وزیر اعظم جائز شکایات پر بھی آئی جی تبدیل نہیں کر سکتا تو انتخابات کرانے کا کیا فائدہ؟پھر تو چند بیوروکریٹس سے ہی حکومت چلا لیتے ہیں:فواد چوہدری

وزیر اعظم جائز شکایات پر بھی آئی جی تبدیل نہیں کر سکتا تو انتخابات کرانے کا ...
وزیر اعظم جائز شکایات پر بھی آئی جی تبدیل نہیں کر سکتا تو انتخابات کرانے کا کیا فائدہ؟پھر تو چند بیوروکریٹس سے ہی حکومت چلا لیتے ہیں:فواد چوہدری

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ آئی جی، وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ کو جوابدہ ہے، یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کرنا کہ آپ فون نہ اٹھائیں تو ہیرو بن جائیں گے، اس سے ملک میں بے چینی پیدا ہوگی، اگر بیوروکریٹس کے ذریعے ہی حکومت چلانی ہے تو انتخابات کی کیا ضرورت ہے؟ اگر ملک کا وزیر اعظم جائز شکایات پر بھی آئی جی تبدیل نہیں کر سکتا تو انتخابات کرانے کا کیا فائدہ؟پھر تو چند بیوروکریٹس سے ہی حکومت چلا لیتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کاحکومتی پالیسیوں پراعتمادبڑھ رہاہے ، گزشتہ دنوں سٹاک مارکیٹ میں تاریخی اضافہ ہوا،ملک میں سرمایہ کاری کے حالات بہترہورہے ہیں،پہلے 70 دنوں میں پاکستان کوکامیابیاں ملیں،اتنے روزمیں توٹیم نہیں بنتی،پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کاخطرہ ٹل گیا ہے، پاک چین عوام کے دل ایک دوسرے کیساتھ دھڑکتے ہیں ،وزیراعظم کادورہ چین تعلقات کانیاباب ثابت ہوگا،چین ہماراسٹریٹجک پارٹنرہے۔

آئی جی اسلام آباد کے حوالے سے وفاقی وزیر  اطلاعات فواد چوہدری کا کہناتھا کہ اعظم سواتی اس معاملے میں صحیح ہیں یا غلط مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ایک آئی جی کس طرح یہ کر سکتے ہیں کہ وہ ایک وفاقی وزیر کی فون کال نہ اٹھائیں اور دوبارہ فون کرنے کی زحمت بھی نہ کریں؟جبکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے قبل وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے بھی آئی جی کے خلاف وزیر اعظم عمران خان سے عدم تعاون کی شکایت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اسلام آبادکے تعلیمی اداروں میں منشیات فروخت ہورہی ہے،آئی جی اسلام آبادکوئی کارروائی نہیں کررہے اور نہ ہی اسلام آبادپولیس آئس ڈرگ کیخلاف کارروائی کررہی ہے ،شہریار آفریدی نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے آئی جی کو فون کرتے ہیں تو ان کا جواب نہیں آتا اور نہ ہی وہ منشیات سمگلروں کے خلاف کوئی کارروائی کر رہے ہیں،شہریار آفریدی نے یہ شکایت بھی کی کہ اسلام آباد کے تھانوں میں رشوت کی شکایات ہیں،اس پر بھی آئی جی تعاون نہیں کر رہے،آئی جی، وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ کو جوابدہ ہے، یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کرنا کہ آپ فون نہ اٹھائیں تو ہیرو بن جائیں گے، اس سے ملک میں بے چینی پیدا ہوگی، اگر بیوروکریٹس کے ذریعے ہی حکومت چلانی ہے تو انتخابات کی کیا ضرورت ہے؟اگر ملک کا وزیر اعظم جائز شکایات پر بھی آئی جی تبدیل نہیں کر سکتا تو انتخابات کرانے کا کیا فائدہ؟ پھر تو چند بیوروکریٹس سے ہی حکومت چلا لیتے ہیں،خیبر پختونخوا میں 5 سال کے دوران شکایات پر پولیس والوں کے کئی بار تبادلے کیے گئے، وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ کے اختیارات ہیں جنہیں وہ استعمال کریں گے، ممکن نہیں کہ آئی جی، ڈی سی یا کوئی اور وزیراعظم اور دیگر کو جواب دہ نہ ہوں۔فواد چودھری نے کہاکہ بیوروکریسی حکومتی پالیسی پرعملدرآمدنہیں کرتی، سپریم کورٹ قابل احترام ادارہ ہے،فیصلے پرعمل کریں گے۔

ان کا کہناتھا کہ ہمیں اے پی سی کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی، اے پی سی صرف این آراولینے کیلئے ہورہی ہے،مولانا فضل الرحمٰن، نواز شریف اور آصف زرداری وزیراعظم سے یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات ختم کردیے جائیں تو جمہوریت بحال ہوجائے گی، لیکن کچھ بھی ہوجائے این آر او نہیں ہوگا،حکومت کہہ رہی ہے ’’ نہ رو ‘‘جبکہ  اپوزیشن کہہ رہی ہے’’ این آر او‘‘۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کوپی اے سی کاچیئرمین بنائیں گے توکیااجلاس جیل میں ہوگا؟۔انہوں نے کہا کہ سٹیزن پورٹل پرایک لاکھ کے قریب شکایات آئی ہیں،جن میں سے نصف پنجاب سے، تقریباً 20 ہزار سندھ سے جبکہ بقیہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے متعلق ہے،سٹیزن پورٹل سے مختلف محکموں کاڈیٹااکٹھاہوتارہے گا، آئندہ اتوار کو ہم ان شکایات کے ازالے سے متعلق آگاہ کریں گے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد