والدین کے سامنے جوان بیٹے کا بہیمانہ قتل

والدین کے سامنے جوان بیٹے کا بہیمانہ قتل

تحریر : محمد ارشد شیخ

ضلع شیخوپورہ کے گاؤں ڈیرہ گجراں علاقہ تھانہ فاروق آباد میں پیش آیا جہاں مورخہ 13.07.2018 کو دن تقریبا پونے دو بجے گاؤں لونگووال کے رہائشی ریاست علی اپنی بیوی حلیمہ بی بی اپنی موٹرسائیکل پر سوار ہو کر براستہ ڈیرہ گجراں فاروق آباد جا رہے تھے جبکہ ان کا بیٹا ساغر صدیقی جس کی عمر تقریبا 19 سال بیان کی گئی ہے بھی اپنی علیحدہ موٹر سائیکل پر سوار ان کے ہمراہ تھا حلیمہ بی بی زوجہ ریاست علی کی طرف سے ڈی پی او سردار غیاث گل کو دی جانے والی تحریری درخواست میں بیان کیا گیا کہ جب وہ تینوں ڈیرہ گجراں کے قریب پہنچے تو مقامی رہائشی ملزم مبارک علی ولد الف دین جو کہ اسلحہ سے مسلح تھا اپنے دیگر مسلح ساتھیوں اسامہ ولد مبارک ،بشارت ولد شریف ،اور دیگر چار نامعلوم افراد کے ہمراہ راستے میں موجود تھے جنہوں نے نوجوان ساغر صدیقی کو گن پوائنٹ پر روک لیا اسلحہ کے زور پر دبوچ کر ہمارے بیٹے کو تشدد کرتے ہوئے مبارک علی گجر کے گھر کے اندر لے گئے ہم بھی اپنے بیٹے کو ملزمان کے چنگل سے چھڑانے کی غرض سے مبارک کے گھر میں داخل ہو گئے جہاں ملزمان نے ہمارے بیٹے پر شدید تشدد شروع کر دیا ملزم بلند آواز میں کہہ رہے تھے کہ تم ہماری عورت جمیلہ کے پیچھے آتے ہو اس کا مزا آج تمہیں چکھاتے ہیں اور تمام ملزمان نے پسٹل ہمارے بیٹے پر تان لئے اور ہمارے پاس آنے پر ہمیں بھی اسلحہ سے ڈرا کر گھر سے باہر نکلنے کا کہا ہم ڈرے اور سہمیپیچھے ہی رک گئے اسی دوران ملزم مبارک نے اپنے دستی پسٹل کا فائرمارا جو میرے بیٹے کے سر پر پچھلی سائیڈ پر لگا جبکہ دیگر ملزمان میں سے بشارت نے میرے بیٹے کی چھاتی پر سیدھا فائر مارا ،ملزم اسامہ نے بیٹے کے پیٹ میں فائر مارا جس سے ہمارہ بیٹا زمین پر گر گیا اسی دوران ملزمان نے تیش میں آ کر مزید فائرنگ کی جو مسمات جمیلہ بی بی کو چھاتی وکمر پر فائر لگے جبکہ مسمات ثوبیہ بی بی کو بھی فائر لگے جس سے وہ دونوں بھی شدید زخمی ہو گئیں ملزمان للکارے مار رہے تھے کہ جمیلہ اور ساغر کو جان سے مار دو کیوں کہ انہوں نے ہماری عزت کا جنازہ نکال دیا ہے ملزمان چند منٹ میں تمام وقوعہ سر انجام دینے کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے ہم گاؤں کے دیگر افراد کی مدد سے تمام مضروبان کو شدید مضروبی حالت میں ہسپتال لے کر گئے جہاں ڈاکٹروں نے بیٹے ساغر کو شدید تشویشناک حالت کے پیش نظر لاہور ہسپتال ریفر کر دیا جو اگلے روز زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے جان بحق ہو گیا درخواست دہندہ کا کہنا ہے کہ جوان بیٹے کی موت کی وجہ سے حواس باختہ رہے اس دوران پولیس نے روائتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان سے ساز باز کر کے جھوٹے واقعات بنا کر اس وقوعہ کی بابت مقدمہ نمبر 96/18 بجرم 302/324/34 ت پ تھانہ صدر فاروق آباد میں درج کر لیا جس میں پولیس ملازمین منظور احمد ایس آئی، لیاقت علی ، ریاض احمد، ناصر علی کنسٹیبلان نے ملزمان سے ملی بھگت کر کے مقدمہ میں مدعی ہمیں بنانے کے بجائے اس سارے وقوعہ کی مدعی خود ہی بن گئی اور غلط واقعات ترتیب دیکر مقدمہ کو خراب کرنا شروع کر دیا مقدمہ ھذٰا کی تفتیش ہومی سائیڈ سب انسپکٹر رانا انیس کے سپرد کی گئی ہے جو ہماری بات تک سننے کو تیار نہیں مقتول ساغر صدیقی کے والدین ریاست علی ،حلیمہ بی بی نے بتایا کہ وہ پچھلے دو ماہ سے تھانہ اور کچہری کے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں اور اپنے بیٹے کے قتل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ مانگ رہے ہیں پولیس ہمیں پوسٹ مارٹم رپورٹ تک نہیں دے رہی مقتول کے والدین کا کہنا ہے کہ تھانہ فاروق آباد میں تعینات ایک تھانیدار نے ہمارے بیٹے کے قتل کا مقدمہ تباہ کر کے رکھ دیا اس حوالے سے ڈی پی او شیخوپورہ سردار غیاث گل کو چاہئے کہ جہاں انہوں نے ضلع شیخوپورہ میں بے شمار احسن اقدام کئے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اس مقدمہ میں بھی خصوصی توجہ دیتے ہوئے اس سنگین نوعیت کے واقعہ کی از خود چھان بین کرتے ہوئے اس سارے معاملہ میں ملوث تھانہ فاروق آباد کے وہ پولیس ملازمین جنہوں نے اس واردات کے بعد شواہد اکھٹے کئے نعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ڈیڈ ہاؤس لے کر آئے اور مقتول کے ورثاء کو مدعی مقدمہ بنانے کے بجائے خود ہی اس واقعہ کے مدعی بن بیٹھے ان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے اس سنگین واردات کی بابت مقتول ساغر صدیقی کے والدین کو مقدمہ کا مدعی بنائیں تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہو سکیں اس حوالہ سے مقتول ساغر کے والد ریاست علی کا کہنا ہے کہ جس عورت(ج) کا میرے بیٹے مقتول ساغر سے مراسم کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کی عمر 50 سال کے قریب ہے اور میرے مقتول بیٹے کی عمر 20 سال بھی کم ہے اس نے بتایا کہ وہ تھانہ فاروق آباد کے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں مگر پولیس ڈرا دھمکا رہی ہے کہ تمہارے بیٹے نے گھر کے اندر داخل ہو کر فائرنگ سے جمیلہ ، وغیرہ کو زخمی کیا اور بعد میں خود کشی کر لی حالانکہ جو مقدمہ تھانہ میں درج کیا گیا ہے اس میں بھی پولیس نے تحریر کیا ہے کہ میرے بیٹے کے تین فائر لگے جن میں ایک سر کے پیچھے والی سائیڈ ،ایک چھاتی میں اور ایک پیٹ میں لگا ہے خود کشی کرنے والا چھاتی میں خود فائر مارنے کے بعد اگلے ہی لمحے سر کی بیک سائیڈ پر فائر نہیں مار سکتا میرے بیٹے کے جہاں جہاں فائر لگے ہیں وہ خود اپنے آپ کو مار ہی نہیں سکتا ہے مقتول کی والدہ نے بتایا کہ میرا بیٹا مزدور تھا اور مزدوری کر کے گھر کی کفالت کرتا تھا جسے ظالموں نے نا کردا گناہ کے شک میں موت کے گھاٹ اتار دیا انہوں نے بتایاکہ ملزمان اپنے گھر بار چھوڑ کر گاؤں سے فرار ہو چکے ہیں اور پولیس پچھلے دو ماہ سے اسی بات پر رکی ہوئی ہے کہ مقتول ہی ملزم ہے جبکہ جرم کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں اور ہمیں شک ہے کہ اگر پولیس نے ان کے خلاف گیرہ تنگ نا کیا تو وہ ہمارے گھر کے دیگر افراد کو بھی جانی نقصان پہنچا ئیں گے مقتول والدہ نے روتے ہوئے ڈی پی او سردار غیاث گل سے اپیل کی ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے انہیں اس مقدمہ کا مدعی بنائیں اور اس واردات میں ملزم افراد مبارک علی ولد الف دین ، اسامہ ولد مبارک ،بشارت ولد شریف ،اور دیگر چار کس نامعلوم افراد کو گرفتار کر کے وقوعہ کی خود انکوائری کریں اور ہماری داد رسی فرمائیں ۔

ڈی پی او سردار غیاث گل انتہائی فرض شناس اور دبنگ قسم کے پولیس آفیسر ہیں انہوں نے ضلع کی پولیس کو بے لگام بلکل بھی نہیں چھوڑا مگر بعض تھانیدار ڈی پی او کی تمام تر کاوشوں پر پانی پھیرنے کی کوشش میں رہتے ہیں بعض پولیس ملازمین سے لاپرواہی کی وجہ سے ایسے کام ہو جاتے ہیں کہ جس سے پولیس کے ضلعی سربراہ کو جواب دہ ہونا پڑنا ہے مگر بعض پولیس ملازمین جان بوجھ کر ایسا کام کرتے ہیں جس سے پورے پولیس ڈیپارٹمنٹ کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کیا ہرج تھا کہ مقتول ساغر صدیقی کے قتل کے مقدمہ میں اس کے والدین کو مقدمہ کا مدعی بنایا جاتا اور تفتیش کومیرٹ پر کرتے ہوئے فرض شناسی کی مثال بتایا جاتا مگر تھانہ میں تعینات ایک تھانیدار کی ذاتی طمع نفسانی کی وجہ سے اس مقدمہ میں متعددایسے سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ آخر کیوں ساغر صدیقی کے والدین کو اس مقدمہ کا مدعی نہیں بنایا گیا اور کیوں جرم کا ارتکاب کرنے والے ملزمان کو منظر عام پر نہیں لایا جا رہا ہے اور مقتول کے ورثاء کی طرف سے الزام کی زد میں آنے والے افراد بے گناہ ہیں تو بھی پویس اس مقدمہ کی تفتیش کو یکسو کرنے سے گریزاں کیوں ہے اور اگر فرار ملزم ہی قصور وار ہیں تو پولیس کی طرف سے انہیں دی جانے والی آزادی خطر ناک ثابت ہو سکتی ہے ۔

مقتول ساغر صدیقی کے والدین ریاست علی اور اس کی بیوی حلیمہ بی بی نے ضلعی انتظامیہ سے سوال کیا ہے کہ وہ انصاف کے لئے ضلع کچہری اور تھانوں کے چکر لگاتے رہیں یا اپنے دیگر بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کریں انہوں نے کہا ہے کہ اگر پولیس رویہ اسی طرح رہا اور سفاک ملزمان اسی طرح دھندناتے پھرتے رہے تو وہ بچوں سمیت خود کشیاں کر لیں گے یا پھر ملزمان سے اپنی جانیں بچانے کے چکر میں ملزمان کا ان کے ہاتھوں نقصان ہو جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی پولیس پر عائد ہو گی اللہ کرے کہ اس سنگین نوعیت کی واردات کے اصل ملزمان جلد گرفتار ہو کر اپنے انجام تک پہنچیں تاکہ لواحقین کے دلوں کو بھی تسکین نصیب ہو ۔

مزید : ایڈیشن 1