بلدیاتی نمائندوں کوہر دور میں دباؤ میں رکھ کر اہمیت کم کی گئی،کنور دلشاد

بلدیاتی نمائندوں کوہر دور میں دباؤ میں رکھ کر اہمیت کم کی گئی،کنور دلشاد

لاہور(پ ر ) پاکستان کو بنے 71سال ہو گئے ہیں مگر بلدیاتی نظام آج تک مستحکم نہیں ہو سکابلدیاتی نظام کو بار بارتجربات کی نذر کیا جاتا رہا ہے ویلج کونسلیں نہیں بنانے دی گئی خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی یا تو بہت کم اور بے اختیار ہے ۔ان خیالات کا اظہار مقامی ہوٹل میں سنگت ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن اورLRGCکے زیر اہتمام سابقہ سیکرٹری الیکشن کمیشن پاکستان کنور دلشاد کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس اور لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زاہد اسلام ، کنور دلشاد نے کہا کہ جس میں لوکل گورئمنٹ کا مستقبل کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنے کیلئے تجاویز لی گئیں ،مشاورتی اجلاس میں صوبہ بھر سے سول سوسائٹی کے نمائندگان گورنس کے ماہرین منتخب لوکل گورئمنٹ کے نمائندوں ،سیاسی جماعتوں کے سرگرم کارکنوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔

اجلاس میں بلدیاتی اداروں کو مکمل بااختیار بنانے مالیاتی طور پر مضبوط کرنے اور سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ،اجلاس میں اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ہر دور میں بلدیاتی اداروں اور ان کے نمائندوں کو سیاسی بنیادوں پر دباؤ میں رکھ کر ان کی اہمیت کو کم کیا گیا عوامی ادروں کا نہ تو مکمل اداروں کا کنٹرول دیا گیا ہے اور نہ ہی ان کو خاطر خواہ فنڈز دیئے جاتے ہیں ۔اجلاس میں اجلاس میں جو مشاورات پیش کی گئیں ان میں مطالبہ کیا گیا کہ لوکل گورئمنٹ کے نمائندوں کو مکمل انتظامی اور فنانشنل اختیارات ملنے چایئے،مقامی تعلیمی ادارے ،انتظامیہ ،پولیس ، ہیلتھ ،ایجوکیشن ،صحت و صفائی ،پینے کا پانی ،لوکل ٹرانسپورٹ ،ترقیاتی کام،ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ جیسے ادارے لوکل گورئمنٹ کے ماتحت کئے جائیں اجلاس میں ہر حکومت کے آنے پر بلدیاتی اداروں کو ختم کر کے نیا نظام لانے کا غیر سنجیدہ اقدام قابل مذمت قرار دیا گیا ۔لوکل گورئمنٹ کے نظام کے حوالے سے معروف سکالر زاہد اسلام نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوکل گورئمنٹ اور عوام کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور ملکی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے ہمیں بلدیاتی نظام کو جدید بنیادوں پر استوار کر کے با اختیار اور فنانشنل مظبوط بنانا انتہائی ضروری ہے ملک کے تمام حصوں خصوصاََ دیہاتی علاقوں اور پسماندہ علاقوں میں لوکل باڈی نظام کو بہتر مظبوط اور باختیار بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔لوکل گورئمنٹ کے متعلق عمومی رویہ تبدیل کیا جائے آئین میں اس کے تحفظ کیلئے ترمیم لائی جائے ،لوکل گورئمنٹ کے مالیات میں اضافہ کیا جائے فوری طور پر موجودہ یکسر ختم کرکے نئے انتخابات کا اعلا ن کیا جائے ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو افسر شاہی کے چنگل سے نکال کر منتخب اداروں کے سپرد کیا جائے ،لوکل گورئمنٹ سسٹم کا دورانیہ تین سال کر دیا جائے مقامی حکومتوں اور نمائندوں کی مشترکہ زرعی ڈویلپمنٹ کمیٹیاں فعال کی جائیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1