تبدیلی سرکار میں مہنگائی، کرپشن پر لگام کون ڈالے گا؟

تبدیلی سرکار میں مہنگائی، کرپشن پر لگام کون ڈالے گا؟
تبدیلی سرکار میں مہنگائی، کرپشن پر لگام کون ڈالے گا؟

  

‏خبریں ہیں کہ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ مہنگائی پاکستان میں نکل آئی ہے -مہنگائی میں پاکستان نے بھارت اور بنگلہ دیش کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی وزیراعظم نے کہا تھا اگلے ہفتے سے مہنگائی کم ہو گی لیکن انکے دوسرے دعوں کی طرح یہ بھی وعدہ فردا نکلا۔  تبدیلی سرکار کی حکومت میں مہنگائی نے عام آدمی کی کمر تو پہلے ہی توڑ دی تھی۔ اب ٹماٹر 180،لہسن 340اور آلو 100روپے کلو فروخت ہونے کا سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ سیلیکٹرز کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ ملک اقتصادی طور پر پستی کی طرف جارہا ہے اور آٹا چینی اور دالیں روز بروز مہنگی ہورہی ہیں۔ ذخیرہ اندوز فائدہ اٹھا کر بھاگ چکے ہیں۔  ملکی کرنسی کی بے وقعتی پر عوام کو گہری تشویش ہے۔ ڈالر مارکیٹ میں 160 سے اوپر ہے پاؤنڈ 211 سے بڑھ کر ریکارڑسطح پر چلا گیا ہے۔ اور تو اور بنگلہ دیشی ایک ٹکے نے عمران خان کی حکومت کو دو سوچنے پر مجبور کردیا ہے-مسلم لیگ ن کی حکومت میں مہنگائی پر مصنوعی طریقے سے ہی صحیح کنٹرول تو تھا یہ وہ بات ہے جو زبان زد عام ہے ۔ خدارا مہنگائی کو مسلم لیگ نواز کی طرح مصنوعی طور پر کنڑول کر کیجئے۔

 نومبر دسمبر ویسے تو سرد مہینے ہیں لیکن سیاسی شدت میں اضافے کا باعث ہوں گے۔ نیشنل ایکشن پلان ، ہزارہ موٹروے ، کوسٹل ہائی وے اور پاک چائنہ کاریڈار اور دوسری طرف تبدیلی سرکار کا کھدا ہوا پشاور ، لڑھکتی ہچکولے کھاتی ہوئی پشاور میٹرو ، اور مالم جبہ میگا کرپشن کیس حکومت اور اسکی پشت پر کھڑے ضدی افراد کی نااہلی ،غفلت اور ناعاقبت اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔  میں اتنا ہی کہوں گا کہ شہباز شریف کو جیل میں ڈالنے سے کام نہیں بنے گا اسے ہرانے کے لئے کچھ اور کام بھی کرنا پڑے گااسکے کام پر تختیاں لگانا آسان ہے اسکے مقابلے کی تخلیق مشکل کام ہے-

یہ حکومت کرپشن ختم کرنے کا نام پر جنرل مشرف کی طرح سات نکاتی ایجنڈے پر برسر اقتدار آئی تھی۔ دو سال میں بار بار گندم ، چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا بحران آیا وزیر اعظم نے  بار بار مافیا کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا لیکن حکومتی مفادات آڑے آئے اور کبھی اے ٹی ایم کو لندن بھگا دیا اور کبھی اپنی قباء میں چھپا لیا اور آج مہنگائی کے سب ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں اور ہر طرف کرپٹ اور دہاڑی دار  دندناتے پھر رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ 

آج کل غداریوں کا سیزن ہے۔ حکومت دھڑا دھڑ غدار پیدا کئے جارہی ہے کم ازکم کیسوں کے اندراج سے تو یہی لگتا ہے ۔ ایک ہارے ہوئے شخص کو سب غدار لگتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو ہر مسلے کا حل اور عقل کل گردانتا ہے حالانکہ وہ ہر چھوٹے بڑے مسلے کا سرغنہ ہوتا ہے۔ہم نے بنگلہ دیش کے بننے سے کوئی سبق نہ سیکھا ہے نہ سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ آج اگر ایک بنگالی ٹکے میں دو پاکستانی روپے ملتے ہیں ۔ یہ دو ٹکے ہمیں تاریخی سبق دینے کے لئے کافی ہیں۔ بلوچستان کی حکومت گرائی گئی اور وہاں سے نئے مہرے نکالے گئے لوٹے بنائے گئے اور ووٹ کو بے عزت کرکے چئیرمین سینٹ بنایا گیا جو مسلم لیگ ن کا حق تھا اور انہیں انکے جمہوری حق سے محروم کردیا گیا۔ کیا یہ صحیح اقدام تھا عوام اگر سوال پوچھتے ہیں تو جواب تو بنتا ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم حلف اٹھاتے کچھ ہیں اور  کام کچھ کرتے ہیں 73 سال ہوگئے ہیں ۔ اللہ کرے کہ اب حلف وہ اٹھائیں جس پر عمل کرنا ہو۔

آخر میں میری یہی دعا ہے کہ اللہ پاک پاکستان کو دہشت گردی کے ناسور سے محفوظ رکھے ۔ رب العالمین پاکستان کو دشمنوں کی سازشوں،ریشہ دوانیواں اور نظر بد سے محفوظ فرمائے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور آپ کے  نام لیواؤں کا ملک ہے مالک کائنات اس پر اپنا خاص کرم فرما اور اسے اسلام کا اصل قلعہ بنا جو جمہوری ہو انصاف پسند ہو جہاں لوگ اپنی رائے دینے فیصلہ سازی میں آزاد ہوں خود مختار ہوں ۔ زمین و آسمان کے مالک پاکستان کو ان بلندیوں پر پہنچا جسکا ہمارے بزرگوں نے خواب دیکھا تھا‬ آمین ثم آمین۔ 

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -