عمان کا اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطین کی تحریک آزادی کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا ، علمائے کرام

عمان کا اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطین کی تحریک آزادی کو کمزور کرنے کے مترادف ...

لاہور (حافظ عمران انور)اسلامی ریاست عمان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان اسلامی ممالک اور بالخصوص عرب ممالک کیلئے لمحہ فکریہ ہے اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطین کی تحریک آزادی کو کمزور کرنا ہے ۔ان خیالات کا اظہار پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ عمان کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے سے پہلے او آئی سی یا عرب لیگ کا پلیٹ فارم استعمال کرنا چاہئے تھا کیونکہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اسلام مل کر نہتے فلسطینیوں کی تحریک آزادی کو مکمل سپورٹ کرے اور اس حوالے سے متحد ہو کر اپنا لائحہ عمل بنائے ۔بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ عمان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان نہتے فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے ۔تما م اسلامی ممالک کو چاہئے کہ وہ مسائل کے حل کیلئے متفقہ طور پر لائحہ عمل بنائیں ۔سربراہ عالمی امن اتحاد کونسل علامہ مشتاق حسین جعفری نے کہا کہ عالم اسلام کو کسی بھی قیمت پر قبلہ اول کے تقدس کو پامال کرنے والی قابض صیہونی ریاست کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے اور عمان کو بھی حقائق سے ہٹ کر اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے اعلان پر نظر ثانی کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل جیسی دہشت گرد ریاست کا وجود عالمی امن کیلئے خطرہ ہے ۔معراف مذہبی سکالر ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا ہے کہ عمان اور اسرائیل کے درمیان بہت عرصے سے ورکنگ ریلیشن شپ موجود ہے کیونکہ بیت المقدس کے خطیب کی تنخواہ بھی عمان حکومت ادا کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 52اسلامی ریاستوں کے ہوتے ہوئے اسرائیل دھڑلے سے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عرب بلاک اس وقت کمزور ترین پوزیشن میں ہے اور اس کے اسرائیل کے مقابلے میں ایران واضح پوزیشن لے چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمان کے درپردہ اسرائیل سے ریاستی تعلقات پہلے سے قائم ہیں اور اب اگر عمان نے ان تعلقات کو اوپن کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس میں حیرانگی والی کوئی بات نہیں ۔

مزید : صفحہ اول