شہباز شریف کو تاخیر سے پارلیمنٹ لانے پر متحدہ اپوزیشن کا احتجاج ، واک آؤٹ

شہباز شریف کو تاخیر سے پارلیمنٹ لانے پر متحدہ اپوزیشن کا احتجاج ، واک آؤٹ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،آئی این پی)قومی اسمبلی اجلاس میں قومی احتساب بیورو(نیب)کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بروقت پارلیمنٹ ہاؤس نہ پہنچانے پر اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیااور ارکان اجلاس کی کارروائی کا بائیکا ٹ کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے،مسلم لیگ(ن)کے رکن رانا تنویر حسین نے کہا کہ سپیکر کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود نیب اپوزیشن لیڈر کو اجلاس شروع ہونے سے قبل لیکر نہیں آئی،یہ ایوان اگر اپنے پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہیں کروا سکتا تو ہمارا یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے 2پہیے ہیں،اگر ایک پہیہ ایوان کی کارروائی کو چلنے نہیں دے گیا تو پورا نظام متاثر ہوگا،ایوان کی کارروائی چلنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ضرورت ہے،سپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کے پروڈکشن آرڈر جاری کر کہ اپنی ذمہ داری پوری کی،حکومت کو بردباری اور اپوزیشن کو ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے جبکہ سپیکر اسد قیصر نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد کو ہدایت کی کہ وہ اپوزیشن کو منا کر ایوان میں واپس لائیں۔بعد ازاں نیب کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچانے پر اپوزیشن نے ایوان کا بائیکاٹ ختم کر دیا۔پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا تو نیب کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بروقت پارلیمنٹ میں نہ لانے پر احتجاج کیا۔مسلم۔لیگ(ن)کے رانا تنویر حسین نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے گئے،قومی اسمبلی کا اجلاس 4بجے شروع ہونا تھا مگر تاخیر سے شروع ہوا،تاحال نیب حکام اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پارلیمنٹ نہیں لائے جو زیادتی ہے،انہوں نے کہا کہ اگر سپیکر صاحب آپ اپنے ہی جاری کئے گئے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہیں کروا سکتے تو ہمارا یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔اس موقع پر اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اپوزیشن لیڈر کو بروقت قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہ لانے پر احتجاجا واک آٹ کیا۔اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپیکر کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کر کہ اپنی ذمہ داری پوری کی گئی،اس سے قبل بھی اپوزیشن لیڈر ایوان میں تشریف لائے،اپوزیشن لیڈر نے ایوان میں آکر اپنا نکتہ نظر بیان کیا،حکومت کو اپوزیشن لیڈر کے ایوان میں آنے پر کوئی اعتراض نہیں،شہبازشریف ایوان میں آئیں اور اپنا نکتہ نظر بیان کریں جو انکا آئینی حق ہے،اپوزیشن واک آٹ کر کے ایوان کی کارروائی نہ روکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے 2پہیے ہیں،اگر ایک پہیہ ایوان کی کارروائی کو چلنے نہیں دیا گیا تو پورا نظام متاثر ہوگا۔میری اپوزیشن سے درخواست ہے کہ ایوان کا چلنا حکومت کیساتھ ساتھ اپوزیشن کی بھی ضرورت ہے،اپوزیشن احتجاج ضرور کرے مگر پورے ایوان کو بے معانی نہ کرے۔اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد کو ہدایت کی کہ وہ اپوزیشن کو منا کر ایوان میں واپس لائیں۔بعد ازاں نیب کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچانے پر اپوزیشن نے ایوان کا بائیکاٹ ختم کر دیا۔

قومی اسمبلی

اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر ،صباح نیوز) سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیر کو گرفتار اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف سے ملاقات کی اور اپوزیشن لیڈر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا آصف علی زرداری، محمد شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری اکٹھے ایوان میں آئے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے انتہائی زور دار طریقے سے ڈیسک بجا کر اپنے قائدین کا خیر مقدم کیا آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کی لابی میں اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف سے ملاقات کی ان کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے اظہار یکجہتی کیا پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلٰی قیادت نے بھی اپوزیشن لیڈر کو تاخیر سے پارلیمینٹ لانے پر نیب کے رویہ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کو مشترکہ حکمت عملی کی یقین دہانی کروا دی ہے آصف علی زرداری شہبازشریف اور بلاول بھٹو زرداری اکٹھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے خیر مقدمی ڈیسک بجائے۔ دریں اثنا میاں شہباز شریف نے کہا ہے آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات اچھی رہی ملاقات میں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ،آج پارٹی مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گاپولی کلینک ہسپتال میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کا طبی معائنہ کیا گیا، وہ 40 منٹ تک ہسپتال میں رہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا طبی معائنہ کیا اور ان کے خون کے نمونے لئے، بعد ازاں وہ پارلیمنٹ ہاؤس چلے گئیحکومت اپوزیشن جماعتوں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور متحدہ مجلس عمل کے 11نو منتخب ارکان نے حلف اٹھالیا شاہد خاقان عباسی حلف نہ اٹھا سکے خواجہ سعد رفیق اور مسلم لیگ (ن) کے تینوں ارکان نے الگ سے حلف اٹھایا وزیر اعظم نواز شریف ایک واری فیر شیر آیا شیر آیا نعرے لگائے پاکستان تحریک انصاف ، مسلم لیگ (ق) اور متحدہ مجلس عمل کے ضمنی انتخابات میں کامیاب حلف اٹھانے والے ارکان میں عالمگیر خان، آفتاب حسین صدیقی، چودھری مونس الہٰی ، چودھری سالک حسین ، شیخ راشد شفیق، منظور حیات، زاہد اکرم درانی ، علی نواز اعوان شامل ہیں ان ارکان نے پیر کو اجلاس کے آغاز میں حلف اٹھایا نماز مغرب کے وقفہ کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نو منتخب ارکان خواجہ سعد رفیق، علی گوہر بلوچ، اور ملک سہیل خان نے حلف اٹھایا ۔

ملاقات

مزید : کراچی صفحہ اول