فرانس، گرجا گھر کے قریب چاقو بردار کا حملہ، خاتون سمیت 3افرا د ہلاک، کئی زخمی 

فرانس، گرجا گھر کے قریب چاقو بردار کا حملہ، خاتون سمیت 3افرا د ہلاک، کئی ...

  

پیرس(آئی این پی)فرانس کے شہر نیس میں ایک حملہ آور نے چاقو کے وار کر کے ایک خاتون کا گلا کاٹنے کے علاوہ 2افراد کو ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کردیا۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ شہر کے ایک گرجا گھر کے قریب پیش آیا، مذکورہ حملے کو شہر کے میئر سے دہشتگردی کا واقعہ قرار دے دیا۔پولیس کے مطابق ایک خاتون کا گلا کاٹ دیا گیا ہے جبکہ فرانسیسی سیاستدان میرین لی پین نے بھی حملے میں خاتون کاگلا کاٹے جانے کا ذکر کیا۔میئر کرسٹین اسیٹروس نے بتایا کہ چاقو کا حملہ فرانس کے مشہور گرجا گھر نوٹرے ڈیم کے قریب پیش آیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے۔ چاقو کے وار سے3افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ واقعے میں متعدد افراد زخمی بھی ہیں۔فرانس کے انسداد دہشت گردی پراسیکیوٹر ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ انہیں اس حملے کی تفتیش کا کہا گیا ہے۔ مذکورہ واقعے پر فرانسیسی پارلیمان کے اجلاس میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ چاقو کے حملے کا مقصد کیا تھا اور کیا اس کا گستاخانہ خاکوں کے معاملے سے کوئی لینا دینا ہے یا نہیں۔فرانس کے وزیر داخلہ نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ ایک کرائسز منیجمنٹ اجلاس منعقد کررہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ حملے کے مقام سے دور رہیں۔

فرانس حملہ 

تہران(این این آئی)فرانسیسی صدر کے گستاخانہ بیانات کے خلاف مسلم دنیا میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، تہران میں فرانسیسی سفارت خانے کے باہر سیکڑوں افراد نے دھرنا دیا، ڈھاکا میں ہزاروں افراد نے بڑا مظاہرہ کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق گستاخانہ خاکوں اور فرانسیسی صدر میکرون کی ڈھٹائی کے خلاف مسلمانوں کا شدید رد عمل جاری ہے، تہران میں فرانسیسی سفارت خانے کے باہر سیکڑوں ایرانیوں نے دھرنا دیا، مظاہرین نے فرانسیسی صدر کا پوسٹر جلا دیا۔ احتجاج میں شریک افراد نے فرنچ مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا، خواتین نے بھی سفارت خانے کے سامنے دھرنے میں شرکت کی۔بنگلہ دیش میں بھی بڑا مظاہرہ کیا گیا، ڈھاکا کی جامع مسجد سے نکالی گئی ریلی میں شریک افراد نے فرانسیسی سفارت خانے کی طرف مارچ کیا۔ دینی جماعت کے کارکنوں نے فرانسیسی صدر کا پتلا جلایا، مظاہرین نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا بھی مطالبہ کیا۔قوامِ متحدہ کے تہذیبوں کے اتحادسے متعلق یونٹ کے سربراہ میگول اینجل موراٹینوز نے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوامِ متحدہ کے نمائندے میگول اینجل نے کہا کہ ایک مذہب کے عقائد پر حملہ کیا گیا جس نے بے گناہ شہریوں کو تشدد کی کارروائیوں پر اکسایا۔انہوں نے خبردار کیا کہ مذاہب اور مقدس شخصیات کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات سے نفرتیں جنم لیتی ہیں جو معاشرے کی تقسیم اور انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہے۔مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی پْر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اب مسلمانوں کی دل آزاری کرنا بند کرے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حضورﷺکے یومِ ولادت پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصری صدر نے فرانس میں جاری اسلام مخالف مہم کی مذمت کی اور کہا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر حضور ﷺ کی گستاخی کسی طور قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی نبی یا پیغمبر کی شان میں گستاخی مذہبی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔عبدالفتح السیسی نے یہ بھی کہا کہ اربوں لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا انتہاپسندی ہے، ایسی اظہار رائے کی آزادی کو لازمی روکنا چاہییترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے یورپ اور بالخصوص فرانس میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا سے متعلق کہا ہے کہ یورپ ایک بار پھر صلیبی جنگیں شروع کرنا چاہتا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق انقرہ میں اپنی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ میں ان لوگوں کے بارے میں کچھ کہنا بھی پسند نہیں کرتا جنھوں نے پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی کی جسارت کی ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جو نہ صرف اپنی بلکہ دیگر مذاہب کی اقدار کا بھی احترام کرتے ہیں لیکن ہماری اقدار کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔

احتجاج

مزید :

صفحہ اول -