خیبر پختونخوا پولیس نے198 خطرناک بم ناکارہ بنائے

خیبر پختونخوا پولیس نے198 خطرناک بم ناکارہ بنائے

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکاروں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے صوبے میں رواں سال دہشت گردی کے کئی ایک خطرناک منصوبے ناکام بنادیئے ہیں۔ اس یونٹ نے رواں سال 198 بم ناکارہ بنادیئے ہیں۔ واضح رہے کہ بی ڈی یو پوسٹ بلاسٹ انوسٹی گیشن کے سلسلے میں عدالت کو قانونی رائے بھی دیتے ہیں۔اس یونٹ نے سال رواں میں 238 قانونی رائے انسداددہشت گردی عدالت کو دے چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس یونٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو جدید آلات سے لیس کردیا گیا ہے۔ اس کے جوانوں نے بھی مشکل گھڑی میں اپنی قیمتی جان خطرے میں ڈال کر وابستہ توقعات سے بڑھ کر اپنے فرائض کو عبادت سمجھ کر انجام دیئے ہیں۔ اور فورس کے شہدا میں برابر اپنا نام درج کردیا ہے۔ اس یونٹ کی پروفیشنل استعدادی صلاحیتوں کی بدولت وفاقی گورنمنٹ نے بھی چند کیسوں میں اس یونٹ کی خدمات حاصل کی ہیں جن میں اقوام متحدہ ٹیم کی محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی کیس، کراچی میں سال 2009 میں محرم جلوس میں خودکش حملہ،سری لنکن ٹیم پر حملے کے سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ کی معاونت، اخروٹہ آباد کیس میں وفاقی کمیشن کی مدد، وزیراعلیٰ بلوچستان پر حملہ،کاؤنٹر آئی ای ڈی سٹرٹیجی فار پاکستان کی تیاری میں معاونت، تمام پاکستان کے اے ٹی سی ججوں کی فارنزک ٹریننگ اور 2016 میں کوئٹہ میں دھماکے کی تحقیقات میں سپریم کورٹ کی مدد کی ہے۔بی ڈی یو کی کارکردگی بہتر بنانے کی عرض سے نوشہرہ میں پولیس سکول آف ایکسپلوزیو ہینڈ لنگ کا قیام سال 2015 میں عمل میں لایا گیا ہے۔ جس میں جوانوں کو ایکسپلوزیو ہینڈ لنگ سے متعلق ایک اور دو ہفتوں پر مشتمل کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جن میں 129کورسز میں اب تک 3053 پولیس افسروں و جوانوں بشمول 86 خواتین کو بنیادی تربیت دی گئی ہے۔اس سکول میں ایکسرے مشین، ہکس اینڈ لائن کٹ ، آئی ای ڈی آپریٹرز ٹول کٹ، واٹر ڈسرپٹر بمعہ واٹر گولے، مائن ڈیٹیکٹر، ہینڈ ہلڈ میٹل ڈیٹیکٹر ، ایکسپوزیو ڈیٹیکٹر ، ای اُو ڈی سوٹ، جیمرز، بلاسٹنگ مشین ،الیکٹرک کیبل ، فنگر پرنٹ کٹ ، پوسٹ بلاسٹ انوسٹی گیشن کٹ اور کارڈن ٹیپ شامل ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1