شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 10دن روسیع ، عدالت کے باہر کارکنوں اور پولیس میں ہاتھا پائی

شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 10دن روسیع ، عدالت کے باہر کارکنوں اور پولیس ...

لاہور(خبرنگار،آئی این پی) احتساب عدالت نے آشیانہ ہا ؤسنگ کیس میں گرفتار سابق وزیراعلی پنجاب اور مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 10 دن کی توسیع کرتے ہوئے 3روزہ راہداری ریمانڈ بھی منظور کرلیا، شہباز شریف نے عدالت میں پہلی نیلامی کیلئے ہونے والی میٹنگ کے منٹس بھی عدالت میں پیش کردیئے ۔ احتساب عدالت میں گزشتہ روز آشیانہ ہا ؤ سنگ کیس کی سماعت ہوئی اس موقع پر شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ ان کے ہمراہ پیش ہوئے جبکہ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی عدالت میں موجود تھے۔شہباز شریف نے کمرہ عدالت میں دستاویزات کا جائزہ لیا اور اپنی صفائی میں خود دلائل دیئے۔سابق وزیراعلی پنجاب نے عدالت کے روبرو کہا کہ انہیں جھوٹے کیسز میں ملوث کیا گیا اور نیب حکام انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ انہیں بلڈ کینسر ہے لیکن ان کا چیک اپ بھی نہیں کروایا جا رہا۔انہوں نے عدالت کے روبرو کہا میں موت کے منہ سے واپس آیا، اللہ بہت بڑا ہے اس نے مجھے صحت دی، میں نے ایک ہفتہ پہلے نیب سے درخواست کی کہ میرا خون کا ٹیسٹ کرائیں، میں نے بار بار یاددہانی کرائی، لیکن مجھے بتایا گیا کہ ہم نے اوپر بتا دیا ہے، جب حکم آئے گا تو بتادیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ میری ضرورت ہے کہ میں ڈاکٹر سے مکمل چیک اپ کراتا رہوں۔سابق وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ دشمن ملک بھارت کے ایجنٹ کلبھوشن کو فیملی سے ملاقات کی اجازت ملی، لیکن مجھے فیملی سے ہفتہ وار ملاقات بھی کرنے نہیں دی جارہی۔اس موقع پر نیب کے وکیل نے اعتراض کیا، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ 'میں انسان ہوں، ایک پاکستانی ہوں، لوگوں کواپنی رائے بیان کرنے دیں۔سابق وزیراعلی پنجاب نے کہااللہ تعالی کی عدالت سب سے بڑی ہے، میں نے صوبے کی خدمت کی ہے اگر یہ جرم ہے تو میں کرتا رہوں گا۔شہباز شریف نے کہا کہ میرے حقوق ہیں جو مجھے نہیں دیئے جارہے، میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، لیکن یہ وقت انشا اللہ گزر جائیگا ۔دوران سماعت شہباز شریف نے جج کے سامنے ایک شعر کا مصرع یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں بھی پڑھا۔اس موقع پر نیب وکیل نے اعتراض کیا کہ 'شہباز شریف اپنے خلاف الزامات کا خود عدالت میں جواب دے رہے ہیں۔تاہم نیب وکیل کے بار بار بولنے پر احتساب عدالت کے جج نے شہباز شریف کو ہدایت کی کہ آپ کھل کر بات کریں۔شہباز شریف نے کہا میں نے کامران کیانی کا راز قومی اسمبلی میں کھول دیا، میں عدالت میں ثبوت کے ساتھ بات کروں گا۔شہباز شریف نے عدالت میں پہلی نیلامی کیلئے ہونے والی میٹنگ کے منٹس بھی عدالت میں پیش کردیئے اور کہا کہ دسمبر 2013 سے اکتوبر 2014 تک کی کارروائی ہے اور میں 27فروی 2014کے منٹس پڑھ کر سنا رہا ہوں۔انہوں نے کہا پچھلی مرتبہ بھی کہا تھا کہ میں نے پہلی بڈنگ کینسل نہیں کی، دسمبر 2014میں دوبارہ بڈنگ ہوئی جو پی ایل ڈی سی نے کی، میں نیکامران کیانی کا ٹھیکہ کینسل کیا، 50بڈز آئیں میں نے سپورٹ کیا اور علاالدین کی تعریف کی۔شہباز شریف نے کہا کہ پچھلے ریمانڈ میں بھی نیب نے دوسری بڈنگ کی بات کی تھی پھر انہوں نے ڈنڈی ماری اور عدالت کو غلط بتایا۔