پورٹ قاسم ڈاک ورکرز کاحکومت کو تین دن کا الٹم میٹم

پورٹ قاسم ڈاک ورکرز کاحکومت کو تین دن کا الٹم میٹم

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی پریس کلب کے باہر دھرنے پر بیٹھے پورٹ قاسم ڈاک ورکرز نے مطالبات کی منظوری کے لیے وفاقی وزارت پورٹ اینڈ شپنگ کو تین دن کا الٹی میٹم دے دیاہے۔ مطالبات پورے نہ ہوئے تو مزدوروں کے ننھے بچے احتجاج کریں گے اورپھر گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق یہ الٹی میٹم ورکرز یونین آف پورٹ قاسم سی بی اے کے صدر اخلاق احمد خان، سینئر نائب صدر گل باد شاہ، جنرل سیکریٹری حسین بادشاہ، ایڈیشنل جنرل سیکریٹری عبدالواحد اور سیکریٹری انفارمیشن فضل محمود نے کراچی پریس کلب کے باہر جاری مزدوروں کے دھرنے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ جمعرات تک مطالبات نا مانے گئے تو مزدوروں کے بچے پریس کلب کے باہر مظاہرہ کریں گے۔ اخلاق احمد اور حسین بادشاہ نے کہا کہ اگر بچوں کے مظاہرے کے بعد بھی ہماری نہیں سنی گئی تو جمعے کو گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دھرنا 35 دن سے جاری ہے، ہمارے بچوں کو اسکولوں سے نکال دیا گیا ہے۔ مزدوروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں۔ چینی کمپنی ہونینگ فویون پورٹ اینڈ شپنگ پرائیویٹ لمیٹڈ نے ہماری 4 ماہ کی تنخواہیں روکی ہوئی ہیں۔ حسین بادشاہ نے کہا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی ڈاک ورکرز کے رکے ہوئے کارڈز فوری جاری کرے۔ پورٹ قاسم میں ڈاک ورکرز ایکٹ 1974 پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ڈاک ورکرز کا معاشی قتل عام بند کیا جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر