تجاوزات کے خلاف اقدام قابل تحسین

تجاوزات کے خلاف اقدام قابل تحسین

سجاد اکرم بیورو چیف سرگودھا

ڈائری جرم و سزا

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے آپ کو ڈھلتے دیکھنے کے علاوہ خود اپنے پیاروں کو سپرد خاک کرتے ہیں ، یہاں تک کہ اپنی آنکھوں سے بڑے بڑے حکمرانوں اور صاحب اقتدا و اختیار افراد کو خس و خاشاک میں ملتے بھی دیکھتے ہیں، اورعروج وذوال کے مدو جزر بھی ہمارے تجربہ و مشاہدہ میں آتے ہیں مگر اسباب دنیا اور اموال دنیا کے حوالہ سے ہماری طمع ، ہوس و حرس کم نہیں ہوتی اور اسی لالچ و فریب کے چکر میں بسا اوقات ہم حدود سے بھی تجاوز کرجاتے ہیں بالخصوص طاقت ، دولت اور عہدہ و اختیار کو استعمال کرتے ہوئے زمینوں پر قبضوں کے واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں، اس حوالے سے سرگودھا سمیت پنجاب بھر کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کیسز اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں، تاہم موجودہ حکومت نے جہاں آتے ہی تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کر رکھا ہے وہاں زیر تسلط سرکاری اربوں روپے کی پراپرٹیز کے کیسز از سر نوکھول کر یہ زمینیں واگزار کروانے کا خوش آئند آغازکر دیا ہے، اور ملک کے دیگر اضلاع کی طرح سرگودھا میں بھی سرکاری زمینوں کے مقدمات اور انکوائریاں منطقی انجام تک پہنچتی دکھائی دے رہی ہیں، ایک طرف محکمہ مال نے اندرون شہر بلاک نمبر 2، 3 سمیت دیگر بلاکوں کے چوکوں میں واقعہ 15 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سرکاری رقبہ واگزار کرایا ہے تو دوسری طرف اینٹی کرپشن سرگودھا کی حالیہ ایک ہفتے کے دوران ہونیوالی بڑی کاروائیوں کو اہم پیش رفت اور مستقبل میں قبضہ مافیا کی روک تھام کیلئے پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے ،بالخصوص مسلم لیگ ن کے سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کے والد انور عزیز سمیت اہم اور بااثر شخصیات سے لگ بھگ 25 ارب روپے سے زائد مالیت کی ساڑھے چھ سو کینال سے زائد سرکاری زمینیں واگزار کرا لی گئی ہیں، یہ تو زمینوں کی مالیت ہے جبکہ ان زمینوں سے ہونیوالی آمدن بھی اربوں روپے میں ہے جس کا فائدہ قابضین اٹھاتے رہے اور اب ان سے ایک ایک پائی وصول کرنے کیلئے ریفرنس تیار کرنے کے ساتھ ساتھ مقدمات کے اندراج کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جس میں سرگودھا کی تحصیل سلانوالی کے گاؤں 170/172شمالی میں اڑھائی ارب روپے مالیت کی 26سو کینال اراضی سرفہرست ہے ،جو کہ انور عزیز نے1960میں محکمہ لائیو سٹاک سے لیز پر لی تھی جس کی مدت 2000ء میں ختم ہو گئی اور 18سال سے اس سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ تھا، جس کا مالی مفاد سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز حاصل کر کے سرکاری خزانہ میں جمع کروانے کی بجائے خود خرد برد کرتے رہے، اس امر کے شواہد موصول ہونے پر ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا عاصم رضا نے باضابطہ طور پر انکوائری کا حکم دیتے ہوئے عروج الحسن، ڈپٹی ڈائریکٹر (تفتیش) اور اسرار حسین کاظم ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر(مانیٹرنگ) اینٹی کرپشن سرگودھا و دیگر پر مشتمل اعلی سطحی ٹیم تشکیل دی،دوران انکوائری ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی گئی اورموقعہ کا ملاحظہ کیا گیا جس سے اس امر کی تصدیق ہو گئی کہ 2600 کینال مذکورہ رقبہ جس کی لیز انور عزیز کے نام ہوئی تھی پر اب 18 سال سے ناجائز قبضہ ہے اور اس پر کاشت ہو رہی ہے، جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن عروج الحسن کی سربراہی میں اسسٹنٹ کمشنر سلانوالی رفاقت باجوہ، تحصیلدار اور پولیس کی بھاری نفری نے موقعہ پر پہنچ کر یہ اراضی جس کی مالیت اڑھائی ارب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے کو واگزار کرا لیا ہے اور اس رقبے پر بنے ہوئے درجن سے زائد ڈیرہ جات مسمار کر کے زمین سرکاری تحویل میں لے لی گئی، اسی طرح تقریبا2400کنال کا وسیع رقبہ 92شمالی میں بھی واقع ہے جس پر با اثر شخصیت دلباز وغیرہ نے محکمہ مال کی ملی بھگت کے ساتھ ناجائز قبضہ کر رکھا تھا، یہاں قابل تشویش امر یہ ہے کہ اس قبضہ کو واگزار کروانے کے لیے ہائی کورٹ لاہور اور بورڈ آف ریونیو نے بھی احکامات جاری کر رکھے تھے اس کے باوجود محکمہ مال نے اس با اثر قبضہ گروپ کے خلاف 6 سال تک کوئی ایکشن نہ لیا۔ جس پر ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا کی ٹیم نے اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ خرم نیازی ، محمد منیر تحصلیداراور مقامی پولیس کے ہمراہ کاروائی کر کے یہ سرکاری رقبہ واگزار کروا لیا ، اور موقع پر واقع ڈیرہ جات کو مسمار کر کے رقبہ فصلوں سمیت سرکاری تحویل میں لے لیا گیا، اسی طرح منگل کے روز سرگودھا میں 47 پل کے قریب سرکاری اراضی جس پر کہ عرفان اسحاق بھٹی نامی شخص نے اپنے اثرو رسوخ کے ساتھ ساتھ حلقہ پٹواری اور محکمہ انہار کے افسران و اہلکاران کے ساتھ ملی بھگت کر کے سی این جی پمپ بنایا ہوا تھاکے کیس کی انکوائری محمد خرم انور، اسسٹنٹ ڈائریکٹر(تفتیش) کے سپرد ہوئی جس نے ریکارڈ کا چھان بین کرتے ہوئے، موقعہ کا ملاحظہ کیا ،جس سے معلوم ہوا کہ عرفان اسحاق بھٹی مالک شہرروز سی این جی پمپ نے سرکاری واٹر کورس پر قبضہ کیا ہوا ہے، جسے واگزار کروا کر واپس محکمہ انہار کی تحویل میں دے دیا گیا، اسی طرح سرگودھا کے پوش علاقے خیابان صادق میں 4 ارب روپے مالیت کی 21 کینال کمرشل اراضی پر بھی عبدالحمید نامی بااثر شخصیت کا ناجائز قبضہ تھا، جس پر بھٹہ خشت اور پختہ مکانات بنے ہوئے تھے کی لیز عرصہ دراز سے ختم ہو چکی تھی مگر محکمہ مال کی ملی بھگت سے متذکرہ شخص ایک طویل عرصہ سے اس جگہ پر ناجائز قابض تھا،اینٹی کرپشن کی ٹیم نے اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ ہیوی مشینری کے ذریعے کارروائی کرتے ہوئے متذکرہ اراضی بھی واگزار کرا کر سرکاری تحویل میں لے لی اور اراضی پر بنی ہوئی پختہ تعمیرات جس میں بھٹہ خشت بھی شامل ہے کو گرا دیا گیا ، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن عاصم رضا کا کہنا ہے کہ ضلع میں 1200 ایکڑ رقبہ جو کہ اربوں روپے کی ملکیت ہے پر ناجائز قبضہ تھا جس میں سے ساڑھے چھ سو ایکڑ رقبہ تین دنوں میں واگزار کروا لیا گیا ہے جبکہ باقی رقبہ واگزار کرانے کیلئے نا صرف تحرک کیا جا رہا ہے بلکہ ایسے سرکاری افسران جن کی غفلت و لا پرواہی کے باعث قبضہ مافیا ایک طویل عرصہ تک سرکاری رقبہ پر قبضہ کر کے اربوں روپے کا مفاد اٹھاتے رہے سے رقوم کی وصولی اور اس غفلت کے مرتکب سرکاری افسران کے خلاف بھی محکمہ اینٹی کرپشن نے قانونی کارروائی کیلئے تحرک شروع کر دیا ہے، جو افسران سرکاری رقبوں پر قبضہ مافیا کی پشت پناہی یا معاونت کے مرتکب پائے گئے ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید : ایڈیشن 1