پاک پتن کے سابق ڈی پی او رضوان گوندل تو آپ کو یاد ہوں گے لیکن یہ اب کہاں اور کس حال میں ہیں؟ جان کرآپ کو بھی دکھ ہوگا

پاک پتن کے سابق ڈی پی او رضوان گوندل تو آپ کو یاد ہوں گے لیکن یہ اب کہاں اور ...
پاک پتن کے سابق ڈی پی او رضوان گوندل تو آپ کو یاد ہوں گے لیکن یہ اب کہاں اور کس حال میں ہیں؟ جان کرآپ کو بھی دکھ ہوگا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سیاسی دبائو کے تحت غلط طریقہ کار کے تحت افسر کا تبادلہ کرنے کے کیس میں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پولیس کی عدالت میں معافی کے باوجود پاک پتن کے سابق ڈی پی او رضوان گوندل کو جب سے ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے اس وقت سے ان کے پاس کوئی ملازمت ہے اور نہ ہی انہیں تنخواہ مل رہی ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق رضوان گوندل کو 26؍ ا گست کو ڈی پی او پاک پتن کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور پنجاب حکومت نے ان کی خدمات 7؍ ستمبر کو وفاق کے سپرد کر دیں لیکن اب تک مذکورہ افسر کو ’’نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے‘‘ کی صورتحال کا سامنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے افسر کو بری الذمہ قرار دیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں ڈی پی او پاک پتن کے عہدے پر بحال کیا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی دوسری پوسٹنگ دی جا رہی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سونے پر سہاگہ یہ ہے افسر کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے تنخواہ بھی نہیں دی جا رہی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی ہفتے گزر گئے لیکن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو اب تک رضوان گوندل کی خدمات وفاق کے سپرد کیے جانے کا پنجاب حکومت کا نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا۔ اس بات کی کوئی وضاحت موجود نہیں کہ پنجاب حکومت نے یہ نوٹیفکیشن کئی ہفتے پہلے کیوں نہیں بھیجا۔ اس صورتحال کی وجہ سے افسر کی قسمت اور پوسٹنگ لٹک گئی ہے لیکن اس معاملے کی وجہ سے انہیں تنخواہ بھی نہیں مل رہی۔ افسر کے قریبی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ رضوان گوندل نے متعدد مرتبہ آئی جی پولیس پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے رابطہ کیا ہے کہ انہیں اس عجیب صورتحال سے نکالا جائے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پنجاب کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے 7؍ ستمبر کو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا کہ سی پی او پنجاب میں پوسٹنگ کے منتظر پی ایس پی گریڈ 18؍ کے افسر رضوان عمر گوندل کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، کابینہ سیکریٹریٹ کو فوری طور پر واپس کی جا رہی ہیں۔ انہیں فوری طور پر حکومت پنجاب کی ڈیوٹی سے فارغ کیا جا رہا ہے۔ جس طرح سابق ڈی پی او پاک پتن کو ہٹائے جانے کا معاملہ متنازع تھا اسی طرح خدمات واپس کیے جانے کا معاملہ بھی متنازع ہے کیونکہ یہ آرڈر اس وقت جاری کیا گیا تھا جب سپریم کورٹ نے اس معاملے پر از خود نوٹس لے لیا تھا۔

پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنے سے پہلے ہی افسر کی خدمات وفاق کے سپرد کر دیں۔ پنجاب حکومت کے اس نوٹیفکیشن کے ایک ماہ بعد سپریم کورٹ نے 8؍ اکتوبر کو وزیراعلیٰ پنجاب اور سابق آئی جی پولیس کلیم امام اور دیگر کی معافی قبول کرتے ہوئے ڈی پی او پاک پتن کو ہٹائے جانے کا کیس نمٹا دیا۔ تین اکتوبر کو اس معاملے پر انکوائری رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تھی جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ گوندل کو سیاسی مداخلت پر تبدیل کیا گیا تھا۔ اس میں مزید کہا گیا تھا کہ آدھی رات کو پولیس افسر کے ٹرانسفر کے احکامات وزیراعلیٰ آفس سے آئے تھے جبکہ آئی جی پولیس نے ربڑ اسٹمپ کا کردار ادا کیا۔ تاہم، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پولیس کلیم امام اور دیگر کی معافی ، جس میں رضوان گوندل بری الذمہ ہوگئے تھے، کے باوجود افسر کو دوبارہ عہدے پر بحال کیا گیا اور نہ ہی انہیں کوئی دوسری پوسٹنگ دی گئی۔ مذکورہ عہدیداروں کی معافی کے دو دن بعد ہی سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود اس وقت کے آئی جی پنجاب طاہر خان کو غیر شائستہ انداز سے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ پہلی خلاف ورزی طاہر خان کے قبل از وقت تبادلے کی تھی، انہیں ایک ماہ قبل ہی پنجاب کا آئی جی لگایا گیا تھا۔ دوسری خلاف ورزی نئے آئی جی امجد جاوید سلیمی کے متعلق تھی جن کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ عہدے کی کم از کم مدت سے قبل آ رہی تھی، یہ مدت صوبائی پولیس چیف کیلئے عدالتوں کی جانب سے مقرر کی گئی تھی۔ آئی جی پولیس کے عہدے کی عمومی مدت تین سال ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے اے ڈی خواجہ کیس میں قرار دیا تھا کہ (آئی جی پولیس کے) عہدے کیلئے صرف اسی افسر کو منتخب کیا جائے جو مکمل مدت ملازمت (تین سال) پوری کر پائے۔ سندھ ہائی کورٹ نے فیصلے میں لکھا تھا کہ دو مخصوص نکات یہاں پیش کیے جاتے ہیں: اول، پول میں موجود افسران اس انداز سے ہونا چاہئیں کہ ریٹائرمنٹ سے قبل کئی سینئر افسران ممکن ہے کہ عہدے کی مدت مکمل نہ کر پائیں، اور اس لئے جو کچھ کہا گیا ہے اس پر سختی سے عمل کی صورت میں ایسے افسران کو پیشہ ورانہ انداز سے نقصان ہو سکتا ہے۔

ایسی صورتحال کو غیر معمولی حالات کے زمرے میں رکھا جائے جس میں زیادہ سینئر افسر کو مقرر کیا جائے چاہے وہ ریٹائرمنٹ سے قبل مدت ملازمت مکمل نہ کر پائے۔ لیکن، یہ صرف اس وقت کیا جائے جب افسر مدت ملازمت کا تین چوتھائی وقت پورا کرنے کے قابل ہو۔ اس طرح سندھ ہائی کورٹ نے یہ اصول طے کر دیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کسی پولیس افسر کو اس وقت تک صوبائی پولیس چیف نہیں لگایا جائے گا جب تک اس کی باقی سروس تین سالہ مدت ملازمت کا تین چوتھائی حصہ باقی نہ ہو۔ نئے آئی جی پولیس پنجاب کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ 31؍ جنوری 2020ء ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ سندھ ہائی کورٹ کے طے شدہ اصول کے مطابق ان کی باقی ماندہ سروسز صوبائی پولیس کے عہدے کیلئے مطلوبہ مدت سے تھوڑی کم ہے۔ سابق آئی جی پولیس محمد طاہر خان کا قبل از وقت تبادلہ بھی انیتا تراب کیس کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ خان کو گزشتہ ماہ ہی پی ٹی آئی کی حکومت نے آئی جی پنجاب مقرر کیا تھا۔ وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ آئی جی پولیس کو اس لئے ٹرانسفر کیا گیا کیونکہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تھے۔ تاہم، عہدے کی مدت مکمل کرنے سے قبل ہی کسی افسر کو عہدے سے ہٹانا سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے جو انیتا تراب کیس میں سنایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کو ان کے عہدے کی مدت کے حوالے سے تحفظ فراہم کر رکھا ہے اور قبل از وقت تبادلے کیلئے یہ ضروری ہے کہ مجاز اتھارٹی تحریری طور پر وہ وجوہات پیش کرے جن کی بنیاد پر تبادلہ کیا گیا ہے، یہ وجوہات عدالت میں قابل نظر ثانی ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد /پنجاب /پاکپتن