انسانی اسمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 4

انسانی اسمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 4
انسانی اسمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 4

  

مساوی قوانین کی عدم موجودگی سے مختلف ممالک کے سمگلرز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جنسی مقاصد کے لئے سمگلنگ اور جبری مشقت یا Sextrafficking کی ایسی تعریف جو عالمی سطح پر متفقہ طور پر تسلیم شدہ ہو نہیں ملتی ہے۔ البتہ لوگوں کی، جنسی فعل کے لئے ملک کے اندر اور باہر منظم آمدورفت کا احاطہ مذکورہ بالا تعریف میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس آمدورفت کے لئے جسمانی تشدد، دھوکے ، فریب، لالچ یا کسی قرض کی ادائیگی پر مجبور کر کے افراد کو لایا جاتا ہے جو بعد ازاں آسانی سے استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاہم یہ مسئلہ اس وقت متنازع ہو جاتا ہے جب تعریف کرتے ہوئے رضا مندی کے حصول کے لئے استعمال کیا جانے والا جبر نکال دیا جاتا ہے۔ فرض کریں ایک عورت جس کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔ کسی ملک میں ہے، وہاں کے باشندوں کی زبان کیا ہے یا وہاں کا قانون اسے تحفظ دیتا ہے کہ نہیں یہ سب چیزیں اس کے لئے ناقابل رسائی ہیں لہٰذا جس شخص نے اسے اس حالت یا جگہ تک پہنچایا ہے اسے واقعہ سے نکال دینا نہ صرف اس عورت کا استحصال ہوگا بلکہ جرم کی بیخ کنی کے راستے میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہوگی۔

جنسی استحصال کا شکارایشیائی عورتوں کی حالت زار۔

برطانیہ میں ’’جنسی جرائم کے قانون 2003ء‘‘ میں جنسی استحصال کے لئے انسانی سمگلنگ کو جرم قرار دیا گیا ہے لیکن ان کو طلب نہیں کیا جاتا جنہوں نے جبر، فراڈ اور فریب کے جرم کا ارتکاب کیا ہو۔ چنانچہ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنی مرضی سے جنسی عمل کرنے کے لئے برطانیہ میں داخل ہوئے لیکن ان کو یہاں تک جبراً سمگل کر کے لایا گیا تھا۔ اس کے برعکس یو۔ ایس میں’’سمگلنگ کے شکار افراد کے تحفظ کا ایکٹ 2000‘‘ کے مطابق ، انسانی سمگلنگ کی انتہائی صورتوں کی تعریف کے تحت اس سے قطع نظر کہ اس نے سفر کیا ہے کہ نہیں اس کم عمر بچے (Miner) کو بھی سمگلنگ کا شکار تصور کیا جائے گا جو 18 سال سے کم عمرہواور پیسوں کی خاطر جنسی عمل میں ملوث پایا گیا ہو۔

انسانی اسمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 3پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’انسانی حقوق کی نظرثانی پر 2011ء‘‘ میں شائع ہونے والے ایک میگزین میں جنسی مقاصد کے لئے انسانی سمگلنگ کے رجحانات، چیلنجز اور بین الاقوامی قانون کی حدود کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سال 2000ء سے انسانی سمگلنگ پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی واقع ہونے سے اس جرم کے شکار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنسی سرگرمیوں میں ملوث سمگل شدہ افراد سب سے زیادہ منافع کمانے کا واحد ذریعہ ہیں۔ اس انڈسٹری میں ایک فرد پر 2 ہزار امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جبکہ وہ سالانہ 30 ہزار ڈالر کماتا ہے۔ اگر یہ اضافہ اسی طرح قائم رہا تو مستقبل میں اس کاروبار کی ترقی کے بارے پیشین گوئی کرنا مشکل نہیں ہے۔ 2008ء میں 1 کروڑ 30 لاکھ افراد کو جبری مشقت، ممنوعہ کام میں ملوث کرنا اور جنسی سمگلنگ کا شکار افراد قرار دیا گیا۔ ان میں سے 14 لاکھ کاروباری جنسی غلام تھے جبکہ کل افراد کا 98 % حصہ عورتوں اور لڑکیوں پر مشتمل تھا۔

پوری دنیا میں اس وقت جنسی استحصال ، غلامی، مہاجرین اور غلام بچوں کا تفصیلی ذکر ایک باب میں دیا گیا ہے جو آگے آ رہا ہے۔ ’’بین الاقوامی تنظیم برائے تحفظِ اطفال‘‘ نے اس صورتحال کو یوں بیان کیا ہے کہ ’’جنسی استحصال کے لئے انسانی سمگلنگ کا مسئلہ اس وقت متضاد اور مبہم صورت اختیار کر جاتا ہے جب بالغ عورتوں اور بچوں میں پائی جانے والی جسم فروشی کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورمساوی جنسی استحصال قرار دیا جاتا ہے۔ سمگلنگ اور جسم فروشی ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہو جاتے ہیں۔ ان دونوں کے مبہم تصورات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سمگلرز جسم فروشی کے لئے انسانوں کی سمگلنگ کرتے ہیں۔ وہ تمام معنوں اور قانون کی زبان میں اس کے نتائج کی تفہیم سے عاری ہوتے ہیں۔ جبری اور رضاکارانہ جسم فروشی میں بہت باریک لکیر پائی جاتی ہے اور بہت سے لوگ اسے ایک بڑے فعل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ عورتوں کے خلاف پائے جانے والے تشدد کی ایک صورت ہے۔ سویڈن، ناروے اور آئس لینڈ میں جنسی فعل کے مرتکب گاہکوں کا پیسے ادا کرنا غیر قانونی ہے۔ (یہاں جسم فروش کے بجائے گاہک کو مجرم قرار دیا جاتا ہے) کسی تارکِ وطن کو ایمگریشن کے حصول کے لئے جنسی عمل کرنے پر مجبور کرنا بھی جنسی استحصال یا جبری سمگلنگ میں شامل ہے۔ سمگل ہونے والے بچوں اور عورتوں سے فیکٹری یا گھر میں کام کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے لیکن ان کی اکثریت کو جسم فروشی کے اڈوں (Brothols) پر لے جایا جاتا ہے جہاں ان کے پاسپورٹ اور دیگر شناختی دستاویزات ضبط کرلئے جاتے ہیں۔ ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور ان کو قید میں بھی رکھا جاتا ہے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ جب وہ جسم فروشی کے ذریعے ویزے کے پیسے ،اپنی قیمت اور اخراجات پورے کریں گے ان کو آزاد کر دیا جائے گا۔

قحبہ خانے تک پہنچنے میں کسی عورت یا لڑکی کی اپنی اور خاندان کی زندگی کو خوشحال دیکھنے کی خواہش ایک اہم عنصر ہوتی ہے۔ بہت سے واقعات ایسے سامنے آئے ہیں جن میں ابتدا میں سمگلر نے سٹڈی ویزہ یا قانوناً جائز روزگار کی پیشکش کر کے معصوم لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسایا اور بعد ازاں ان کو قحبہ خانوں میں ایک اذیت ناک زندگی بسرکرنا پڑی۔ سمگلرز اکثر کلبوں ، بازار اور ہوٹلوں میں کیٹرنگ کے کام کی یقین دہانی کراتے ہیں یا پھر ماڈلنگ کے لئے رابطہ کاروں کے جعلی فون نمبرز دکھائے جاتے ہیں۔ کئی واقعات ایسے بھی سامنے آئے ہیں جن میں وہ کئی طریقوں سے اپنے شکار کو اغوا کرتے ہیں۔90 % واقعات میں لڑکیوں/ عورتوں کا مقدر جسم فروشی ہوتا ہے۔ کچھ جسم فروش عورتیں بھی انسانی سمگلنگ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کچھ عورتیں جانتی ہیں کہ ان کو ’’سیل گرل یا کال گرل ‘‘کے طور پر کام کرنا پڑے گا لیکن وہ اس ملک کے حالات اور فضا کے متعلق غلط اندازہ لگائے ہوئے ہوتی ہیں۔

سمگلنگ کا شکار ہونے والے افراد مختلف نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ مہمان اور میزبان دونوں ممالک میں تنہائی کا شکار رہتے ہیں۔ ان کا مقامی لوگوں میں رہنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ملک واپس آنے پر حکومت ان کی معمولی مدد کرتی ہے۔ ایسے افراد کو منشیات کی سمگلنگ میں دھکیل دیا جاتا ہے یا ان کی اکثریت کو مجرمانہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومتوں کو چاہئے کہ ان کی بحالی کے لئے اقدامات کریں اور ایسے افراد کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لئے ان سے امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے۔ ہر حکومت کو جس نے پروٹول کنونشن میں شرکت کی ہے اسے چاہئے کہ وہ انسانی سمگلنگ ، استحصال کی تمام صورتوں کی حوصلہ شکنی کرے اور ایسے گینگ کو سخت سے سخت سزا دے جو انسانی سمگلنگ میں ملوث ہو۔

انٹرٹینمنٹ، مہمان نواز، جسم فروش، پیامبر لڑکیاں سبھی ایک ہی ہوتی ہیں۔ وہ بین الاقوامی معیشت کو عالمی سطح تک لے جانے کے عمل کا ایک حصہ ہیں۔ بین الاقوامی انسانی جنسی سمگلنگ کی بات کی جائے تو دیگر اشیاء اور پیداوار کی طرح لڑکیوں یا عورتوں کو بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے ، ایک ایئرپورٹ سے دوسرے ایئرپورٹ تک یا سرحدوں سے باہر بھیجنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور یہ سب کچھ منافع کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہ خیالات مشہور اخبار نویس ’’جیوڈتھ میرکنسن‘‘ کے ہیں جن کا اظہار وہ اپنے ایک آرٹیکل میں کر چکے ہیں۔ انسانی سمگلنگ کو کئی درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی کئی ایک اقسام ہیں۔ لیکن عورتوں کے سمگل ہونے کی سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی سیکس انڈسٹری ہے۔ اسے بین الاقوامی جسم فروشی بھی کہا جاسکتا ہے۔ یہاں پر مردوں کے حکم پر دلہنوں کی انڈسٹری بھی پائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ پیسوں کے بدلے مرد کارکنوں کو ملک سے باہر بھیجنا ایک اہم ادارہ ہے، عورتوں کو عموماً گھر میں کام کرنے یا بطور نرس رکھنے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ میزبان ممالک میں یہ عورتیں ضروری خدمات سر انجام دیتی ہیں اور دوسرے درجے کے شہری کے طور پر زندگی گزارتی ہیں۔ عورتوں کی ٹریفکنگ یا سمگلنگ کامطلب ہوتا ہے ’’ایک غریب عورت ایک امیر مرد کے پاس چلی گئی ہے۔‘‘ جنوب سے شمال کی طرف عورتوں کا بہاؤ بڑے وسیع پیمانے پر جاری ہے۔ اگرچہ اب سابق مشرقی بلاک سے بھی عورتوں کی نقل و حرکت اس طرف ہو رہی ہے۔ جن ممالک میں عورتیں روانی کے ساتھ بھیجی جا رہی ہیں ان میں یورپ، شمالی امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور مڈل ایسٹ شامل ہیں۔

عموماً یہ عورتیں غربت زدہ دیہی علاقوں اور گندی بستیوں سے لائی جاتی ہیں، ان کو یا تو سیاحوں کی تربیت دی جاتی ہے یا ان کو اغوا کر کے جبری طور پر غلام بننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ کو فروخت کر دیا جاتا ہے کیونکہ اب بھی دنیا میں کچھ ایسے ممالک ہیں جہاں بازاروں میں عورتوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ ان کی عمریں 12 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ ان میں سے بے شمار بلوغت کی عمر تک بھی نہیں پہنچ پائی ہوتیں اور جنسی فعل (Sex) سے ناآشنا ہوتی ہیں۔ خاص طور پر ایسی لڑکیاں جن کو ایسے ممالک میں لے جایا جاتا ہے جو ان کے لئے اجنبی ہوتا ہے۔ وہ زبان یا وہاں کے قانون سے واقف نہیں ہوتیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں کہ راستے میں وہ کتنی بار فروخت ہو چکی ہیں۔ ہر منزل پر ان کا گائیڈ تبدیل ہو جاتا ہے۔ ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کب ، کہاں اور کیا ہو جائے؟۔ وہ خوفزدہ ہوتی ہیں۔ان کا جنسی استحصال ہونا ممکن ہوتا ہے۔ ان کو ان کی مرضی کے خلاف قحبہ خانوں میں ’’کام‘‘ پر لگا دیا جاتا ہے۔ ایسی لڑکیاں اپنے آبائی ممالک سے 4 سو سے 8 سو امریکی ڈالر کے عوض خریدی جاتی ہیں۔ آخری دلال تک پہنچتے پہنچتے 3 سے 5 ہزار ڈالر ان کے ذمہ بن جاتا ہے۔ یہ رقم پوری کرنے تک اسے ایسے ہی کسی اڈے پر اپنے آپ کو بیچنا پڑے گا۔جہاں اس کے کپڑوں، مکان، کھانے کے علاوہ دن بھر ’’کمائی‘‘ سے 20% حصہ لیا جاتا ہے۔ دلالوں کے بتائے ہوئے پیسوں سے 5 یا 6 گنا زیادہ پیسے کمانے کے بعد ان کو کہا جاتا ہے کہ اب وہ اپنے گھر جانے یا یہاں رہنے میں آزاد ہیں۔ اس دوران بہت سی عورتوں کو ایڈز جیسی بیماریاں لاحق ہو چکی ہوتی ہیں۔

عورتوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ ہزاروں سالوں سے جاری ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا کا قدیم ترین پیشہ کونسا ہے؟ مرد کے کہنے پر دلہن کی دستیابی ایک عام چیز بن چکی ہے۔ لیکن عورت کی فروخت ایک منظم نظام کے تحت ہو چکی ہے۔ جیسے جگہ جگہ قحبہ خانوں کا کھل جانا ہے۔ یہ دولت، خوشحالی اور نیک نامی کی دین ہے کہ عورت کے استحصال نے تباہ کن صورت اختیار کرلی ہے۔ عورتوں کی ٹریفکنگ اور اغواء میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہر سال 15 سے 20 لاکھ عورتیں اور بچے سمگل ہوتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق 1970ء سے لے کر2013ء تک دنیا میں 6 کروڑ سے زائدعورتوں کو فروخت کیا گیا۔ جنوب مشرقی ایشیاء خواتین کانفرنس کے موقع پر بیان کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق گرمتیا پوجا کے نام پر جاپان میں ہر سال ایک لاکھ عورتوں کو بھیجا جاتا رہا ہے۔ جن کو بعد ازاں بازار اور قحبہ خانوں میں منتقل کیا گیا۔ اسی طرح لاکھوں کی تعداد میں لڑکیوں کو نیپال سے انڈیا اور برما سے تھائی لینڈ منتقل کر دیا جاتا ہے۔ 80ء اور 90ء کے عشروں میں 2 لاکھ بنگلہ دیشی عورتوں کو پاکستان لایا گیا۔ اسی طرح چینی عورتوں کو بنکاک کے قحبہ خانوں میں جگہ دی جاتی ہے۔ لاطینی امریکہ اور افریقہ سے عورتوں کو تھائی لینڈ اور یورپ سمگل کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ کو امریکہ اور کریپین ممالک میں بھیج دیا جاتا ہے۔ ان اعداد و شمار میں ایسی عورتوں کی تعداد شامل نہیں جو مقامی سطح پر سمگل ہوتی ہیں۔

دراصل 60ء اور 70ء کی دہائیوں میں ترقی پذیر ممالک کے لئے سیاحت ایک اہم صنعت کے طور پر سامنے آئی۔ اس کی پشت پر آئی ایم ایف کا سرمایہ تھا جسے عالمی سطح پر فروغ دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھاگیا۔ آئی ایم ایف کے علاوہ ورلڈ بینک، یو ایس ای ایجنسی کا بھی اس میں خاصا تعاون حاصل تھا جنہوں نے ان ممالک پر ان کے قدرتی وسائل سے مستفید ہونے کا پر زور مشورہ دیا۔ اس مقصد کے لئے ترقی پذیر ممالک کو سیاحتی مقامات کی تزئین و آرائش اور ہوٹل تعمیر کرنے کو کہا گیا تا کہ بیرونی سرمائے کے لئے کشش پیدا کی جاسکے۔ بحرحال سیاحوں کے لئے کشش کا ذریعہ جنسی (Sex) تھا۔ سیر کے پیکچز متعارف کرائے گئے جن میں ہوائی ٹکٹ، رہائش، گاڑی، پک اینڈ ڈراپ، جنسی راحت کے لئے عورتوں اور مردوں کی سہولت وغیرہ کا ذکر کیا گیا۔ مثلاً تھائی لینڈ کے سفر کے لئے عموماً بروشرز پر لکھا ہوتا تھا "sss" جس کا مطلب (Sun, Sea and Sex) ہوتا ہے۔ ایسے ہوٹل جن کو جنسی عمل کے گڑھ کہنا چاہئے یورپین، جاپانی، امریکی، اور آسٹریلوی قوم پرست مردوں کے شہوت انگیخت خیالات پر مبنی اور پیٹر آرچ طرز پر تعمیر کئے گئے۔ ایشیائی عورت کے جنسی خدوخال اور شہوت انگیزی کی مذکورہ بالا ممالک میں خوب تشہیر کی گئی۔ غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ ان 16 سے 24 سال کی جوان ایشیائی لڑکیوں کی ملاقات ایسے ماحول اور قلعہ نما ہوٹلوں میں کرانے کے اشتہارات غیر ملکی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں دیئے گئے جس سے جنت کا سا نظارہ نظر آتا تھا۔ اس سے ترقی پذیر ایشیائی اور افریقی ممالک میں لڑکی کو خریدنا سیگریٹ کا پیکٹ خریدنے کے مترادف ہو گیا۔ بنکاک میں سیکس کی دنیا میں بہت سی لڑکیاں غریب دیہی علاقوں اور پسماندہ بستیوں سے آتی ہیں جو شمال مشرقی علاقوں میں واقع ہیں۔ ان علاقوں میں ایک روایت بن چکی ہے کہ سب سے عمدہ نظر آنے والی بیٹی کو اس ’’دنیا‘‘ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ وہ خاندان کی غربت کے خاتمے کے لئے پیسے کماتی ہے۔ اس چھوٹے سے غلام کے ساتھ تمام رات بہت کچھ کیا جاتا ہے جو اس خوف میں مبتلا رہتی ہے کہ رات کی ادائیگی کرنے والا ناراض نہ ہو جائے۔ بنکاک میں ایسی لڑکیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس کاروبار کو دنیا کے اول درجے میں لے جانے میں زیادہ سے زیادہ تعاون کریں۔

ویتنام میں ہونے والی جنگ ایشیاء میں معاشی نمو کی جنگ تھی۔ یہ ستم ظریفی کے طور پر بے شمار ممالک اور معیشتوں کے لئے خوش کن ثابت ہوئی۔اس دوران کوریا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپانیوں اور اوکینیوا نے ملٹری اڈوں کے باہر سیکس سنٹرز قائم کرلیے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے گئے۔ ’’آرام کرو اور پھر پیدا کرو‘‘ کی پالیسی نے نئے شہروں کی تعمیر کی اور صدر مقامات سے قومی معیشت کو وابستہ کر دیاگیا۔ ایک اندازے کے مطابق 80ء کے عشرے وسط تک فلپائن میں قائم فوجی اڈوں کے باہر بننے والی سیکس انڈسٹری 5 سو ملین امریکی ڈالر کما چکی تھی۔ ویتنام جنگ کے خاتمے پر سائی گون میں 5 لاکھ جسم فروش عورتیں پیدا ہو چکی تھیں، یہ تعداد جنگ سے قبل سائیگون کی آبادی کے برابر تھی۔ اس خطے کے کئی ایک ممالک نے سیکس کے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے پالیسیاں بنائیں اور ’’لڑکوں کی حوصلہ افزائی‘‘ کے پروگرام کی مدد کی اور قانون سازی سے ان کو تحفظ فراہم کیا۔ مثلاً تھائی لینڈنے انٹرٹینمنٹ ایکٹ منظور کیا جس کے مطابق ایک ناقابل بھروسہ پالیسی اپنائی گئی جس کا نام ’’بیوی کی خدمات حاصل کریں‘‘ رکھاگیا۔ 70ء کی دہائی کے وسط تک 8 لاکھ تھائی عورتیں جسم فروشی کے پیشے سے منسلک ہو چکی تھیں۔

ایشین عورتوں کو غیر ملکی نازک پھول، سیکسی ساتھی کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کے ساتھ مرد جو چاہے کرسکتا ہے۔ غیر ایشیائی مردوں کو معلوم ہے کہ بنکاک اور منیلا میں ان کو اس حد تک سیکس کرنے کی آزادی ہے جو ان کے اپنے ممالک میں ہر زاویہ سے غیر قانونی ہے۔ یہ ہم جنس پرستوں اور عادی مردوں کے لئے پرکشش علاقہ ہے جہاں سے سیکس انڈسٹری کے لئے آسانی سے لڑکے دستیاب ہوسکتے ہیں۔ جوان لڑکوں کی فروخت بھی ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ بلا تکلف اگر کہا جائے تو یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان میں جس چیز پر آپ کو پھانسی پر لٹکایا جاسکتا ہے وہی چیز آپ کو یہاں پر بلاخوف مل سکتی ہے۔ اگر آپ انتہائی جوان لڑکی کی خواہش رکھتے ہیں تو وہ بھی آپ کو ان ممالک میں ملے گی۔ آپ توقع کرسکتے ہیں کہ امریکی یا یورپی مرد کے سر کے اشارے پر ایشیائی مرد ہاتھوں کو کھول کر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ایک جرمن سیاح نے تھائی لینڈ کے متعلق اپنے خیالات اور تجربات کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں ہر سال 50 لاکھ سیاح آتے ہیں جن میں سے 75% مرد ہوتے ہیں۔ یہ ڈالرز، ین اور مارکس سے لدے ہوتے ہیں۔ کچھ کمپنیاں تو اپنے ملازمین کو خصوصی انعامات سے نوازتی ہیں ۔ جن کے گاہک کوئی شکایت نہیں کرتے۔ نیپال، تھائی لینڈ اور فلپائن میں سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والی یہ واحد انڈسٹری ہے۔ یہاں پر اچھی ڈیل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی نیک کام کر رہے ہیں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