پاکستان کے سماجی طبقات میں تیزی ہو رہی ہے، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ

پاکستان کے سماجی طبقات میں تیزی ہو رہی ہے، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ

کراچی(پ ر) پاکستان میں ابھرتے ہوئے خوشحال صارفین کی تقریباً دو تہائی تعداد (64%) طبقاتی سطح میں اوپر کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان میں سے 11فیصد کے سماجی طبقات میں ’غیرمعمولی رفتار (supercharged)‘ سے تبدیلی رونما ہو رہی ہے جو نہ صرف گزشتہ نسل کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے بلکہ معاشرے کے دیگر طبقات میں رونما ہونے والی تبدیلی سے بھی زیادہ ہے۔دی ایمرجنگ ایفلوینٹ اسٹڈی 2018 150 کلائمبنگ دی پراسپیریٹی لیڈر (Emerging Affluent Study 2018 - Climbing the Prosperity Ladder ) میں، پورے ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰٰ سے تعلق رکھنے والے 11,000 افراد پر مشتمل ایسے ابھرتے ہوئے خوشحال صارفین (emerging affluent consumers)کے خیالات کا تجزیہ کیا گیا جو اپنی آمدنی سے بچت کر سکتے تھے اور سرمایہ کاری بھی کر سکتے تھے۔ان مارکیٹوں سے تعلق رکھنے والے ابھرتے ہوئے خوشحال افراد، جن کے درمیان طبقاتی تبدیلی تیزی سے رونما ہوئی ہے، ان کا تناسب 59 فیصد ہے اور ان میں سے 7 فیصد ایسے افراد ہیں جن کے درمیان طبقاتی تبدیلی غیرمعمولی تیزی سے رونما ہوئی ہے۔اس اسٹڈی کے مطابق پاکستان میں طبقاتی تبدیلی کے حوالے متحرک طبقہ کی آمدنی میں اضافہ متاثر کن ہے جن میں سے تقریبا نصف (44%) کی تنخواہوں میں ،گزشتہ سال کے مقابلے میں ،10 فیصد یا اس سے زیادہ کا اضافہ ہوا جب کہ ایک تہائی سے زیادہ (34%) کی آمدنی میں ، گزشتہ پانچ برسوں کے دوران،50فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔اس اسٹڈی کے مطابق،پاکستان کے جن لوگوں میں طبقاتی تبدیل رونما ہو رہی ہے وہ تعلیمی اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور ان میں روزگار کے حصول اور، اپنے والدین کے مقابلہ میں، ذاتی گھر کی شرح بھی زیادہ بہتر ہے۔ایسے افراد میں سے 89فیصد نے یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم حاصل کی، جب کہ ان کے والدین میں سے صرف 66 فیصد اس سطح تک تعلیم حاصل کر سکے تھے ، جب کہ ماؤں کی شرح نصف (49%) سے بھی کم ہے۔ مزید برآں، ان افراد میں سے 83فیصد منیجمنٹ پوزیشنز پر ہیں یا پھر اپنا ذاتی کاروبار چلا رہے ہیں جب کہ ان والدین کی تعداد محض 65 فیصدہے جس میں سے ماؤں کا تناسب صرف 28فیصد تھا۔علاوہ ازیں، جن لوگوں میں طبقاتی تبدیلی رونماہوئی ہے ان میں سے 88فیصد اپنے ذاتی گھر کے مالک ہیں جب کہ ، اسی عمر میں، ان کے والدین میں سے صرف 81 فیصد کے پاس ذاتی گھر تھے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر