سب ”آئی واش“ ہے حکومت کہیں نہیں جائے گی 

سب ”آئی واش“ ہے حکومت کہیں نہیں جائے گی 

  



تجزیہ : ایثار رانا

اونٹ ایک حملے میں مارا  نہیں جاتا۔ اسے سات زخم لگانے پڑتے ہیں۔حکومت کی مثال بھی ایسی ہے وہ ایک  حملے میں ہل سکتی ہے گرتی نہیں۔ ٹیکس دینے کے خلاف تاجروں کی ہڑتال  کامیاب رہی۔میاں صا حب کو دو ماہ کی چھوٹ مل گئی۔مولانا فضل الرحمن کامیاب شو کرتے ہوئے آج لاہور پڑاؤ ڈال چکے۔مولانا خادم حسین دو نومبر کو نکلیں گے۔گرتی ہوئی معیشت کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا ہوچکا۔جس میں سب محب وطن لیڈر اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر ایک قصہ پارینہ ہوگیا۔وہاں اب بھارت جو مرضی ظلم کرے یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔اب میڈیا کی پہلی ترجیح آزادی مارچ پھر میاں صاحب کی بیماری اور مولانا رضوی کا مجوزہ احتجاج ہے۔مولانا کا آزادی مارچ مظلوم کشمیریوں کو تو آزادی نہ دلاسکا پاکستان میں کوئی چھوٹا موٹا انقلاب ضرور لائے گا۔عمران جکومت کے خاتمے کی باتیں شروع ہوگئی ہیں۔بڑے بڑے استاد حکومت پر سے ہاتھ اٹھانے کا اعلان کررہے ہیں۔۔جیسے جہاز ڈوبنے سے پہلے چوہے چھلانگیں لگاتے ہیں۔لیکن میں عرض کروں یہ سب 'آئی واش'ہے حکومت کہیں نہیں جائے گی۔کیونکہ اس بار اس نظام کی اکیلی 'کسٹوڈین'حکومت نہیں۔اس نظام کی ناکامی فقط عمران خان کی ناکامی نہیں ہوگا۔آخری بات  ہم کب تک اوپر سے نیچے تک 'امیچورٹی'کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔کیا عمران خان کے جانے سے سب مسئلے حل ہوجائیں گے؟؟کب تک ہم ان ٹوپی ڈراموں سے بس چہرے بدل کے بیس کروڑ لوگوں کو بے وقوف بناتے رہیں گے؟؟وہی سو دو سو خاندان پیپلز پارٹی مسلم لیگ پی ٹی آئی میں گھوم پھر کے اس ملک کو لوٹتے رہیں گے۔مٹھی بھر افراد دس ہزار بیس ہزار پچاس ہزار کوئی معمولی سی اکثریت والی جماعت اس سسٹم کو جب چاہے چیلنج کرتے رہیں گے۔عمران خان کیا این آر او دینگے پچھلے چالیس سال سے اس ملک کے تمام اداروں اور وسائل پر مکمل قبضہ رکھنے والے عمران خان کو این آر او نہیں دینگے۔فضل الرحمن کا مارچ پہلا ٹریلر ہے مکمل فلم ابھی چلنی ہے۔دکھ ہوتا ہے اس ملک کی قسمت پہ۔مٹھی بھر طاقتور وڈیرے جب چاہیں پورے ملک کو یرغمال بناسکتے ہیں۔اور یہ عناصر صرف اپوزیشن نہیں حکومت میں بھی موجود ہیں۔رہی عوام تو اسکی حیثیت اوقات کیا۔۔اسکے ن لیگ کو پڑے ووٹوں کو پی ٹی آئی نہیں مانتی۔تحریک انصاف کو ملے ووٹوں کی مسلم لیگ پیپلز پارٹی کی نظر میں عزت نہیں۔پھر کہتے ہیں یہ لوگ سیاستدانوں کی کردار کشی کی جاتی ہے۔اور عالم یہ ہے کہ خود یہ ایک دوسرے کو عزت دینے پہ تیار نہیں۔انکی نظر میں جمہوریت کا مطلب صرف انکا حلوہ مانڈہ ہے۔۔اخلاقیات جمہوریت ملک اکانومی گئی بھاڑ میں..

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ


loading...