خاتم النبین کا جشن ولادت

خاتم النبین کا جشن ولادت

  

فخرِ موجودات، سرور کونین، خاتم النبین، رحمت للعالمین آنحضرت محمد مصطفی ؐ (جن کی ذات پر ہزاروں درود و سلام) کا جشنِ ولادت قریب آ گیا ہے۔ دنیا بھر میں اربوں مسلمان اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آنحضورؐ کی شان و شوکت اور عظمت کے گرویدہ ہیں۔ یہ وہ ذاتِ پاک ہیں کہ جب دنیا جہالت اور گمراہی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، لوگ بتوں کی پوجا کرتے، نوزائیدہ بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے، چوری، ڈاکہ، شراب نوشی، سودی کاروبار، جوا بازی، جھوٹ، فریب اور غریبوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم تھا تو آپؐ ایک آفتابِ درخشاں بن کر ان اندھیروں کو ختم کرنے کے لئے اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپؐ کے والد ماجد حضرتِ عبداللہ ؓ آپ ؐکی پیدائش سے چند ماہ قبل ہی اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے تھے آپؐ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہؓ نے عرب کے رواج کے مطابق انہیں دودھ پلانے اور قدرتی ماحول میں پرورش پانے کے لئے حضرت دائی حلیمہ کے سپرد کیا۔ حضرتِ آمنہؓ رسول اکرمؐ کے بچپن ہی میں انتقال فرما گئیں جس کے بعد چچا حضرت ابو طالب نے آپؐ کی پرورش کی حضرت ابو طالب شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے والد محترم تھے جنہوں نے ہر مشکل میں اپنے بھتیجے حضرت محمدﷺ کا ساتھ دیا۔ آنحضورؐ شروع سے ہی ایک باوقار، سنجیدہ اور متین شخصیت کے مالک تھے۔ مکہ مکرمہ میں آپؐ صادق اور امین کے لقب سے معروف تھے۔ نوجوانی کے عالم میں تجارت کا پیغمبری پیشہ اپنایا اور حضرتِ خدیجتہ الکبریٰؓ جو عرب کی ایک ثروتمند اور مالدار خاتون تھیں، انہوں نے اپنا مال تجارت کے لئے آنحضورؐ کے سپرد کیا۔ جب واپس تشریف لائے تو حضرت خدیجہؓ ان کی دیانت اور امانت داری سے بے حد متاثر ہوئیں اور آپؐ کی اعلیٰ شخصی صفات کی بدولت آپؐ کو شادی کا پیغام بھیجا جو آپؐ نے قبول فرما لیا۔ اس وقت آنحضرتؐ کی عمر مبارک پچیس سال تھی جبکہ حضرت خدیجہ ؓ آپؐ سے پندرہ سال بڑی تھیں۔

ام المومنین نے زندگی بھر تمام مشکلات میں آنحضورؐ کا ساتھ دیا۔ جب آپؐ پر وحی نازل ہوئی اور آپؐ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجتہ الکبریٰ ؓسے کہا کہ وہ انہیں چادر اوڑھا دیں تو ام المومنین نے ان کی ہمت بندھائی اور سب سے پہلے اسلام بھی قبول کیا۔

منصبِ رسالت پر فائز ہونا

جب آنحضورﷺ غارحرا میں اپنا بیشتر وقت گزارتے اور عبادت میں مصروف رہتے تھے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور قرآن پاک کی چند آیات لے کر آئے آپؐ اس عظیم منصب پر فائز ہوتے وقت ذمہ داریوں کے بارِ گراں کے حوالے سے سوچ رہے تھے لیکن قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ جابجا آپؐ کی رہنمائی فرماتے ہیں۔ آنحضورﷺ کے دیگر معجزات میں قرآن مجید فرقانِ حمید آپؐ کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ یہ وہ کتابِ ہدایت ہے جو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لئے مشعلِ راہ ہے اور زندگی کے تمام مسائل پر روشنی ڈالتی ہے۔ اسی کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء الحسنیٰ ہیں اور رسول اکرمؐ کو بھی ان کے مختلف ناموں سے نہ صرف مخاطب کیا گیا بلکہ بہت سی سورتوں کے نام بھی آپؐ کے ناموں پر ہیں۔ دائرہ اسلام میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں حضرتِ خدیجتہ الکبریٰؓ، حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ شامل تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے مسلمان ہونے کی دعا آنحضورؐ نے خود فرمائی تھی۔ خلفائے راشدین، عشرہ مبشرہ اور جلیل القدر صحابہ کے ناموں میں بہت سے معروف نام شامل ہیں۔

اہلِ قریش کی طرف سے مشکلات

جب آنحضورؐ نبوت کے منصب پر فائز ہوئے اور مکہ والوں کو پیغام حق پہنچایا تو آپؐ کے راستے میں بے پناہ مشکلات پیش آئیں آپؐ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے۔ ایک بوڑھی عورت آپؐ پر کوڑا کرکٹ پھینکتی تھی جب وہ بیمار ہوئی تو آپؐ اس کی عیادت کے لئے چلے گئے سبحان اللہ، یہی وہ اسوۂ حسنہ تھا جس کی بدولت لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔ حضرتِ عمرؓ آپؐ کے قتل کی نیت سے آئے تھے لیکن قرآن پاک کی آیات سن کر فوراً دائرہ اسلام میں آ گئے۔

حجتہ الوداع

فتح مکہ کے بعد سورۂ  نصر نازل ہوئی جس میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت آئی اور لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اب آپ اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں،وہ یقینا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اس سورہئ سے یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا تھا کہ اب آپؐ کا مشن مکمل ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔ فتح مکہ کے بعد اعلان کیا گیاکہ آنحضور ﷺ اس سال حج کا فریضہ سرانجام دیں گے اس لئے جتنے بھی مسلمان ان کے ساتھ فریضہ ء حج ادا کرنا چاہیں وہ اس کی تیاری مکمل کرلیں۔ آپؐ نے 8ذی الحجہ کو منیٰ میں پہنچ کر قیام فرمایا اور 9ذی الحجہ کو عرفات تشریف لا کر اپنا تاریخی خطبہ ء حجتہ الوداع ارشاد فرمایا جو بین الاقوامی طور پر حقوق انسانی کا سب سے بڑا چارٹر ہے۔آپؐ نے فرمایا کہ گورے کو کالے پر عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور فضیلت کا معیار صرف تقویٰ اور پرہیز گاری ہے۔ آپؐ نے اس خطبے میں مسلمانوں کو ایک مکمل ضابطہئ حیات سے آگاہ کیا اور ان کے لئے احکامات و ضوابط جاری فرمائے۔

وصال

جب دین مکمل ہو گیا اور آنحضورؐ کو اس امر کا انتظار تھا کہ کب اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس بلاتے ہیں تو صفر کے مہینے سے آپؐ کی طبیعت ناساز ہونا شروع ہوئی۔درمیان میں کہیں کچھ آرام آ جاتا تھا۔بالآخر ایک روز آپؐ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اپنی جگہ نماز کی امامت کے لئے کہا۔ آپؐ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے حجرے میں قیام پذیر تھے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کی کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لئے یہ کیسے ممکن ہو گا کہ وہ آپؐ کی حیاتِ مبارکہ میں آپؐ کی جگہ امامت کے فرائض سرانجام دیں لیکن آپؐ نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ امامت کروائیں۔ آپؓ نے تین روز تک امامت کے فرائض سرانجام دیئے۔12ربیع الاول کو آنحضورﷺ کا وصال ہوا تو تمام مسلمان اور صحابہ کرامؓ کو اس کا یقین نہیں آتا تھا اور اضطراب کی کیفیت طاری تھی۔ اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے اپنی تلوار نکالی اور اعلان کیا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ آپؐ وصال فرما گئے ہیں۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ آنحضورؐ بشریت کے مقام پر فائز تھے اور آپؐ کا وصال ہونا ہی تھا۔ یہ مناظر دکھ اور پریشانی کے تھے لیکن امت کے ساتھ آپؐ کا رشتہ ابد تک جاری و ساری رہے گا۔ آپؐ تو تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں اور سرورِ کائنات ہیں آپؐ کا کوئی ثانی نہیں۔

امتِ مسلمہ کی عقیدت اور شعراء و ادبا کا خراج تحسین

نہ صرف پوری امت مسلمہ آنحضورؐ سے انتہائی عقیدت ومحبت رکھتی ہے بلکہ ہر مسلمان کے دل کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے روضہ ء رسولؐ پر حاضری کا شرف حاصل ہو۔ جن مسلمانوں کو یہ سعادت حاصل ہو جاتی ہے،ساری زندگی اس پر ناز اور فخر ہوتا ہے کہ وہ آقاﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضری کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ راقم الحروف نے مدینہ منورہ میں دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں کی عقیدت کا حال ملاحظہ کیا اور یہ سیاہ کار بھی اپنے آنسوؤں اور ندامت و شرمندگی کے گہرے احساس کے ساتھ آقا حضورؐ سے اپنی سابقہ کوتاہیوں اور غفلت کے لئے معافی کا خواستگار تھا۔

گنبد خضریٰ اور ریاض الجنہ میں پوری امت مسلمہ کے لئے رحمت اور خصوصی کرم کی درخواست کی۔ 

دنیا بھر کے شعراء و ادباء نے نظم و نثر میں آنحضورؐ کی بارگاہ میں گلہائے عقیدت پیش کئے ہیں۔ عربی، فارسی، اردو، پنجابی اور دنیا بھر کی زبانوں کے شاعر آنحضورؐ کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مولانا روم، شیخ سعدیؒ، امیر خسرو، جامی، قدسی، غالب، علامہ اقبالؒ، بہادر شاہ ظفر، الطاف حسین حالی،فیض، جوش، آغا شاعرقزلباش دہلوی، ابوالکلام آزاد،احسان دانش، احمد ندیم قاسمی، پرنم الہ آبادی، نجم نعمانی سبزواری، حفیظ تائب، امیر مینائی ادا جعفری، پروین شاکر، انور مسعود،بشیر حسین ناظم، بہادر یار جنگ،جگر مراد آبادی، جگن ناتھ آزاد، اصغر سودائی، صوفی تبسم، جعفر قاسمی، ڈاکٹر آفتاب نقوی الغرض ایسے سینکڑوں ہزاروں عاشقانِ رسول ہیں جنہوں نے آنحضور کی مدحت میں گلہائے عقیدت پیش کئے۔ آیئے کچھ نعتیہ کلام کا ایک مختصر سا انتخاب پیش کریں اور خود بھی بارگاہ نبوی میں حاضری کے لئے دعا کریں۔

