’نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر حملہ کرنے والے اسے قتل کرکے زیر جامہ ساتھ لے گئے کیونکہ۔۔۔‘ وکیل نے عدالت میں ایسا انکشاف کردیا کہ ہر کسی کا دل دہل گیا

’نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر حملہ کرنے والے اسے ...
’نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر حملہ کرنے والے اسے قتل کرکے زیر جامہ ساتھ لے گئے کیونکہ۔۔۔‘ وکیل نے عدالت میں ایسا انکشاف کردیا کہ ہر کسی کا دل دہل گیا

  

کیپ ٹاﺅن(مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی افریقہ میں ایک لڑکی کو چار ملزمان نے اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کر دیا اور جاتے ہوئے اس کا زیرجامہ اپنے ساتھ لے گئے، جس کی وجہ ایسی تھی کہ جب وکیل نے عدالت میں یہ بات بتائی تو سن کر ہر کسی کا دل دہل گیا۔ میل آن لائن کے مطابق 21سالہ ہینا کارنیلس نامی اس لڑکی کو اس کے 22سالہ بوائے فرینڈ چیسلین مارش کے ہمراہ مئی 2017ءمیں اغواءکرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کیس کی سماعت کے دوران گزشتہ روز وکیل کے عدالت میں بتایا کہ ”جب ملزمان نے مقتولہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی تو اس نے بھرپور مزاحمت کی اور وہ اس پر بمشکل قابو پا سکے۔ چنانچہ جب انہوں نے اسے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر ڈالا تو اپنی فتح کی علامت کے طور پر بطور ٹرافی اس کا زیرجامہ اپنے ساتھ لے گئے۔“

پراسیکیوٹر لینرو بیڈن ہارسٹ کا کہنا تھا کہ ”ملزمان نے لڑکی کو قتل بھی اسی وجہ سے کیا کہ اس نے جنسی زیادتی میں شدید مزاحمت کی تھی۔“ رپورٹ کے مطابق ملزمان 27سالہ گیرالڈو پارسنز، 33سالہ ویرنن وائٹبوئی، 29سالہ نیشوائل جولیئس اور 28سالہ ایبن وین نیکریک نے ہینا کا پہلے گلا کاٹ کر اسے قتل کیا اور پھر اس کے سر میں پتھر مار کر اس کا چہرہ مسخ کر دیا۔ اسے قتل کرنے کے بعدوہ اس کے بوائے فرینڈ چیسلین کے سر پر بھی پتھر برساتے رہے اور اپنی طرف سے اسے مردہ جان کر چلے گئے تاہم چیسلین خوش قسمتی سے ابھی زندہ تھا۔ اسے ہسپتال منتقل کیا گیا چند ہفتے وہاں رہنے کے بعد وہ صحت مند ہو گیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس