نوجوانوں میں ون ویلنگ کا بڑھتاجنون انسانی جانوں کو نگلنے لگا

نوجوانوں میں ون ویلنگ کا بڑھتاجنون انسانی جانوں کو نگلنے لگا

نوجوانوں میں موٹر سائیکل کی ون ویلنگ کا روز بروز بڑھتا ہوا جنون نہ صرف ٹریفک حادثات کی شرح میں اضافے کا سبب بن رہا ہے بلکہ قیمتی انسانوں جانوں کا ضیاع بھی معمول بن گیا ہے سڑکوں اور گنجان علاقوں میں ون ویلنگ کر کے قانون کا مذاق اڑاتے منچلے نوجوان ٹریفک پولیس کیلئے چیلنج بن چکے ہیں سکولز اور کالجز کے طالبعلم اپنے موٹر سائیکلوں کی بانسریاں نکال کر نہ صرف سڑکوں پر طوفان بدتمیزی برپا کرتے نظر آتے ہیں بلکہ ون ویلنگ کا جنون انہیں بیشتر اوقات ہسپتال تک پہنچا دیتا ہے ہیلمٹ کی پابندی پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث موٹر سائیکل سوار سب سے زیادہ حادثات کا شکار ہوتے ہیں ٹریفک پولیس صورتحال کا تدارک کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے بے ہنگم ٹریفک نظام نے پہلے ہی شہریوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے اہم ترین صنعتی اور کاروباری شہر ہونے کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھنا عام بات ہے مگرنظام کو رواں دواں رکھنا ٹریفک پولیس کا بنیادی فرض ہے ٹریفک حادثات کے باعث لڑائی جھگڑے خاندانی دشمنوں میں تبدیل ہو رہے ہیں سکولز اور کالجز کی چھٹی کے اوقات میں فوارہ چوک ‘ پرنس چوک ‘ جی ٹی ایس چوک ‘ نواب چوک ‘ سرکلر روڈ پر صورتحال اس قدر اذیت ناک ہو جاتی ہے کہ چند فٹ پیدل چلنا بھی دوبھر ہو جاتا ہے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے جگہ جگہ تجاوزات اور رانگ پارکنگ نے رہی سہی کسر پوری کر رکھی ہے سرکلرروڈ پر غیر قانونی پارکنگ اور چنگ چی اڈوں کے باعث ٹریفک جام رہنا معمول ہے نواب چوک سے چوک پاکستان ‘ شاہ فیصل گیٹ سے جی ٹی ایس چوک‘ ریلوے روڈ ‘ اور سرگودھا روڈ سمیت دیگر گنجان علاقوں میں فٹ پاتھوں پر دوکانداروں کا قبضہ ‘ اور جگہ جگہ غیر قانونی پارکنگ نے ٹریفک نظام کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے فوارہ چوک سے پرنس چوک تک غیر قانونی فوڈ سٹریٹ بھی ٹریفک نظام کو مفلوج بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے چنگ چی اور رکشہ والے سائلنسر نکال کر گاڑیاں چلا رہے ہیں اور جس علاقے سے کوئی چنگ چی گزر جائے اس علاقے کے لوگ کانوں میں انگلیاں دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں بسوں اور ویگنوں میں اوولوڈنگ کا سلسلہ عروج پر ہے ٹرانسپورٹر اپنی من مرضی سے کرایہ بڑھاتے ہیں دھواں چھوڑنے والے گاڑیاں ‘ اوورلوڈنگ اور زائد کرایہ وصول کرنے کی شکایات تو عام ہیں مگر سڑکوں پر ون ویلنگ کا بڑھتا جنون ٹریفک پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے گجرات میں وارڈن سسٹم شروع ہونے کے باوجود ٹریفک نظام کا بگڑا قبلہ درست نہیں ہو سکا بلکہ حالات مزید ابتری کی طرف گامزن ہیں افسران و ملازمین ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں ماضی میں ٹریفک پولیس بے ہنگم نظام اور ٹریفک جام کا ذمہ دار کارپوریشن اور کارپوریشن ٹریفک پولیس پر الزامات عائد کرتی رہی ہے تجاوزات اور ٹریفک کی بدترین صورتحال نے شہریوں کو سخت ذہنی میں مبتلا کر رکھا ہے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے جی ٹی روڈ اور ہائی وے سمیت اندرون شہر بدترین حادثات میں لاتعداد انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اوورسپیڈ‘ اوورلوڈنگ‘ رانگ ٹرنز‘ٹریفک سگنل توڑنے جیسے واقعات حادثات کا سبب بنتے ہیں کمسن اور نوعمر لڑکوں کی بڑی تعداد جن کے پاس ڈرائیورنگ لائسنس تو دور کی بات شناختی کارڈ تک موجود نہیں سڑکوں پر چنگ چی اور رکشے دوڑاتے نظر آتے ہیں یہی اناڑی ڈرائیور حادثات کا سبب بنتے ہیں ضرورت اس امر ہے کہ غیر لائسنس یافتہ افراد کے چنگ چی اور رکشہ چلانے پر پابندی عائد کی جائے ون ویلنگ کے جنون پر قابو پانے کیلئے موثر حکمت عملی اور آگاہی مہم چلائی جائے اس سلسلہ میں تعلیمی اداروں کے سربراہان ‘ اور محکمہ تعلیم سے بھی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے ۔

مزید : ایڈیشن 1