نعتیہ کلام کی روایت کا تسلسل

نعتیہ کلام کی روایت جو آنحضورﷺ کے عہد مبارک سے شروع ہوئی، گزشتہ چودہ پندرہ صدیوں سے اس کا تسلسل موجود ہے۔ حضرت ابو طالب بن عبدالمطلبؓ، حضرت عبداللہ رواہہؓ، حضرت فاطمتہ الزہرؓا،حضرت کعب بن زہیرؓ،حضرت حسان بن ثابتؓ، الشیخ شرف الدین ابی عبداللہ محمد البوصیری نے عربی زبان میں آنحضورؐ کے لئے گلہائے عقیدت پیش کئے تو مولانا روم، سعدی شیرازی، امیر خسرو،مولانا جامی نے فارسی زبان میں حضور اکرمؐ کے فضائل و مناقب بیان کئے۔ اردو زبان کے جن شعرا نے روایت کے اس تسلسل کو برقرار رکھا ان میں خدائے سخن میر تقی میر، مومن خان مومن، ولی دکنی، نظیر اکبر آبادی، نوح ناروی، نصیر الدین نصیر، نعیم صدیقی، ماہر القادری، نصیر احمد ناصر، ناصر کاظمی،حسین ثاقب، قدیر ہاشمی، تحسین فراقی، جعفر بلوچ، منیر قصوری، ڈاکٹر طارق عزیز، ایوب ندیم، ڈاکٹر شہزاد قیصر، ظہیر احمد صدیقی نوشی گیلانی، واصف علی واصف، لطیف ساحل، طارق زیدی، یوسف ظفر، صوفی تبسم، سعادت سعید، اظہر غوری، انعام الحق جاوید، سیف اللہ خالد، خضر تمہمی، منصور آفاق، انتصار احمد ظہیر، ناصر رانا،نجیب احمد، وحیدہ نسیم، احمد فراز، منیر نیازی، اجمل نیازی، مظفر وارثی، پُرنم الہ آبادی، محمود شام، مظفر محمد علی، سعید آسی، انجم رومانی، شہرت بخاری،عقیل عباس جعفری، امجد اسلام امجد، احمد حماد، علی اصغر عباس، رحمن فارس، شکیل جاذب،اخلاق احمد ڈوگر، محمد بشیر قمر، غافر شہزاد،سیف اللہ خالد، عباس نجمی، اعجاز احمد ارشد، محسن احسان، ڈاکٹر محمد اقبال شاہد، عقیل روبی، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف،غلام حسین ساجد، فرمان فتح پوری، فیصل عجمی، کرامت بخاری، کرم حیدری، محسن نقوی، محسن کاکوروی، کوثر نیازی، صابر ظفر، محشر بدایونی، مرزا محمد رفیع سودا،مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خان، جسٹس محمد الیاس، محمد سعید انصاری، محمد علی ظہوری، بشیرحسین ناظم، جمشید دستی، ابوالامتیاز ع۔ س۔ مسلم، صہبا اختر، ظفر اقبال، عابد بریلوی، ڈاکٹر آغا یٰسین، محی الدین خلوت، سید اکرم شاہ اکرام، ڈاکٹر وحید قریشی، احمد علیم، شعیب بن عزیز، ندیم الحسن گیلانی، عبدالعزیز خالد، عطاء الحق قاسمی، عاصی کرنالی، منیرصمدانی، فیض احمد فیض، یزدانی جالندھری، طفیل ہوشیارپوری،مشکور حسین یاد، ناصر زیدی، عباس تابش، عرفان صدیقی (پاکستان) عرفان صدیقی (بھارت) انیس اکرام فطرت، داغ دہلوی، رئیس امروہوی، ساغر صدیقی، سعد اللہ شاہ، شکیل بدایونی، سید سلمان ندوی، سید نفیس الحسینی، سیماب اکبر آبادی، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال، شورش کاشمیری، شہزاد احمد، خورشید رضوی، ڈاکٹر حامد خان حامد، ریاض مجید، راغب مراد آبادی، رانابھگوان داس، حسرت موہانی، حفیظ جالندھری، حفیظ ہوشیارپوری، حمایت علی شاعر خاطر غزنوی،خالد احمد، پروفیسرناصر بشیر، خالد شریف، خلیق قریشی، صغریٰ صدف، خمار بارہ بنکوی، اکرام ہوشیارپوری کے علاوہ ہزاروں لاکھوں شعرائے کرام نے ہر دور میں بارگاہ رسالت کے لئے شعروں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔

عصر حاضر کے نعت گو شعراء

عصر حاضر میں نعت گو شعراء نہ صرف نعت کے شعبے میں بلکہ درس و تدریس، کالم نویسی، غزل و نظم میں بھی معروف ہوئے ہیں۔ جواں سال شاعر پروفیسر ناصر بشیر نے درس و تدریس، کالم نگاری، ادارت اور سفر نامہ نگاری سمیت نعت کے شعبے میں بھی گرانقدر کاوشیں کی ہیں۔ حالات حاضرہ پر ان کی شاعری نے پذیرائی پائی ہے، انہوں نے نعتیہ شاعری میں بھی بہت نام بنایا ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری میں رسول اکرمؐ سے ان کی گہری عقیدت کا رنگ جھلکتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -