اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 43

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 43
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 43

  

ایک مجذوب قسم کا شخص پراگندہ حال اور چہرہ غبار آلود حضرت ابراہیم بن ادھم ؒ کے سامنے آگیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں سے اس کا منہ دھویا اور فرمایا۔

’’ جو منہ ذکرِ الٰہی کا مظہر ہو اس کو پراگندہ نہیں ہونا چاہیے‘‘

کچھ دیر کے بعد جب اس مجذوب کو ہوش آیا تو لوگوں نے پورا واقعہ اس سے بیان کیا جس کو سن کر اس نے توبہ کی۔ پھر حضرت ابراہیم بن ادھمؒ نے خواب میں دیکھا کہ کوئی اسے کہہ رہا ہے۔ ’’ تم نے محض خدا کے واسطے ایک مجذوب کا منہ دھویا اللہ تعالیٰ نے تمہارا قلب دھوڈالا۔‘‘

***

حضرت با یزید بسطامیؒ نے حالت وجد میں یہ کہہ دیا کہ سبحانی مااعظم الشانی یعنی میں پاک ہوں اور میری شان بہت بڑی ہے اور جب اختتام کے بعد ارادت مندوں نے یہ سوال کیا کہ یہ جملہ آپؒ نے کیوں کہا؟ تو آپ نے فرمایا۔

’’ مجھے تو علم نہیں کہ میں نے کوئی ایسا جملہ کہا ہو لیکن اگر آئندہ اس قسم کا کوئی جملہ میری زبان سے نکل جائے تو مجھے قتل کر ڈالنا۔‘‘

اس کے بعد دوبارہ حالت وجد میں پھر آپ نے یہی جملہ کہا جس پر آپ کے مریدین آپ کو قتل کردینے پر آمادہ ہوگئے لیکن پورے مکان میں اُنہیں ہر سمت بایزید ہی بایزید نظر آئے اور جب اُنہوں نے چھریاں چلانی شروع کیں تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے پانی پر چھریاں چل رہی ہوں اور آپ کے اوپر اس کا قطعاً کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر جب کچھ وقفہ کے بعد وہ حالت رفتہ رفتہ ختم ہوتی چلی گئی ، تو دیکھا کہ آپ محراب میں کھڑے ہیں اور جب مریدین نے واقعہ بیان کی تو فرمایا۔ ’’ اصل بایزید تو میں ہوں اور جن کو تم نے دیکھا وہ بایزید نہیں تھے۔‘‘

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 42پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کسی عورت نے امام احمد بن جنبلؒ سے یہ مسئلہ دریافت کیا۔ ’’ میں اپنی چھت پر سوت کات رہی تھی کہ اُسی دوران شاہی روشنی کا گزر ہوا اور پھر میں نے اُسی روشنی میں تھوڑا سا سوت کات لیا۔ اب آپ فرمائیے کہ وہ سوت جائزہ ہے یا ناجائز ۔‘‘

ییہ سن کر امام صاحب نے اُس عورت سے پوچھا۔ ’’ تم کون ہو؟‘‘ اور اس قسم کا مسئلہ کیوں دریافت کرتی ہو؟‘‘

اس عورت نے جواب دیا۔ ’’ میں بشر حافیؒ کی ہمشیرہ ہوں۔‘‘

امام صاحب نے فرمایا۔ ’’ تمہارے لیے وہ سوت جائز نہین ۔ کیونکہ تم اہل تقویٰ کے خاندان سے ہو۔ اور تمہیں اپنے بھائی کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ جو مشتبہ کھانے کی طرف ہاتھ بڑھائے تو ہاتھ بھی ان کی پیروی نہیں کرتا تھا۔ ‘‘

***

حضرت امام شافعیؒ کی والدہ محترمہ بہت بزرگ تھیں۔ اور اکثر لوگ اپنی امانتیں آپ کے پاس بطور امانت رکھوا دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ دو آدمیوں نے کپڑوں سے بھرا ہوا صندوق آپ کے پاس بطور امانت رکھوا دیا۔ اس کے بعد ایک شخص آ کروہ صندوق لے گیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد دوسرے شخص نے آکر صندوق کا مطالبہ کیا اس پر آپ نے فرمایا۔ ’’ میں تمہارے ساتھی کو وہ صندوق دے چکی ہوں۔‘‘

وہ بولا۔ ’’ جب ہم دونوں نے صندوق آپ کے پاس رکھوایا تھا تو پھر آپ نے میری موجودگی کے بغیر اُس کو صندوق کیسے دے دیا؟‘‘

اس بات سے امام شافعیؒ کی والدہ محترمہ بہت شرمندہ ہوئیں لیکن اُسی وقت امام شافعیؒ بھی گھر میں آگئے اور والدہ محترمہ سے کیفیت دریافت کرنے کے بعد اُس شخص سے بولے۔ ’’ تمہارا صندوق موجود ہے لیکن تم تنہا کیسے آگئے۔ اپنے ساتھی کو ہمراہ کیوں نہیں لائے۔ جاؤ پہلے اپنے ساتھی کو جا کر لاؤ پھر صندوق ملے گا۔‘‘ یہ جواب سن کر وہ شخص حیران ہوتا ہوا واپس چلا گیا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے