سندھ میں صاف توانائی کے فروغ کیلئے امریکی معاونت

سندھ میں صاف توانائی کے فروغ کیلئے امریکی معاونت

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امریکی قونصل جنرل جو این ویگنر نے جھمپیر میں ونڈ انرجی کاریڈور کا دورہ کیا اور وہاں امریکی سرمایہ کاری کے نتائج کا جائزہ لیا۔ قونصل جنرل نے امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کی امداد سے تعمیر کیے گئے جھمپیر 1 گرڈ اسٹیشن اور اوور سیز پرائیوٹ انویسٹمنٹ کارپوریشن (OPIC)کی مالی شراکت سے تعمیر کردہ ہوا پاور پروجیکٹ کا دورہ کیا۔توانائی کے شعبے میں امریکا اور پاکستان کے تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہوا، شمسی، ارضی حرارت اور آبی توانائی جیسے صاف توانائی کے ذرائع پر نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے دونوں ملک مل کر کام کررہے ہیں۔ امریکی قونصل جنرل ونڈ انرجی کاریڈور میں کام کی پیش رفت دیکھ کر خوش ہوئیں اور پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے علاقے میں آنے والی تبدیلی کو سراہا۔امریکی حکومت نے ونڈ انرجی کے 780 میگا واٹ کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کا ٹرانسمیشن سسٹم قائم کرنے کے لیے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC)کو معاونت فراہم کی ہے۔ یہ بجلی ڈیڑھ لاکھ سے زائد گھروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں مواقع کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکی حکومت کے ادارے OPIC نے گھارو جھمپیر ونڈ انرجی کاریڈور میں پانچ منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔توانائی کے روایتی وسائل کے مقابل میں ہوائی توانائی صاف اور سستا متبادل ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں ہوائی توانائی کی پیداور کے بھرپور مواقع ہیں جن کا تخمینہ 50 ہزار میگاواٹ لگایا گیا ہے جو پاکستان کی موجودہ پیدوار سے تقریبا دگنا ہے۔ ہوائی توانائی کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو اضافی ٹرانسمیشن لائنوں کی ضرورت ہوگی تاکہ ہوائی توانائی کے منصوبوں سے بجلی صارفین تک پہنچائی جاسکے۔ یوایس ایڈ کی 4 کروڑ 30 لاکھ ڈالر امداد کی بدولت ونڈانرجی منصوبوں میں نجی شعبے کی 1.56 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر