جب تاریخ لکھی جائے گی

جب تاریخ لکھی جائے گی
 جب تاریخ لکھی جائے گی

  

آج کل پاکستان کی سیاسی بساط پر دونوں اطراف کے مہرے عجیب و غریب چالوں کی زد میں ہیں ، سیاسی جماعتوں کے اکابرین ایک دوسرے کے مہروں پر الزامات کے ایسے زہریلے تیر برسا رہے ہیں کہ خدا کی پناہ ، ہر سیاسی کھلاڑی اس بساط پر دوسرے کھلاڑی کے بادشاہ کو شکست فاش دینا چاہتا ہے جس کے لئے وہ ایسی نازیبا اور گھناؤنی چال چل جاتا ہے کہ جو ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے تاریخ بنیں گی تووہ نسلیں اُس تاریخ کو پڑھ کر اپنے کانوں کو ہاتھ ضرور لگائیں گی ، ویسے موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تودُنیا کی تاریخ عجیب و غریب اور دلچسپ واقعات سے بھری پڑی ہے ، ایسے واقعات کہ جو ہماری زندگی پر گہرا اثر ڈالتے یا ہم اْن سے سبق سیکھتے ہیں ،کچھ واقعات ایسے بھی ہو گزرے ہیں کہ جن کو سامنے رکھ کر اقوام نے اپنے لئے کامیابی کے راستے چْنے اور کچھ واقعات کو افسانوی یا فرضی سمجھ کر یکسر بھلا دیا گیا لیکن اْن بھلائے جانے والے واقعات کی وجہ سے بہت سی قومیں اپنی منازل سے دْور ہٹتی گئیں۔

ہم بھی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ لکھنا چاہتے ہیں جو پاکستان کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالنے کے لئے مددگار ثابت ہوسکتاہے۔1458ء سے 1511 ء تک ریاست گجرات پر حکومت کرنے والا محمد بیگدا ( محمد شاہ اول ) بلا کا بسیار خور تھا وہ روزانہ 35کلوگرام سے زائد وزن کا کھانا کھاجا تا،اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ انتہائی خطرناک زہر بھی بادشاہ کے روزانہ کے کھانوں کا حصہ ہوتا تھا،یہی نہیں بلکہ وہ زہر کی ایک مخصوص مقدار کھانا کھانے کے دوران پیتا بھی تھا۔

مورخین نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک بار کسی دْشمن نے محمد شاہ اول کو زہر دے کر مارنے کی کوشش کی تھی، دْشمن اْس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکا لیکن اس کے بعد محمد شاہ نے یہ سوچ کر کچھ مقدار میں روزانہ زہر پینا شروع کر دیا کہ اس کا جسم زہر کے خلاف قوت مدافعت پیدا کر ے اور آئندہ کوئی دْشمن اْسے زہردے کر قتل نہ کر سکے۔ آہستہ آہستہ بادشاہ استعمال کرنے والے زہر کی مقدار بڑھاتا چلا گیا، ایک وقت ایسا آیا کہ بادشاہ جو کپڑے پہنتا اور جوکھانا بچاتا تھا، وہ بھی زہریلے ہو جاتے تھے، اس وجہ سے بادشاہ کے خدام اْن کپڑوں اور بچے ہوئے کھانے کو ہاتھ نہ لگاتے تاکہ وہ زہر انہیں نقصان نہ پہنچائے،خدام اْن اشیا کو ہاتھ لگائے بغیر کسی چیز سے اْٹھا کر باہر لے جاتے اور آگ لگا کر جلا دیتے ، یہ عین ممکن ہے کہ زہر کے استعمال نے محمد شاہ اول کے بدن میں مختلف امراض پیدا کر دئیے تھے کیونکہ وہ صرف چھیاسٹھ سال کی عمر میں چل بسا،مورخین کا خیال ہے کہ وہ ریاست گجرات پر طویل ترین حکمرانی کرنے والا بادشاہ تھا جس نے53 سال تک حکومت کی۔

پاکستان کے موجودہ حکومتی نمائندے بھی اپنے سیاسی دْشمن کے وار سے بچنے اور اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے انتہائی زہریلے بیانات کا استعمال کر رہے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے بیانات سے اْن پر کوئی سزا اثر انداز نہیں ہو سکے گی ، کوئی قانون اْن کی سیاست کو ختم نہیں کر سکے گا ، اْن کا یہ بھی خیال ہے کہ ایسے بیانات جہاں اْن کی سیاست کو زندہ رکھیں گے وہاں اْن کی حکمرانی بھی زیادہ مدت تک قائم رہے گی۔ وہ حکومتی نمائندے اپنی جان ، سیاست اور اقتدار کو بچانے کے لئے زہریلے بیانات استعمال کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ایسے بیانات وقتی طور پر اْن کے اعمال اور کرتوتوں سے عوام الناس کا دھیان دوسری طرف مبذول تو کر دیں گے لیکن انہی بیانات کا زہر اْن کی سیاسی موت کا باعث بھی بنے گا۔ کچھ سیاستدان کہتے ہیں کہ اُن کے پاس بہت سے اہم راز ہیں جن پر سے وہ کسی وقت بھی پردہ اٹھاسکتے ہیں۔

دْنیا کے تمام ممالک کے حکمران اور وہاں کے عوام سب کے سامنے ہیں ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی ملک کا وزیر اعظم ایسا بیان دے جس سے ملکی سا لمیت کو خطرہ ہو ،ایسے زہریلے بیانات سے ’’ انٹرنیشنل لیول‘‘ پر سپورٹ حاصل کی جا سکتی ہے یا دوسرے اداروں کا دھیان ہٹایا جا سکتاہے ؟ لیکن ایسے بیانات ہمیشہ کا ساتھ نہیں ہوتے ، جیسا کہ ایک دن اکبر بادشاہ اپنے نورتنوں کے درمیان بیٹھا تھا۔’’ کدو ‘‘ موضوع سخن تھا، اکبر بادشاہ کہنے لگا ،سنا ہے کدو بڑی اچھی سبزی ہے؟قریب ہی بیٹھے اکبر بادشاہ کے وزیر بیربل نے تائید کرتے ہوئے کہا’’جہاں پناہ کدو تو سبزیوں کا شہنشاہ ہے،کدو تو بے شمار دوائیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ آنکھیں خراب ہوں تو کدو کا پانی آنکھوں میں ڈالیں، اگر پاوں جلتے ہوں تو تلووں پر کاٹ کر رگڑیں تلخی یا گرمی فوراً ٹھیک ہوجائے گی، دال یا گوشت میں ڈالیں، حلوہ یا رائتہ تیار کریں غرض ہر حالت میں لطف دے گا۔‘‘یہ سن کر اکبر بادشاہ کہنے لگا ’’لیکن مجھے کدو کچھ زیادہ پسند نہیں۔

‘‘بیربل نے فوراً پینترا بدلا اور بولا ’’ بجا ارشاد فرمایا عالم پناہ !کدو بھی کوئی کھانے کی چیز ہے، انتہائی بدذائقہ سبزی ہے، اسے کون کھاتا ہے؟‘‘یہ سن کر اکبر نے کہا ‘‘ تم عجیب آدمی ہو۔ ابھی کدو کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے اور جب میں نے کدو سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو اس میں کیڑے نکالنے شروع کردئیے۔‘‘بیربل نے برجستہ جواب دیا ’’جہاں پناہ میں آپ کا نمک خوار ہوں، کدو کا نہیں۔

اسی طرح جب تحریک انصاف کے کسی وزیر سے پوچھیں کہ آپ بات کرکے مکر کیوں جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ہم آپ کے نہیں بلکہ اپنے چیئر مین کے خیر خواہ ہیں وہ بات کریں یا اُس سے مکر جائیں ہم اُن کی بات پر ہی کان دھرتے ہیں ، ہمارے سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ملک کی خیر خواہی کی بات کریں پاکستان کے نمک خوار بنیں نہ کہ اپنی پارٹی کے چیئر مین کے۔

سیاستدان اپنی سیاست اور حکمرانی بچانے کے لئے بیان دیں لیکن وہ بیانات ایسے نہ ہوں کہ جس سے ملک میں انتشار پھیلے اور ملکی استحکام و سا لمیت کو خطرہ لاحق ہو اور نہ ہی ایسے بیانات ہوں کہ جن سے فوری مکرنا یا معافی مانگنا پڑے ۔

مزید : رائے /کالم