کیامولانا فضل الرحمان ،اپوزیشن کو اکٹھا کر لیں گے؟

کیامولانا فضل الرحمان ،اپوزیشن کو اکٹھا کر لیں گے؟
کیامولانا فضل الرحمان ،اپوزیشن کو اکٹھا کر لیں گے؟

  

کیا اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کی کوششیں کامیاب ہو جائیں گی؟ یہ ایسا سوال ہے جو آجکل ہر کوئی ایک دوسرے سے پوچھ رہا ہے۔ان دنوں اگر آصف زرداری اور میاں شہباز شریف اکٹھے قومی اسمبلی میں داخل ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک اہم سیاسی ڈویلپمنٹ تصور ہوتی ہے۔دوسری طرف نواز شریف زرداری کو قریب لانے کی فضل الرحمان کی تمام کوششیں ناکام ہوتے دکھائی دے رہی ہیں۔ اگرچہ سربراہ جے یو آئی (ف) دونوں رہنماؤں سے مفادات سمیٹ رہے ہیں۔ تاہم مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت اس حوالے سے اپنے طور پر پیش رفت کرنا چاہتی تھی مگر یہ امکان اس وقت جاتی امراء میں ہونے والے ن لیگ کے ایک اجلاس میں معدوم ہو گیا جب نواز شریف نے زرداری سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔ شہباز شریف نے بھی بڑے بھائی کو جیل سے پیغام بھجوایا کہ ماضی قریب میں ہم نے پیپلزپارٹی کو مشترکہ احتجاج کی دعوت دی تھی مگر اپوزیشن اتحاد کا حصہ ہونے کے باوجود انہوں نے ہمارے احتجاج میں شرکت نہیں کی اور کسی احتجاجی تحریک کا حصہ بننے سے بھی انکار کر دیا تھا مگر اب جب آصف زرداری پر مشکل وقت آ رہا ہے تو انہوں نے مفاہمت کی پیشکش کر دی ہے مگر یہ وقت مناسب نہیں ہے لہٰذا ان سے تعاون کا ہمارے اور پارٹی کیلئے مناسب نہیں ہو گا۔

خود نواز شریف نے اجلاس میں موقف اختیار کیا کہ ابھی تمام توجہ مقدمات پر مرکوز ہے۔ پارٹی جی ٹی روڈ والی سیاست کی ان دنوں متحمل نہیں ہو سکتی اس لیے جارحانہ سیاست سے گریز کیا جائے گا۔ اکثر پارٹی رہنماؤں نے بھی تصادم اور محاذ آرائی سے گریز کا مشورہ دیا اور کہا کہ فی الحال دیکھیں زرداری اور پیپلزپارٹی کی دوسری قیادت کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے اور پیپلز پارٹی گرفتاریوں کی صورت میں کیا ردعمل اختیار کرتی ہے جس کے بعد کثرت رائے سے زرداری کی مفاہمت کی پیشکش کو مسترد کر دیا گیا ۔ حکومت مخالف کسی زوردار عوامی تحریک کا فضل الرحمان کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے دوٹوک انداز میں یہ کہہ کرکہ کسی سے ڈیل ہو گی نہ کسی کو این آر او ملے گا، قوم سے احتساب کا وعدہ کر کے آیا ہوں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا، ڈیل کی باتوں کی بھرپور انداز سے نفی کر دی، ورنہ دور کی کوڑی لانے والے اور نواز شریف کے دسترخوان کے خوشہ چیں نواز شریف کی خاموشی، اداروں پر تنقید سے گریز، جارحانہ پالیسی نہ اپنانے کے فیصلہ اور خود کو گھر تک محدود رکھنے اور حالیہ پارٹی فیصلہ کو ڈیل کا نتیجہ قرار دے رہے تھے وزیر اعظم کے قوم سے خطاب نے اس تاثر کو مکمل طور پر زائل کر دیا۔

کچھ دانشوروں کے نزدیک سعودی عرب کی طرف سے ریلیف پیکیج کو ناممکن قرار دیا جا رہا تھا۔ اپوزیشن بھی آئی ایم ایف سے رجوع پر تنقید کے تیر برسا رہی تھی مگر وزیر اعظم ملکی مفاد میں اس بحران سے نکلنے کیلئے پرعزم تھے اور آخر دم تک آئی ایم ایف کو آخری آپشن رکھا۔ سعودی عرب کے کامیاب دورے کے بعد چین اور یو اے ای کے وزیراعظم کے دوروں کی کامیابی بارے بھی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔

جن قرضوں کی قسط اور سود کی ادائیگی کیلئے تحریک انصاف کی حکومت ابتداء میں ہی بحران کا شکار ہوئی ہے اس میں سے ایک پیسے کا قرض موجودہ حکومت نے حاصل نہیں کیا بلکہ کل قرض میں سے نصف سے زائد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے گزشتہ 10 سال میں حاصل کیا۔ وزیراعظم نے اس دور میں حاصل کیے گئے قرضوں کے آڈٹ کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس آڈٹ کی تہہ سے بھی گھپلے، غبن اور بدعنوانی برآمد ہوگی۔

حکومت کو گرداب میں پھنسانے کیلئے بے چین فضل الرحمان کی اپوزیشن جماعتوں کو متحد کر کے خود مفادات سمیٹنے، اقتدار میں ساجھے دار بننے کے کھلی آنکھوں کے خواب تعبیر ملنے سے پہلے ہی ملیامیٹ ہو گئے۔ نواز شریف اور آصف زرداری کا مقدمات سے بچنے کیلئے اتحاد کر کے حکومت پر دباؤ بڑھانے کا منصوبہ بھی ابتداء ہی میں ناکام ہو گیا، اب سابق حکمران جماعتوں کی قیادت کے پاس احتساب کے پل صراط سے گزرے بناء کوئی چارہ نہیں ہے، گوکہ احتساب سے بچنے کیلئے سندھ حکومت ایف آئی اے اور نیب سے تعاون نہیں کر رہی اور عدالت عظمیٰ کے حکم کے باوجود گزشتہ دس سال کے سرکاری اکاؤنٹس، ٹھیکوں کی تفصیل فراہم کرنے میں لیت ولعل سے کام لے رہی ہے۔ سندھ حکومت کا یہ طرزعمل بتا رہا ہے کہ وہ مزید اقتدار میں رہنے کی خواہش مند نہیں ہے اس لیے سندھ میں گورنر راج کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ حکومت پر تنقید کیلئے مواد فراہم کیا جا سکے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