پاک فضائیہ کی طرف سے ہزاروں کنال اراضی 860 روپے فی کنال کے حساب سے خرید نے کا معاملہ، جب یہ کیس چیف جسٹس کے پاس پہنچا تو انہوں نے کیا فیصلہ سنایا؟ آپ بھی جانئے

پاک فضائیہ کی طرف سے ہزاروں کنال اراضی 860 روپے فی کنال کے حساب سے خرید نے کا ...
پاک فضائیہ کی طرف سے ہزاروں کنال اراضی 860 روپے فی کنال کے حساب سے خرید نے کا معاملہ، جب یہ کیس چیف جسٹس کے پاس پہنچا تو انہوں نے کیا فیصلہ سنایا؟ آپ بھی جانئے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاک فضائیہ کی جانب بارہ ہزار سات سو کنال زمین 860 روپے فی کنال خریدنے کیلئے رجوع کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ،اعلیٰ عدلیہ نے حکم امتناع اور اپیل خارج کردی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کےخلاف ملٹری لینڈ ایکوزیشن کی اپیل کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے اپیل پر ایئرفورس کی جانب سے دلائل کیلئے کھڑے ہوئے والے ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمان سے کہا کہ اگر مارکیٹ کے مطابق پیسے نہیں دیتے تو پھر زمین نہ لیں ۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ زمین فوجی تربیت کیلئے استعمال ہو رہی ہے اگر ایک ہزار روپے کنال کر دیں تو بہتر ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گیارہ سو روپے کے تو آج کل بچے پاپڑ کھا لیتے ہیں۔ زمین مالکان کو اصل قیمت ادا کریں، یہی دین کہتا ہے، یہی اخلاق کہتا ہے اور یہی ہمارا آئین کہتا ہے۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ آج صرف حکم امتناع کےخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر ہے مرکزی اپیل مقرر نہیں کی گئی اس لئے عدالت حکم امتناع کی حد تک سنے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکم امتناع بھی خارج کرتے ہیں اور اپیل بھی۔

واضح رہے کہ یہ زمین کوہاٹ میں ہے اور 2005 سے ایئرفورس کے استعمال میں ہے جبکہ مالکان تیرہ برس سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے تھے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد