سپریم کورٹ کا وادی تیرہ میں بمباری سے جاں بحق افراد کے ورثا کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

سپریم کورٹ کا وادی تیرہ میں بمباری سے جاں بحق افراد کے ورثا کو معاوضے کی ...
سپریم کورٹ کا وادی تیرہ میں بمباری سے جاں بحق افراد کے ورثا کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے وادی تیرہ میں بمباری سے جاں بحق افراد کے ورثا کو پندرہ روز میں معاوضے کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں خیبر پختونخوا کی وادی تیرہ میں بمباری سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضہ ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پوچھا کہ ایئر فورس سے غلطی سے بمباری ہو گئی تو ذمہ دار کون ہے؟، ایسے بمباری کون کر سکتا ہے؟۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کہا گیا کہ غلط معلومات کی بنیاد پر بمباری کرا دی گئی، 10 لاکھ روپے معاوضے کی بات ہے۔

وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر کہا کہ شہری علاقے میں نقصان پر صوبائی حکومت معاوضہ ادا کرے گی، جبکہ فاٹا میں جانی نقصان ہو تو پولیٹیکل ایجنٹ معاوضہ دیتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جن لوگوں کو معاوضہ دینا ہے ان کو بلا لیتے ہیں، 6 لوگ شہید ہوں تو ان کے ورثا کو ادائیگی تو کرنا پڑے گی۔

حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا نے یہ معاوضہ ادا کرنا ہے۔ سپریم کورٹ نے پندرہ روز میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غریب لوگوں کو ان کا حق دیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد