شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی نہیں بننے دیں گے ، وزیراعظم

شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی نہیں بننے دیں گے ، وزیراعظم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو کسی بھی صورت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بننے نہیں دیا جائے گا، اس عہدے کیلئے مشاورت سے غیر جانبدار شخصیت کا انتخاب کیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کے زیرِ صدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نہ بنانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حزب اختلاف سے شہباز شریف کی جگہ متبادل نام لیا جائے گا، عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوں گے۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف کو کسی صورت پی اے سی کا چیئرمین نہیں بنایا جائے گا، اراکین امورِ حکومت کو بہتر طریقے سے چلانے کیلئے اپنی تجاویز دیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران حلقوں میں ترقیاتی کام نہ ہونے پر حکومتی اراکین نے شکایات کے انبار لگا دئیے۔ پارٹی رہنماؤں نے شکوہ کیا کہ بیوروکریسی ہمارے کام نہیں کرتی، لوگوں کو مطمئن کرنا مشکل ہو گیا۔وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب، یو اے ای اور چین کے ساتھ معاشی معاہدوں کے حوالے سے بھی بریف کیا اور ارکان اسمبلی کو عوام سے رابطے بڑھانے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احتساب کے بغیر جمہوری عمل کامیاب نہیں ہو سکتا ، بلا تفریق احتساب نئے پاکستان کی بنیاد ہے ۔ پیر کوتحریک انصاف کے رہنما اور معروف قانون دان بابر اعوان نے وزیر اعظم سے ملاقات کی جس میں ملک کی سیاسی صورتحال اور قانونی و آئینی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔عمران خان نے انڈونیشیاء میں طیارے کے حادثے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے بڑے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈونیشیاء کے عوام کے ساتھ گہرے دکھ کے ساتھ گہری ہمدردی رکھتے ہیں ، طیارہ حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر غمزدہ ہیں ، دکھ کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔میڈیا سے گفتگو میں وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اپوزیشن نیا نام دے، غور کریں گے۔انہوں نے کہا ہے نواز شریف دورکے منصوبوں کا آڈٹ شہباز شریف کیسے کرسکتے ہیں، ان کا نام چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کیلئے متنازعہ ہے۔سب جانتے ہیں کہ عمران خان کسی کو این آر او نہیں دیں گے، احتساب کا عمل منطقی انجام تک پہنچے گا۔فواد چودھری نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کے معاملے میں اپوزیشن کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح ان کیخلاف چلنے والے مقدمات روک دیے جائیں، ان کے مقدمات اگر روک دیں تو ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی، یہ ساری کوششیں صرف این آر او کے حصول کے لیے ہو رہی ہیں۔کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں بھی یہی کہتے تھے این آر او نہیں لیں گے، پھر سابق صدر پرویز مشرف کیساتھ معاہدہ کر کے سعودی عرب چلے گئے تھے لیکن اب وہاں بھی شریف خاندان کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نظریے اور لیڈرشپ دونوں سے محروم ہے، وزیراعظم عمران خان کو سب جانتے ہیں کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے، وہ حکومت چھوڑ دیں گے لیکن بلیک میل نہیں ہونگے اور کسی کو کرپشن نہیں کرنے دیں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن لوگوں کو بیوقوف بنانا چاہتی ہے، جنہوں نے گاجریں کھائیں، ان کے پیٹ میں مروڑ تو اٹھیں گے، اتنا قرضہ کدھر گیا؟ جب حساب لیں تو شور مچاتے ہیں۔فواد چودھری نے کہا کہ اگر جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان اور بابر اعوان کیخلاف مقدمات تھے تو سابق حکومت کیا دس سال سو رہی تھی؟ کیا ان کی عبدالعلیم خان یا باقی لوگوں کیساتھ ڈیل ہوئی تھی؟ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کا اعظم سواتی واقعے سے تعلق نہیں بلکہ یہ معاملہ ایک ہفتہ پہلے شروع ہو چکا تھا اور نئے آئی جی کیلئے پہلے ہی سے انٹرویوز ہو چکے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے پاس وزیر داخلہ کا عہدہ بھی ہے اور آئی جی کے تبادلے کا اختیار ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی افسر کے پاس منتخب نمائندے کا فون نہ سننے کا اختیار نہیں ہے، اگر اپوزیشن کا نمائندہ بھی افسران کو فون کرے تو ان کو جواب دینا چاہیے، اگر بیورو کریسی نے فون ہی نہیں سننا تو معاملات کیسے چلیں گے؟ملکی کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان معاشی بحران کا شکار ہوا لیکنسٹاک مارکیٹ کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ سیاست بہتے دریا کی طرح اور عالمی سیاست بھی اسی طرح ہوتی ہے، اگلے پندرہ دنوں کے بعد پاکستان کی صورتحال مزید بہتر ہو گی۔

مزید : صفحہ اول