بھارت کی ٹویٹر کو دھمکی، سکھوں نسل کشی کیخلاف مہم کو رکوا دیا

بھارت کی ٹویٹر کو دھمکی، سکھوں نسل کشی کیخلاف مہم کو رکوا دیا

نیو یارک (آئی این پی) بھارت نے ٹویٹر نیٹ ورک کو بندکرنے کی دھمکی لگا کر یکم نومبر کی سکھ نسل کشی مہم کو رکوا دیا، غیر ملکی کبر رساں ادارے کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سکھوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیم سکھ فار جسٹس نے پوری دنیا میں یکم نومبر کو سکھوں کی نسل کشی کا دن منانے کے حوالے سے ایک عالمگیر تحریک شروع کی تھی جس میں انہوں نے ایک آن لائن پورٹل www.1984SikhGenocide.org کے نام سے شروع کیا تھا جس میں چند ہی دنوں میں پچیس ہزار سے زائد لوگوں نے پوری دنیا سے اس کی حمائت میں ای میل بجھوا دی گئی تھیں جس میں امریکا، یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا، بھارت کے سکھوں اور دنیا بھر سے کہا گیا تھا کہ یکم نومبر کو سکھوں کی نسل کشی کا دن قرار دیا جائے، چند ہی دنوں میں پوری دنیا سے پچیس ہزار ای میل بجھوا دی گئیں جس پر بھارتی حکومت حرکت میں آ گئی اور اسے رکوانے کے لئے سرگرم ہو گئی جس کے بعد ٹویٹر نیٹ ورک نے اس ویب پورٹل www.1984SikhGenocide.org کو بلاک کر دیا اور جیسے ہی کوئی ٹویٹر پر یہ پورٹل ٹایپ کر تا ہے یہ پورٹل کھلتا ہی نہیں۔

یاد رہے یکم نومبر کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد تیس ہزار سکھوں کو قتل کیا گیا تھا جبکہ اس نسل کشی کے نتیجہ میں تین لاکھ سکھ بے گھر جبکہ تیس لاکھ سکھ متاثر ہوئے تھے۔ بھارت نے اسے بلوہ یا ہنگامہ آرائی قرار دیا تھا لیکن سکھ فار جسٹس نے امریکا، کینڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا کی حکومتوں سے اس مہم کے ذریعہ سے کہا گیا ہے 1984 میں سکھوں کو کسی بلوے یا ہنگامہ آرائی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے ذریعہ سے ٹارگٹ کر کے سکھوں کی نسل کشی کی گئی جس پر ان ممالک کی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ یکم نومبر کو عالمی طور پر سکھوں کی نسل کشی کا دن قرار دیا جائے۔سکھ فار جسٹس کی وکیل گرپٹ ونٹ سنگھ پنوں جنہیں اس سے قبل بھارتی حکومت کے دباو پر ٹویٹر سے بلاک کر دیا گیا تھا نے اس موقع پر کہا ہے کہ ٹویٹر کمپنی بھار ت کے دباو پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور وہ اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق اور آزادی اظہاررائے کی خلاف ورزی پر رجوع کرینگے

مزید : عالمی منظر