ساتھ مل گیا اور اپنے دین، اسلامی تعلیمات، مشرقی روایات اور پاکستانی رسم و رواج سے انحراف کر بیٹھا، گویا دین و دُنیا ہی ڈبو دیا۔اِسی گروپ کی ایک انگریز عورت نے حمزہ کو کامیابی سے اپنے چنگل میں پھنسایا اور وہ بخوشی اُس کی مکاری میں آ گیا۔ اس کے ساتھ رہنے لگا، حالانکہ حمزہ کے والدین نے اُس کی شادی رشتہ داروں کے ہاں طے کر رکھی تھی، جو کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد کرنی تھی۔ اِس صورتِ حال پر لڑکی والوں نے شدید ترین ردعمل کا اظہار کیا اور حمزہ کے جانی دشمن بن گئے۔ راقم نے حمزہ کے والد سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا برطانیہ جانے کے ایک ماہ کے بعد حمزہ نے ہم سے رابطہ ختم کر دیا تو پاکستان اور برطانیہ کے اخبارات میں چھپنے والے مضمون پڑھ کر کچھ رشتہ داروں اور دوستوں نے فون کر کے بتایا کہ حمزہ کن حالات میں پھنس چکا ہے۔ مَیں نے اُن حالات سے نکلنے کے لئے حمزہ کو پیسے بھی بھیجے، لیکن بات نہ بنی۔ پیسے اُس نے لے لئے،لیکن خود وہیں کا وہیں رہ گیا۔ مَیں نے مایوس ہو کر حمزہ کو عاق کر دیا اور پورے خاندان سمیت اُس سے لاتعلقی اختیار کر لی۔ 7ستمبر2018ء کو اخبار میں اشتہار بھی دے دیا اِن حالات کے پیش نظر رشتہ داروں، طلبہ اور مذہبی تنظیموں نے حمزہ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے اور اس کے والدین دباؤ میں ہیں۔ ایسے تمام والدین جو اپنے بچوں کو تعلیم کے لئے بیرون مُلک بھیج رہے ہیں، سے التماس ہے کہ وہ اُن بچوں کو پوری طرح بریف کر کے بھیجیں، اُ سے رابطے میں رہیں اور بچے بھی اپنے مقصد سے دور نہ جائیں۔( ایک باخبر پاکستانی، لاہور)

مزید : رائے /اداریہ