ٹیکس کلچر کو پروموٹ کرنے کی ضرورت

ٹیکس کلچر کو پروموٹ کرنے کی ضرورت
ٹیکس کلچر کو پروموٹ کرنے کی ضرورت

  

ٹیکس دینا اور ٹیکس کو عوام کے لئے مناسب طریقہ سے خرچ کرنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ٹیکس دینا شہریوں کا فرض بھی ہے اور ذمہ داری بھی ہے۔ ترقی یافتہ اور یورپی ممالک کی صنعتوں کی ترقی، زرعی ترقی، معاشی ترقی کو دیکھ لیں، ٹیکس کلچر کے سبب ہی یہ سب کچھ ممکن ہوا۔ وزیراعظم نے بھی شکایت کی ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے تو ملک کیسے چلے گا اور 14 ماہ میں تبدیلی کیسے آئے گی؟بھیک مانگ کر اور قرضے لے کر قومیں نہیں بنتیں؟ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہو گا۔ خود مختار قوم بننا ہے تو ٹیکس دینا پڑے گا۔ ٹیکس دینا کیوں ضروری ہے اور ٹیکس سے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ جس طرح ٹیکس کی ادائیگی کی بہت سی وجوہات ہیں۔اسی طرح ٹیکس ادا نہ کرنے کی بھی بہت سی وجوہات ہیں۔

کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ان کا ٹیکس عوام پر نہیں لگے گا،بلکہ سیاست اور کرپشن کی نذر ہو گا، جس کے سبب وہ ٹیکس دینے کا ارادہ ہونے باوجود ٹیکس نہیں دیتے۔اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اور دنیا کے ہر مسئلے کا حل اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل درآمد سے ممکن ہے۔ ریاست مدینہ کا مطالعہ اس کے لئے بہت ضروری ہے، کیونکہ زکوٰۃ کا نظام اسلام میں اسی لئے ہے کہ روپے کی تقسیم بھی مساویانہ بنیادوں پر ہوتی رہے اور غربت کا خاتمہ ہو۔ اسی طرح عشر کا نظام بھی بہت سی مشکلات کو دور کرتا ہے۔ جب قوم کو یقین ہو جاتا ہے کہ کروڑوں کے ٹیکس کی رقم کو حکومت نے استعمال میں لا کر عوام کو ریلیف دینا ہے تو ٹیکس کلچر خود بخود پروان چڑھتا ہے۔ ٹیکس کلچر کو پروان چڑھانے کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔معاشی نظام کو مستحکم کرنے کے لئے بند صنعتی یونٹس پر بھی وزیراعظم نے توجہ دی ہے۔ صنعتی شعبے کی بحالی اور اصلاحات کے لئے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جائیں تو سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

ایف بی آر کی کمپین کے سبب اگرچہ اب پاکستان کے ٹیکس فائلرز میں لاکھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن سیمینار اور آگاہی مہم کے ذریعے یونین کونسل، ضلع اور تحصیل کی سطح پر آگاہی مہمیں ہونا چاہئیں،جس میں عوام کو قائل کیا جائے، ٹیکس کے سبب ہی ملک کی معاشی بنیادیں مضبوط اور ملک ترقی کی طرف قدم بڑھا کر عوامی مسائل کو حل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ جب تک عوام ٹیکس کو بوجھ تصور کریں گے، تب تک ملک میں ٹیکس کی ادائیگی کی ریت و رواج کم ہوتا رہے گا۔ پاکستان میں اعداد و شمار کے مطابق بہت سے پاکستانی اپنی جائیدادیں چھپاتے ہیں،اپنے کاروبار کو ظاہر نہیں کرتے ہیں، جس سے سرکاری خزانے میں دولت جمع نہیں ہوتی۔ ٹیکس کلچر کی پروموشن کے لئے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پروگرامز، سرکاری ٹیلی ویژن ایسے خصوصی پروگرامز کی تشکیل کرے کہ جس سے عوام ٹیکس کی ذمہ داری پر راضی نظر آئیں۔

