بزدار کی لگن کا ثمراورنج لائن ٹرین

بزدار کی لگن کا ثمراورنج لائن ٹرین
بزدار کی لگن کا ثمراورنج لائن ٹرین

  

 اورنج لائن ٹرین منصوبہ پاکستان کا پہلی ریپڈ ٹرانزٹ ٹرین ہے جسے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے۔یہ میگا پروجیکٹ روزاول سے اعتمادی اور بے اعتمادی کی کشمکش میں پروان چڑھا ایک طرف اِس کے حامی تھے اور دوسری طرف اِس کے ناقدین ۔حامی جدت پسندی کی دوڑ میں اِس منصوبے کو وقت کا تقاضا قرار دیتے رہے اور ناقدین اِ س منصوبہ کو عوام کے خون پسینے کی کمائی کا غلط مصرف قرار دیتے ہوئے تعلیم اور صحت پر پیسہ لگانے کے مطالبے کرتے رہے۔اقرار و انکار کی اِس سیاسی جنگ میں عدالتی فیصلے کے تحت اورنج لائن کا کچھ حصہ تعطل کا شکار بھی ہوا ۔

 سابقہ حکومت نے عارضی طور پر الیکٹرک سپلائی سے مخصوص حدود میں ٹیسٹ رن تو کر دیا مگر مستقل بنیادوں پر تمام اسٹیشنوں پر باقاعدہ چلانے کیلئے الیکٹرک سپلائی سمیت تکمیلی مراحل میں مطلوب سہولیات پر خاطر خواہ توجہ نہ دے سکی یہی وجہ تھی کہ نظرآنے والی صورتحال کے پیش نظرالیکشن 2018کے بعد عوامی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑنے لگیں کہ تحریک انصاف اِس منصوبے میں دلچسپی نہیں رکھتی جبکہ اِن افواہوں کو وزیراعلیٰ عثمان بزدا ر سائیٹ کا وزٹ کر کے متعدد بارپاش پاش کرتے رہے اور اورنج لائن ٹرین کو ٹریک پر رواں دواں رکھنے کیلئے تمام وسائل مہیا بھی کئے ۔وزیراعلیٰ کا واضح موقف رہا کہ ہم اس منصوبے کو بالکل ختم نہیں کر رہے اور نہ ارادہ رکھتے ہیں بلکہ اس کی اونر شپ ہم نے لی ہے اوریہ ٹرین چلا کر دکھائیں گے اور یوں جس منصوبہ نے 27جون2018کو مکمل ہونا تھا  وہ 25 اکتوبر 2020 کو باقاعدہ افتتاح کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیا ہے ۔

 افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اورنج لائن میٹروٹرین کاماس ٹرانزٹ منصوبہ شہریوں کو عالمی معیار کی سفری سہولتیں فراہم کرے گا- یہ منصوبہ گرین جی ڈی پی کا محرک ثابت ہو گااور اس سے اربن ڈویلپمنٹ میں استحکام مزید بڑھے گا-انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی اقتصادی صورتحال اور محدود وسائل کے باوجوداورنج لائن ٹرین کو چلانے کے لئے سالانہ اربوں روپے کی سبسڈی بھی دے رہی ہے-اورنج لائن میٹرو ٹرین کے افتتاح کے تاریخی موقع پر سی پیک کو کامیابی سے ہمکنار کرانے پر پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں، جن کی قربانیوں اور شب و روز محنت سے آج سی پیک کے بہت سے منصوبے تکمیل کے مراحل طے کر رہے ہیں۔

چین کے قونصل جنرل لانگ ڈنگ بن کا یہ بیان کہ پنجاب حکومت نے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے کی تکمیل کے لئے مکمل سپورٹ فراہم کی اور آج اس کا کمرشل آپریشن شروع ہو رہا ہے، اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے ذاتی دلچسپی لے کر اِس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے ۔ 

 اورنج لائن میٹر و ٹرین منصوبہ درحقیقت امید کی کرنوں سے روشنی کے میناروں تک کا سفر ہے۔جہاں اِس منصوبے سے پاکستان میں ریپڈ ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ سسٹم کا آغاز ہوا ہے وہیں تحریک انصاف کی حکومت نے سابقہ دور کے منصوبے کو اپنے مکمل تعاون کے ساتھ مکمل کرکے ایک نئی قابل تقلید روایت کا بھی آغاز کیا ہے ورنہ ماضی میں سرجیکل ٹاور، وزیرآباد کارڈیالوجی ہسپتال اور موٹرویز سمیت بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کیسے مخالفین کی جانب سے عوامی فلاح کے منصوبوں کو بھی روکا جاتا رہا ہے مگر عثمان بزدار کی زیرقیادت پنجاب بھر میں فلیگ شپ منصوبوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور سابقہ دورحکومت کے منصوبوں پربھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا جارہا اورسیاسی تعصب سے بالاتر ہو کرسابقہ حکومتوں کے چھوڑے ہوئے 115 ارب روپے کے نامکمل منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام جاری ہے ۔27کلومیٹر پر محیط اورنج لائن کابدستِ وزیراعلیٰ پنجاب افتتاح اِس کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ عوامی فلاح کے منصوبوں پر سیاست کی گنجائش نہیں اور ویسے بھی یہ عوام کا سرمایہ تھا جوآج ملک کا اثاثہ بن گیا ہے ۔ 

 لیکن افسوس پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ(ن) کی جانب سے منصوبے کا کریڈیٹ لینے کی بلاوجہ تکرارسیاسی روایات، اقدارو اخلاقیات کے منافی ہے ۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے دو سال کے دوران اِس منصوبے میں مزاحمت پیدا نہ کرنا بلکہ اِس کو جلدازجلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لانا ہی اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اِس منصوبے کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں لیکن اورنج لائن ٹرین کے افتتاح کے موقع پر مسلم لیگ(ن) کا اپنی قینچی اور فیتے لے کر پہنچ جانے سے اِس موقف کو تقویت ملی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کام کرنے کا جنون نہیں بلکہ نام بنانے کی دھن رکھتی ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے قائدین تو سیاسی میدان میں پرانے ہیں اُنہیں سوچنا چاہیے تھا کہ سیاست میں کبھی فرش پر کبھی عرش پر کبھی عرش والے پھر سے فرش پر کا سلسلہ چلتا رہتا ہے اس لئے اپنی قینچی اور اپنے فیتے کی روایت قابل افسوس بھی ہے اور قابل مذمت بھی ۔اگر آج اپوزیشن نے ندامت کااظہارنہ کیا توجوبیج آج بورہے ہیں اِس کی فصل کل کاٹنا بھی پڑے گی ۔

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -