’’کنڈی نہ کھڑکا ‘‘

’’کنڈی نہ کھڑکا ‘‘
’’کنڈی نہ کھڑکا ‘‘

  

لگتا ہے سابق صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف کا معافی نامہ قبول کرلیا ہے، کیونکہ جس طرح زرداری شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں لے کر آئے، لگتا تھا کہ وہ میاں نواز شریف ہیں جو اتنی پدرانہ شفقت سے انہیں ان کی سیٹ تک چھوڑنے جا رہے ہیں۔ ویسے تو سیاست میں اخلاقیات کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں لیکن پاکستانی سیاست میں شاید اخلاقیات نام کو بھی نہیں ہوتی۔

زرداری، نواز، شہباز کے صلح نامے میں مولانا فضل الرحمن کی شبانہ روز محنت سے زیادہ حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ پھینٹے جا رہی ہے لیکن پتا نہیں پھینکتی، حالانکہ عمران خان کا خون گرم کرنے کے لئے بابا رحمتے ہی کافی ہیں۔ گزشتہ روز بابا رحمتے کے ریمارکس پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ موجودہ حکومت سے بھی اتنے خوش نہیں ہیں۔

چلیں عدالتی فیصلوں پر اول فول بولنے والوں کی آتما کو ان ریمارکس سے ضرور شانتی ملی ہوگی۔ یہاں پر مولانا فضل الرحمن کی تعریف نہ کرنا کنجوسی ہوگی۔ ان کی ملک، آئین، جمہوریت، اسلام اور 73ء کے آئین کی بقاء کے لئے سرتوڑ کوششیں رنگ لائیں اور مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، ایک دوسرے پر چوری چکاری کے الزامات معاف کرکے پھر سے شیر و شکر ہوگئے ہیں۔

شیر کون اور شکر کون، اس کا فیصلہ آپ خود کریں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کے ابھی پہلے دو ماہ مکمل نہیں ہوئے کہ اپوزیشن کو اے پی سی کی ضرورت پیش آگئی۔ اے پی سی کا ایجنڈا کیا ہوگا؟ آج نہ تو جمہوریت خطرے میں ہے اور نہ ہی عوام اپنی زندگی بچانے کے لئے ماضی کے محمد بن قاسم ، سلطان غزنویوں اور صلاح الدین ایوبیوں کو آواز دے رہے ہیں۔

پچھلے 35 سال میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے جتنی عوام کی سیوا کی، عوام پوری طرح پرباش ہوچکے ہیں۔ چلیں رہی سہی کسر پی ٹی آئی کو بھی پوری کرلینے دیں۔ ساری خدمت کا ٹھیکہ صرف پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے تو نہیں لے رکھا۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے جانے سے کشمیر کی آزادی کوئی دو گھنٹہ لیٹ ہوگئی ہے۔ جہاں حکومت نے بہت سارے معاملات میں بہادری سے گھٹنے ٹیکے، وہیں اگر ایک سیٹ وہ فضل الرحمن کو بھی دے دیتے تو کون سا قومی اسمبلی میں جگہ کم پڑ جاتی۔ بنتا سنگھ کنڈیکٹر تھا جب شادی کے منڈپ پہ اس کی بیگم بیٹھی تو بنتا سنگھ بولا، میں کہیا نیڑے ہو جاؤ اک سواری ہور بہہ جائے گی۔

کاش قومی اسمبلی میں کسی سنتا سنگھ یا بنتا سنگھ کو ایسا خیال آجاتا۔ سانپ بھی بچ جاتا اور لاٹھی تو خیر سدا سے محفوظ ہے، بلکہ یہ ہوتا کہ برادرم فواد چودھری کو صرف مشاہد اللہ سے اکھ مٹکا لگانے کی بجائے مولانا فضل الرحمن سے بھی براہ راست رومانس کا موقع مل جاتا۔ قومی اسمبلی میں ایویں مفت کا منورنجن رہتا۔ پاکستان کی تمام دیواریں اس بات کی گواہ ہیں کہ قوم کی یادداشت اور مثانہ ازل سے کمزور ہے

مولانا فضل الرحمن ایک دو اے پی سیاں کھڑکانے میں اور چند جلسے جلوس پھڑکانے میں کامیاب ہوگئے تو یقین کریں بھولے بسرے سیاسی ورکروں کی موج بن آئے گی۔

جیسے سردیوں کے آنے پر غریب اپنے ٹرنکوں میں سے پرانے سویئٹر نکالتے ہیں، ورکروں کو ایسے گھر سے نکال لیا جائے گا۔ باقی رہی قوم تو ماشاء اللہ اسے جس نے لگایا گلی، اس کے ساتھ ٹر چلی۔ سنتا سنگھ کی بیگم ہسپتال میں تھیں، جب اس کی ڈرپ ختم ہوئی تو ڈاکٹر سنتا سنگھ سے بولا سسٹر کو بلا لاؤ۔ سنتا بولا تن دن لگن گے اوہ کینڈا وچ اے۔

پاکستان میں تو خیر بہن بھائیوں جیسے ورکرز کو بلانے کے لئے تین دن کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ وہ تو منہ سے کہتے پھرتے ہیں کنڈی نہ کھڑکا، لیڈرا سدھا اندر آ ۔ انہی کارکنوں نے کبھی اپنی لاشوں، اپنی قبروں پر پاؤں رکھوا کر۔ پیپلز پارٹی کو اقتدار میں پہنچایا، انہی کارکنوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر میاں برادران کو بادشاہ بنایا، یہی کارکن آج عمران خان کی بائیس سالہ جدوجہد کو کامیاب موڑ تک لے کر آئے۔

پاکستان کی بدنصیب سیاسی تاریخ کارکنوں کی قربانیوں اور عوام کی عقیدتوں سے بھری پڑی ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کو ان کی بے لوث محبت کا کیا صلا ملا۔

بھوک، ننگ، مایوسیاں، خودکشیاں اور ان کی محبتوں کے بلا شرکت غیر مالک سوئس اکاؤنٹ، سرے محل، ایون فیلڈ، فیکٹریوں، بنگلوں، کوٹھیوں، چوباروں، محلوں کے مالک بھی بنتے چلے گئے۔

یہی اصل جمہوریت ہے اور اسی جمہوریت کو لانے کے لئے جمہوریت کے بے تاج دیوتا پھر سے اکٹھے ہو رہے ہیں، مجھے تو نیا پاکستان کیا پرانا پاکستان بھی خطرے میں نظر آتا ہے۔ حکومت کو بھی یہ بات سمجھنا چاہئے کہ کامیابی ملنا کافی نہیں۔

اسے سنبھالنا ضروری ہے۔ خدارا اپنے پاؤں مصلحتوں سے آلودہ نہ کرے، اپنے فیصلوں کے پاؤں دھو کے رکھے کہیں کامیابی قدم چومتے بدبو سے فوت نہ ہو جائے

مزید : رائے /کالم