قتل ، اغوا ،ڈکیتی سمیت سنگین وارداتوں کے1800واقعات کیساتھ صدر ڈویژن سر فہرست

قتل ، اغوا ،ڈکیتی سمیت سنگین وارداتوں کے1800واقعات کیساتھ صدر ڈویژن سر فہرست

لاہور(لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت میں سال رواں کے دوران قتل، اغواء، ڈکیتی اور راہزنی سمیت سنگین وارداتوں میں صدر ڈویژن نے ٹاپ کر لیا، دس ماہ کے دوران شہر میں جرائم نے نیا ریکارڈ قائم کیا اور گزشتہ سالوں کی نسبت اس قسم کے ہوشربا واقعات لاہور پولیس کے لئے چیلنج بنے رہے ہیں روزنامہ پاکستان کو محکمہ پولیس کی جانب سے جرائم کے حوالے سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال میں پولیس کی تمام تر منصوبہ بندی اور حکمت عملیوں کے باوجود قتل، ڈکیتی، راہزنی اور اغواء برائے تاوان سمیت سنگین واقعات میں تیزی رہی ہے اور اور اس میں گزشتہ دس ماہ کے دوران جان و مال سے متعلقہ جرائم نے ایک نیا ریکارڈ قائم قائم کئے رکھا ہے اور اس میں صدر ڈویژن میں سب سے زیادہ 1800 واقعات پیش آئے ہیں، جس میں جہاں 30اندھے قتل کے واقعات میں شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں وہاں ڈکیتی اور راہزنی سمیت اغواء اور گاڑیوں کے چوری و چھینے جانے کے واقعات میں تیزی رہی ہے ، اسی طرح اقبال ٹاؤن ڈویژن میں 1790 سنگین واقعات پیش آئے، جس میں 40افراد کو دیرینہ دشمنیوں پر قتل کیا گیا ہے پندرہ سو شہریوں کو کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی گاڑیوں سے محروم کیا گیا پولیس صرف 23واقعات کے ملزمان تک رسائی حاصل کر سکی ہے، اسی طرح ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں بھی قتل، ڈکیتی اور اغواء سمیت 1789 سنگین واقعات پیش آئے، سٹی ڈویژن میں 1450سنگین واقعات پیش آئے، جن میں 77شہریوں کو دیرینہ رنجش پر موت کے گھاٹ اتارا گیا، جبکہ 48شہریوں کی پر اسرار ہلاکتوں پر پولیس نے خاموشی اختیار کئے رکھی، جبکہ 5افرا د کو تاوان کے لئے اغواء کیاگیا اور اس مقصد کے لئے بنائے گئے سیل کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے جبکہ کینٹ ڈویژن میں 80شہریوں کو دیرینہ عداوت پر قتل کیا گیا جس میں پولیس کی تاحال 29واقعات میں تفتیش ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکی ہے پندرہ سو شہریوں کو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں سے محروم کیا گیا جبکہ سول لائن ڈویژن میں شاہدرہ عام پر 34شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، جبکہ دو ہزار شہریوں سے کروڑوں روپے کی لوٹ مار کی گئی اور سیف سٹی کے کیمروں کے باوجود اس ڈویژن میں لوٹ مار کا سلسلہ عروج پر رہا ہے جبکہ کینٹ ڈویژن میں جائیداد اور پرانی دشمینوں سمیت لین دین پر 81شہریوں کو بے گناہ مارا گیا اور پولیس کی تمام تر کوششوں کے باوجود27واقعات میں ملزمان تک پولیس کی گرفت میں نہیں پہنچ سکی ہے جبکہ 405شہریوں کو کینٹ ڈویژن کے تھانوں کی دود میں کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں سے محروم کیا ہے اور ڈکیتی ک پندرہ وارداتوں کے دوران شہریوں سے اڑھائی کروڑ روپے لوٹے گئے ہیں، پولیس رپورٹ کے مطابق نئے سی سی پی او اور ڈی آئی جی آپریشن کو بھی شہر میں سنگین واقعات اور امن و امان کی ناقص صورتحال کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ اس حوالے سے ایس پی سٹی ڈویژن احسن سیف اللہ کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران سنگین واقعات میں کمی رہی ہے، قتل کے واقعات میں واقعی تیزی رہی ہے، تاہم اوسطاً امن و امان کنٹرول میں رہا ہے اور رواں سال کے دوران لاہور پولیس نے اغواء برائے تاوان، ڈکیتی اور اندھے قتل سمیت سنگین واقعات کے سینکڑوں ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور ان سے کروڑوں کی ریکوری کی گئی ہے۔

مزید : صفحہ اول