آئی جی نے میری بات پر عمل نہیں کیا،چیف جسٹس بلائینگے تو جاؤنگا اعظم سواتی گرفتار 12سالہ بچہ رہا

آئی جی نے میری بات پر عمل نہیں کیا،چیف جسٹس بلائینگے تو جاؤنگا اعظم سواتی ...

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر اعظم سواتی نے کہاہے کہ میرے تین ملازمین کو بے دردی سے مارا گیا جس کی شکایت متعلقہ حکام کو کی اور اب چیف جسٹس نے نوٹس لیا ہے اگر وہ بلائیں گے تو پیش ہوجاؤں گا۔ایک انٹرویومیں سینیٹر اعظم سواتی کا ملازمین پر تشدد کے حوالے سے کہنا تھا کہ ان کے تین چوکیداروں کو بیدردی سے مارا گیا جو اس وقت بھی پمز میں داخل ہیں، کیا قانون انہیں تحفظ فراہم نہیں کرتا ٗمیں چیف جسٹس کے سامنے پیش ہوں گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ قبضہ کر کے رہنے والوں نے میری زندگی اور فیملی کو دھمکیاں دیں اور چوکیدار کو کہا گیا کہ آپ کو اور آپ کے خان کو بم رکھ کر اْڑایا جائے گا۔اعظم سواتی نے کہا کہ میں نے ڈی ایس پی، ایس ایس پی اور پھر آئی جی کو فون کیا اور دھمکیوں سے متعلق بتایا تاہم بار بار کال کرنے کے باوجود 22 گھنٹے تک میری بات پر عمل نہیں ہوا۔سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ قانون اور بحیثیت شہری میری حفاظت کا ادراک آئی جی اسلام آباد نے نہیں کیا، میں آئی جی کے خلاف عدالتی یا محکمانہ انکوائری کی استدعا کروں گا۔اعظم سواتی کے مطابق انہوں نے چوکیداروں پر حملے سے متعلق وزیراعظم کو موبائل پیغام بھیجا اور وزیرداخلہ کو بھی تحریری درخواست دی۔دوسری طرف وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹر اعظم سواتی کے بیٹے کی جانب سے تھانہ شہزاد ٹان میں درج کروائے گئے مقدمے کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے 12 سالہ بچے کو پولیس نے رہا کردیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا الدین نے بتایا کہ وہ جمعے کی نماز پڑھنے گیا ہوا تھا کہ ان کی گائے فارم ہاؤس میں چلی گئی، جہاں کے ملازمین نے اسے وہیں باندھ دیا۔ضیا الدین کے مطابق جب اس نے گائے واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو ملازمین نے کہا کہ خان نے گائے باندھی ہے، اسی سے واپس لو۔بچے کے مطابق ہم اپنی گائے کھول کر واپس آئے تو یہ لوگ ڈنڈے لے کر ہمارے گھر آگئے اور انہوں نے میری ماں اور بہن کو مارا پیٹا اور بعدازاں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں ہمارے خلاف درخواست دے دی۔

مزید : کراچی صفحہ اول