’’جس گھر میں کتا موجود ہو وہاں رحمت کے فرشتے کیوں نہیں آتے‘‘وہ حکیمانہ بات جو حضرت جبریل ؑ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی تھی،آپ بھی اصلاح احوال کے لئے جانئے

’’جس گھر میں کتا موجود ہو وہاں رحمت کے فرشتے کیوں نہیں آتے‘‘وہ حکیمانہ بات ...
’’جس گھر میں کتا موجود ہو وہاں رحمت کے فرشتے کیوں نہیں آتے‘‘وہ حکیمانہ بات جو حضرت جبریل ؑ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی تھی،آپ بھی اصلاح احوال کے لئے جانئے

  

لاہور(نظام الدولہ) مسلمانوں کو جانوروں کے ساتھ بھی شفقت کے ساتھ پیش آنے کا حکم ہے لیکن اس کے لئے یہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ جن جانوروں کے بارے میں اسلام نے ممنوعہ حکم دیا ہو،اس کی محبت میں اسلامی شعائر کی نافرمانی نہیں کرنی چاہئے ۔کتا ایسا ہی جانور جو اب گھروں میں آزادانہ گھومتا پھرتا ہے حتیٰ کہ بیڈ روم میں بھی اسکو ساتھ رکھا اور سلایا جانے لگاہے ۔مغرب کی دیکھا دیکھی کتے جیسے ناپاک جانور کے ساتھ لپٹنے کا رواج پاکستان میں بھی پایا جانے لگا ہے ۔اسلام میں کتے کو ناپاک جانور قراردیا ہے اورجس گھر میں یہ موجود ہو وہاں رحمت کے فرشتے قدم نہیں رکھتے ۔

مسلمِ شریف ،سنن ابوداؤد ،مسند احمد سمیت دیگر احادیث کی کتب میں ام المومنین حضرت سیدہ میمونہؓ سے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی علیہ وسلم بیدار ہوئے توغمگین اور خاموش تھے۔ میں نے پوچھا’’ یا رسولﷺ، کیا بات ہے ،آپ کی کیفیت بدلی بدلی ہے؟ ‘‘فرمایا’’ حضرت جبریل علیہ السلام نے رات آنے کا وعدہ کیا تھا پر نہیں آئے‘‘ پورا دن اسی طرح گزرا ،پھر آپ کو یاد آیاکہ ہمارے بچھونے کے نیچے کتے کاایک پلا ہے۔آپﷺ نے اسے نکالنے کو کہا اور اپنے دست مبارک سے اس جگہ پانی چھڑک دیا۔ اگلی رات جضرت جبریل علیہ السلام آئے اور کہا’’ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو یا تصویر ہو ‘‘ 

مزید : روشن کرنیں