پچھلی حکومت میں ٹیکس کلچر پروموشن سوسائٹی کی تشکیل دیں، جن سے ایسے اقدامات کئے گئے تھے، حالانکہ دُنیا بھر میں پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کو دیکھ لیں۔ وہاں بھی ٹیکس کی ادائیگی شہری مقدس فریضہ خیال کرتے ہیں۔پاکستان میں لاکھوں امیر ترین افراد نے جائیدادیں کسی نہ کسی طریقے سے چھپائی ہوئی ہیں یا اپنی جائیدادیں کسی اور کے نام منتقل کی ہوئی ہیں۔ ٹیکس دہندگان کے لئے ملک بھر میں ایوارڈ کا سلسلہ بھی شروع کرنا چاہئے اور کچھ خصوصی مراعات، جیسے اشیاء کی خریداری، ہسپتالوں، ادویات وغیرہ پر دینا چاہئیں تاکہ عوام ایسے حکومتی اقدامات کی بدولت ریاست کا اچھا شہری ہونے کا ثبوت دے سکیں۔ موجودہ حالات میں ملک کو اسی وجہ سے سنبھالا دینے میں شدید مشکلات در پیش ہیں اور ملک قرضوں کے بوجھ سے نکل نہیں پا رہا۔ اقتصادی صورتِ حال کئی سال سے پچھلی حکومتیں خراب کرتی آئی ہیں اور حساب ان کو دینا پڑ رہا ہے۔ کامیاب جوان پروگرام کے تحت ملک بھر سے 10 لاکھ نوجوانوں کو میرٹ پر 100 ارب روپے قرضے دینے کا پروگرام ہے۔ان میں 25فیصد قرضے خواتین کے لئے ہیں۔

”کامیاب جوان پروگرام“ یقینا نوجوانوں میں ہمت و حوصلہ پیدا کرنے کا وسیلہ ہے، لیکن بات ہو رہی تھی ٹیکس کلچر کی تو ٹیکس کلچر کو پروموٹ کرنا ہر شہری کا فریضہ ہونا چاہئے۔ پاکستان کی آبادی میں اضافہ اور وسائل پر بوجھ بھی ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے اور ٹیکس کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ نئی ٹیکس تجاویز لینا چاہئیں۔ افواج پاکستان سے، بیورو کریسی سے،تاجران سے، صنعت کاروں، سرمایہ داروں اور اوورسیز پاکستانیوں سے اور ان تجاویز کی روشنی میں قابل ِ عمل پلان تیار کر کے ٹیکس کی شرح میں اضافے کے لئے اقدامات اور عوامی ردعمل کو بھی سامنے رکھنا چاہئے۔ بھارت کی حکومت امیر ہے اور پاکستان کی غریب، اس طرح پاکستان کے عوام امیر ہیں اور بھارت کے غریب۔یہ فرق ہے دونوں ممالک کا۔اب ٹیکس کے ذریعہ پیسہ کس طرح اکٹھا کر کے پاکستان کی حکومت کو امیر کرنا ہے، سوچنا اور عمل درآمد اس بات پر ہے۔ ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی ٹیکس اصلاحات کا بھی مطالعہ کرنا ہے تاکہ پاکستان کی معیشت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے اصلاحات کا ایجنڈا تیار کیا جا سکے۔ پاکستان میں کرپشن اور ٹیکس دو ایسے عناصر ہیں، جن کے لئے وقت درکارہے۔

عمران خاں کا بھی یہی کہنا ہے کہ بٹن دبانے سے تبدیلی تو نہیں آتی، کئی عشروں سے بگڑی قوم کو سیدھے راستے پر لانے کے لئے 14 ماہ کافی نہیں ہیں۔ عوامی رائے بھی یہی ہے کہ اگر عمران خان ملک کو مستقبل بنیادوں پر قائم کرنے کی منصوبہ بندی میں کامیاب ہو گئے تو پھر وہ بھی مہاتیر محمد ثابت ہوں گے۔ نظاموں میں بہتری لانے کے لئے وقت اور منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ ریاست مدینہ کو بھی ریاست مدینہ بننے میں وقت لگا تھا۔ حضور پاک ؐ کی زندگی مکی اور مدنی کے حالات واقعات آپ کے سامنے ہیں کہ کس طرح صدیوں پرانے نظام کی تبدیلی ریاست مدینہ میں ہوئی اور خلفائے راشدین کے زمانے میں ٹیکس نظام، یعنی مؤثر ٹیکس نظام اور جزیہ کے تصور سے کئی لاکھ میلوں پر پھیلی اسلامی ریاست کو خلفائے راشدین نے مؤثر نظام کے ذریعے چلایا، جس میں آج کے مصر، شام، ایران، عراق، فلسطین، یمن، سعودی عرب اور دیگر ممالک تھے۔ ٹیکس کلچر موجود تھا۔ پاکستان میں بھی اسلامی ٹیکس نظام کے ذریعے ملک ترقی اور تبدیلی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -