پولیس اور ماڈل افسر 

پولیس اور ماڈل افسر 
پولیس اور ماڈل افسر 

  

2000 ء کی دہائی کے آغاز میں چلے جائیں تو پاکستان بہت بری طرح دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ پاکستان کا نام سن کر لوگوں کے ذہن میں یہی آتا تھا کہ یہاں بہت حملے ہوتے ہیں اور یہ ملک بالکل محفوظ نہیں۔ ہمارے دشمن ممالک ہم پر یہ ٹیگ لگانے کی سازش کررہے تھے کہ ہم دہشت گرد بناتے ہیں۔ اب حالات کچھ اور ہیں۔ ایک امریکی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان بہترین سیاحتی مقامات کی فہرست میں اوّل آیا ہے۔ ایسا کیسے ممکن ہوا؟۔ بلاشبہ دہشت گردی کے خاتمے میں ہماری فوج اور پولیس کا بڑا ہاتھ ہے۔ لوگ اس بات کو جانتے ہیں، تسلیم بھی کرتے ہیں۔

لیکن آج بھی  پولیس  ڈیپارٹمنٹ معاشرے کی سخت تنقید کا شکار ہے۔ دہشت گردی کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو سٹریٹ کرائم میں بھی واضح کمی آئی ہے اور اس کمی کی بڑی وجہ ڈولفن پولیس فورس ہے۔ ڈولفن فورس سٹریٹ کرائم سے نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس کا ایلیٹ سیکیورٹی پوائنٹ  ہے۔ اس کی تشکیل سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے لاہور میں کی اور اپنے مقصد یعنی سٹریٹ کرائم میں کمی لانے میں خاصی حد تک کامیاب ہوئے۔ موجودہ ایس پی ڈولفن راشد ہدایت سے ملاقات کے بعد کافی معلومات حاصل  ہوئیں، ہم نے 2019ء اگست کا 2020ء  اگست سے موازنہ کیا تو جرائم کے گرینڈ ٹوٹل میں قابل ذکر کمی دیکھنے کو ملی۔ اگست 2019ء میں ڈکیتی کی 384 وارداتیں  ہوئیں  اور 217 راہزنی کی جو اگست 2020ء میں کم ہو کر 272 ڈکیتی اور 167 تک آگئیں۔ دیکھا جائے تو تمام کرائم ریٹ میں پچھلے سال کی نسبت پچیس سے تیس فیصد کمی دیکھنے کو ملی۔ ایسی کارکردگی کے باوجود عوام کے زیادہ تر طنز اور طعنوں کا سب سے زیادہ شکار ڈولفن پولیس والے ہی ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ان میں سے کچھ باتیں سچ بھی ہوں،لیکن سوال یہ ہے کہ جب کسی  کے غلط کاموں پر ڈھول پیٹا جاتا ہے تو اچھی کارکردگی پر تعریف کیوں نہیں کی جاتی؟

 سانحہ موٹروے سے تو تقریباً سب ہی آگاہ ہیں۔ یہ خوفناک واقعہ سوشل میڈیا پر پانچ چھ دن مسلسل ٹاپ ٹرینڈ بھی رہا۔ ہر شحص نے اس ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کی، لیکن  کیا کسی نے  ڈولفن پولیس کے کردار کا جائزہ لیا۔ ڈولفن فورس کے اہلکار  محمود بوٹی گول چکر کے پاس اپنی روٹین کی پٹرولنگ کر رہے تھے کہ انہیں کال آتی ہے کہ کوئی موٹروے پر ڈکیتی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رات 2 بج کر 49 منٹ پر انہیں کال آتی ہے اور 2 بج کر 53 منٹ پر انہوں نے اپنی پوزیشن موٹروے رپورٹ بھی کرادی۔ گاڑی کی حالت کو دیکھ کر وہ نیچے جنگل کی طرف گئے اور وہاں انہیں وہ خاتون ملی، پھر وہ اسے اپنے ساتھ اوپر لے کر آئے، انہیں پانی پلایا اور انہیں حوصلہ دیا۔ اب اگر وہ بھی باقیوں کی طرح کوتاہی یا سستی کا مظاہرہ کرتے تو بلاشبہ وہ خاتون زندہ بھی نہ ملتی۔ اسی سانحہ کے دوران سی سی پی او نے کچھ الٹے  سیدھے بیانات دئیے جس سے عوام سخت آگ بگولا ہوگئے، لوگوں  نے حکومت سے سی سی پی او کو معطل کرنے کا مطالبہ بھی کیا،سی سی پی او کے بیانات سے ان کی اپنی ساکھ تو خراب ہوئی لیکن ساتھ ساتھ پورے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بھی دھچکا لگا۔ عوام کہتے  ہیں  پولیس کرپٹ ہے۔ اگر یہ کہا جائے کے پولیس میں چند ایک لوگ کرپٹ ہیں تو کوئی حرج نہیں، مگر پورے ادارے پر ہی الزام لگا دینا انصاف نہیں  ہے۔

ڈولفن پولیس میں 70 فیصد اہلکار کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل ہیں۔ یہ کہنا بالکل غلط نہ ہوگا کہ یہی لوگ ڈولفن فورس کا فیس ہوتے ہیں۔ اب ڈولفن پولیس کا ”فیس“ بننے کے لیے آپ کو میٹرک میں بس 50 فیصد نمبر درکار ہیں۔ ایس پی  ڈولفن نے کیا خوب بات کی کہ آپ مجھے پڑھے لکھے افسران دیں، باقی میرا کام ہے کہ جرائم پر موثر کنٹرول کیسے کرتا ہوں؟ اسی لیے بیشتر لوگوں کو 15 کے علاوہ دوسرے کسی ادارے کی ہیلپ لائن کا ہی نہیں پتا ہوتا۔ یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ ڈولفن پولیس کا شکایت سیل پوری طرح سے عوام کے ساتھ تعاون کرتا  اور شکایات پر باقاعدہ انکوائری کمیٹی بیٹھتی ہے۔تھانہ کلچر کی تبدیلی کا نعرہ سنتے سنتے کان پک چکے، پی ٹی آئی نے بھی یہی دعویٰ کیا تھا جو دوسرے دعووں کی طرح کھوکھلا نکلا۔ پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے پہلے سے کہیں بڑھ کر استعمال کیا جارہا ہے، چھوٹے، بڑے افسروں کے آئے روز بلا جواز تبادلے فورس کا مورال ڈاؤن کررہے ہیں۔ پولیس سٹیشنوں میں شہریوں کی تذلیل کا سلسلہ آج بھی جاری ہے،ماڈل پولیس، ماڈل افسر ہی بنا سکتے ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -