قیامت کی وہ نشانیاں جنہیں جان کر آپ بھی سوچیں گے کہ دنیا کا خاتمہ بے حد قریب آگیا

قیامت کی وہ نشانیاں جنہیں جان کر آپ بھی سوچیں گے کہ دنیا کا خاتمہ بے حد قریب ...
قیامت کی وہ نشانیاں جنہیں جان کر آپ بھی سوچیں گے کہ دنیا کا خاتمہ بے حد قریب آگیا

  

احادیث میں قیامت کی بہت سی نشانیاں بیان کی گئی ہیں، یہ وہ نشانیاں ہیں جو اللہ کے رسول نے اپنی امت کو بتائیں، قیامت کے حوالے سے بعض پیش گوئیاں اہل علم نے بھی کی ہیں جن میں سب سے زیادہ شہرت ابن عربی اور نعمت شاہ ولی نے پائی ہے۔  اس جگہ ہم شیخ اکبر ابن عربی کی 10 پیشگوئیوں کا تذکرہ کریں گے۔

پہلی پیشگوئی ۔۔۔

تمہاری جوتیاں زمین کی پشت ٹھکرانے والی اور چلنے میں تم کو مغرور بنانے والی ہوں گی ، جوتیوں کے آگے سر جھکاؤ گے اور عماموں کو پامال کرو گے۔

 ابن عربی کے زمانے میں کس قسم کی جوتیاں ہوں گی اس بارے میں تو معلوم نہیں ہے البتہ آج کے زمانے میں ایسے جوتوں کا رواج عام ہے جو انسان کی چال میں غرور پیدا کرتے ہیں، آج کے زمانے میں کسی کی شخصیت یا پرسنیلٹی کو جانچنے کیلئے سب سے پہلے اس کے جوتے دیکھے جاتے ہیں، یعنی کسی کی شخصیت کو جانچنے کا پیمانہ اس کے جوتوں کو بنادیا گیا ہے۔ شیخِ اکبر کی اس پیشگوئی کا جوتوں کے آگے سر جھکانے والا حصہ اس طرح پورا ہوتا ہے کہ آج مساجد اور عید گاہوں میں اپنے آگے جوتے رکھ کر نماز پڑھنے کا چلن عام ہوچکا ہے۔ عماموں کو پامال کرنے سے یہ مراد ہوسکتی ہے کہ لوگ ننگے سر پھریں گے، کیونکہ پہلے زمانے میں سر ڈھانپ کر چلنے کا رواج تھا، ننگا سر صرف نچلے طبقے کے لوگ رکھا کرتے تھے۔۔۔

دوسری پیشگوئی ۔۔۔

دمشق کے بازاروں میں بھی تم دیکھو گے کہ رات کے وقت سورج سوا نیزے پر نظر آتا ہے، یہ سورج جگہ جگہ ہوں گے، اور تمہیں سہانی روشنی دیں گے، مگر اس وقت تمہاری بصارت اور بصیرت میں خلل پڑ جائے گا۔۔

علامہ ابن عربی کی اس پیشگوئی کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے، آج روشنی کے بلب انسانی زندگی کا سب سے اہم ترین حصہ بن چکے ہیں، حد سے زیادہ روشنی بصارت یعنی نظر کی خرابی کا باعث بھی بن رہی ہے اور یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی نظر کے چشمے لگ رہے ہیں۔ 

تیسری پیشگوئی۔۔۔

خیرات لینے اور دینے کیلئے نئے ڈھنگ نکل آئیں گے ، نفسی نفسی کی پکار ہوگی، کوئی کسی کے نیک اور بد سے سروکار نہ رکھے گا۔

خیرات اور صدقات کے نئے نئے طریقے معاشرے میں رواج پاچکے ہیں، اگر ان کو کوئی لکھنے بیٹھے تو پورے دفتر سیاہ ہوجائیں ۔ اس پیشگوئی کے دوسرے حصے یعنی نفسی نفسی اور کسی دوسرے سے سروکار نہ رکھنے والے حصے کو وہ لوگ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں جو شہروں میں آباد ہیں، آج شہروں میں یہ حال ہوچکا ہے کہ ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھنے کی کوشش کرتا ہے، کئی سالوں سے پڑوس میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کو نہیں جانتے ۔

چوتھی پیشگوئی ۔۔۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

ویڈیو گیلری -روشن کرنیں -