سندھ میں گندم کی امداد ی قیمت 2ہزار روپے من مقرر کرنے کا فیصلہ، گنے کی امدادی قیمت 202روپے فی من مقرر کرنیکی منظوری 

    سندھ میں گندم کی امداد ی قیمت 2ہزار روپے من مقرر کرنے کا فیصلہ، گنے کی ...

  

 کراچی(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) سندھ میں گندم کی امدادی قیمت 2ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا،وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کا بینہ کا اجلاس ہوا۔ کابینہ نے گنے کی امدادی قیمت 2سو 2روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دید ی۔ترجمان وزیر اعلی سندھ نے صوبائی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ سندھ میں گندم کی امدادی قیمت 2ہزار روپے من مقر ر کرنے کا فیصلہ کیا گیا 16-2015سے 19-2018تک سپورٹ پرائس 1300روپے فی من تھی۔اجلاس کو بتایا گیا 20-2019میں گندم کی قیمت ایک ہزار 400روپے فی من مقرر کی گئی تھی۔وزیر خوراک ہری رام نے کابینہ کا بتایا درآمد شدہ گندم ہم 5ہزار روپے فی 40 کلوگرام پر لیتے ہیں۔وزیر اعلی سندھ نے کہا ہم درآمد شدہ گندم پر غیر ملکی زر مبادلہ خرچ کرتے ہیں۔سیکرٹری خوراک نے کہا درآمد شدہ گندم کا معیار ہماری اپنی گندم کے معیار سے کم ہے اور 2007-08میں سپورٹ پرائس 625فی 40کلوگرام تھی جبکہ سندھ حکومت نے 9-2008میں سپورٹ پرائس بڑھا کے 950روپے فی من مقرر کی تھی جس کے نتیجے میں گندم زیادہ اگائی گئی اور سندھ میں بہترین فصل ہوئی۔دوسری طرف وزیر زراعت سندھ محمد اسماعیل راہو نے کہا گندم کی امدادی قیمت 1600روپے فی من مقرر کرنا کسان دشمنی کے مترادف ہے، وفاق نے گندم کا مصنوعی بحران جان بوجھ کر پیدا کیا۔ موجودہ حکومت میں کاشتکاروں کو جائز حق نہیں مل رہے، فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے وفاق کا رویہ افسوسناک ہے، خان صاحب کے کرتا دھرتا مافیاز نے گندم چھپا رکھی تھی قلت پیدا ہونے کے بعد وہ مارکیٹوں میں لے آئے، نیازی سرکار باہر سے گندم منگوا کر بیرون ممالک کے کاشتکار کو فائد ہ پہنچا رہی ہے۔یہاں کے کاشتکاروں کو کوئی سبسڈی نہیں دی جارہی۔اسماعیل راہونے کہا وفاق کو یوریا، ڈی ای پی اور ڈیزل کی قیمتیں دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔

گندم قیمت

مزید :

صفحہ آخر -