سابق وزیراعلی پنجاب نے پنجاب پبلک پارٹنرشپ کی دستاویزات بھی عدالت میں پیش کردی اور کہا کہ 'میں نے 25دن میں صاف پانی اور آشیانہ سکیم میں سب الزامات کلیئر کردیئے۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف غلط بات کررہے ہیں، وہ 2 مرتبہ وزیراعلی پنجاب رہ چکے ہیں۔تاہم شہباز شریف نے کہا کہ یہ غلط بات کر رہے ہیں میں تین مرتبہ وزیراعلی پنجاب رہ چکا ہوں ۔نیب پراسکیوٹر نے کہا شہباز شریف کو جواب دینے کی بجائے سوال کرنے کی عادت ہے ۔سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 15روز کی توسیع کرنے کی استدعا کی۔وکیل نیب نے مزید استدعا کی کہ شہباز شریف کے قومی اسمبلی اجلاس کے سلسلے میں پروڈکشن آرڈر جاری ہوچکے ہیں لہٰذاعدالت شہباز شریف کا راہداری ریمانڈ بھی منظور کرے۔تاہم شہباز شریف کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ سے متعلق نیب کی درخواست کی مخالفت کردی۔وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع نہیں ہونی چاہیے ۔جس کے بعد احتساب عدالت نے جسمانی ریمانڈ میں توسیع سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا اور کچھ دیر بعد فیصلہ سناتے ہوئے شہباز شریف کو مزید 10روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا۔دوسری جانب عدالت نے شہباز شریف کا 3 روزہ راہداری ریمانڈ بھی منظور کرتے ہوئے سماعت 7نومبر تک کیلئے ملتوی کردی۔سماعت کے بعد شہباز شریف کو سفید رنگ کی گاڑی میں احتساب عدالت سے نیب آفس منتقل کردیا گیا۔دوران سماعت شہباز شریف کے وکلا اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز نے احتساب عدالت کے باہر سکیورٹی انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔وکلا نے کہاکہ احتساب عدالت کے باہر کرفیو لگا دیا گیا اور ہمیں تک اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔قبل ازیں میاں شہباز شریف کی احتساب عدالت پیشی کے دوران خاتون وکیل کے شہباز شریف کے حق میں بولنے پر کمرہ عدالت قہقوں سے گونج اٹھا۔جس پر جج نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں پتہ ہے آپ بھی یہاں موجودہیں، جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔میاں شہباز شریف کی احتساب عدالت لاہور میں پیشی کے بعد حمزہ شہباز نے ان سے ملاقات کی، حمزہ شہباز نے اپنے والد سے ان کی طبیعت کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے شہباز شریف سے بلڈ ٹیسٹ کے حوالے سے پوچھا جس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ابھی تک بلڈ ٹیسٹ سمیت کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا، حمزہ شہباز نے شہباز شریف کا طبی معائنہ نہ کرانے پرتشویش کا اظہار کیا۔اس موقع پر میاں شہبا زشر یف نے حمزہ سے سلمان کے بارے میں دریافت کیا ۔جس پرحمزہ نے والد کو بتایا کہ سلمان لندن چلے گئے ہیں،مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کی احتساب عدالت پیشی پر سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور دیگر کارکنوں کو احتساب عدالت کے احاطے میں جانے سے روکنے پر لیگی کارکنوں اور پولیس میں ہاتھا پائی ہو گئی ۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن)کے کارکنوں نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی۔ پولیس نے لیگی کارکنوں کو پیچھے دھکیلنے کیلئے لاٹھی چارج کیا۔ پولیس کے لاٹھی چارج سے پرویز ملک ،خواجہ عمران نذیر اور وحید گل زخمی ہو گئے،پولیس کے تشدد سے زخمی ہونے والے پرویز ملک اور وحید گل بے ہوش ہو گئے۔

شہبازشریف ریمانڈ

مزید : کراچی صفحہ اول