کالعدم تحریک کا ”اسلام آباد مارچ“

کالعدم تحریک کا ”اسلام آباد مارچ“

  

کالعدم تحریک لبیک کے پرجوش کارکنوں کا مارچ اسلام آباد کی طرف جاری ہے۔ راستے میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، خندقیں بھی کھودی گئی ہیں لیکن آگے بڑھنے والے رک نہیں پا رہے۔ رینجرز نے دریائے چناب کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیئے گئے ہیں، جی ٹی روڈ کی دونوں اطراف بھی نقل و حرکت مشکل ہو چکی ہے۔ تعلیمی ادارے بند کئے جا رہے ہیں۔ سرکاری اداروں میں بھی حاضری کم ہے۔ چار روز سے بند انٹرنیٹ سروس بھی بحال نہیں کی جا سکی۔ دریائے جہلم کے پل سے پہلے ہی خندق کھود کر خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں، پل پر مٹی کا ڈھیر اور کنٹینر کھڑے ہیں، رکاوٹوں کی وجہ سے عام شہری سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ بسیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے، لوگ پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کو جانے والے راستے بھی سیل کئے جا چکے ہیں۔ مریضوں اور ان کے لواحقین کی جان پر بنی ہوئی ہے۔ گجرات سے لاہور، سیالکوٹ اور دوسرے شہروں کوجانے والی سڑکیں بھی بند ہیں۔ ان پر آمد و رفت ممکن نہیں رہی۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب گجرات پہنچے، حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کالعدم تنظیم کے مرکزی قائدین سمیت آٹھ ہزار افراد کے خلاف تھانہ مریدکے میں دہشت گردی، قتل، ڈکیتی اور اغوا سمیت مختلف جرائم کے مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ کالعدم جماعت کا سوشل میڈیا چلانے والے افراد کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے اور کئی افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔پنجاب کے مختلف شہروں میں کئی  سرگرم نوجوانوں کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار کئے جانے والے افراد نفرت انگیز مواد، جعلی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کر رہے تھے۔ پیمرا نے کالعدم تحریک کی میڈیا کوریج پر پابندی لگا دی ہے اور ایک نجی ٹی وی چینل کی نشریات معطل بھی کر دی گئی ہیں۔

ایک طرف یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو دوسری طرف وزیر داخلہ شیخ رشید نے کالعدم تحریک کے گرفتار رہنما سعد رضوی کے ساتھ رابطے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ دو تین روز کے دوران بھی ان سے بات کرنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں بار بار اپیل کی کہ کالعدم تحریک کے کارکن احتجاج ختم کرکے لاہور میں اپنے مرکز چلے جائیں تو ان کے خلاف اقدامات کو روک دیا جائے گا، بصورت دیگر سخت کارروائی ہو گی۔انہوں نے اپنے مذہبی پس منظر اور مذہبی اقدار سے شدید کمٹ منٹ کا جذباتی انداز میں بار بار اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ عمران خان پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں،وہ ریاست کی رٹ بحال کرنے کے لئے ہر حد تک جائیں گے۔ وزیراطلاعات فواد چودھری نے البتہ یہ فرمایا ہے کہ کالعدم تنظیم سے ہر طرح کا رابطہ منقطع ہے۔ جب تک احتجاج ختم نہیں ہو گا، ان سے کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے نہیں دی جائے گی اور ہر قیمت پر لوگوں کے جان، مال اور حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات کا لہجہ اگرچہ الگ الگ تھا، الفاظ کا چناؤ بھی مختلف تھا لیکن ان کی طرف سے ایک ہی پیغام واضح طور پر دیا جا رہا تھا کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد نہیں آنے دیں گے اور ریاست کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔ وزیراطلاعات کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ کالعدم تحریک کے جن رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں، انہیں ختم نہیں کیا جائے گا۔ قانون اپنا راستہ لے گا اور کسی بھی صورت کوئی بے جا رعایت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان کے انتہائی ممتاز اور عامتہ المسلمین میں بہت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے عالم دین مفتی منیب الرحمن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے زیر حراست رہنماؤں کو کسی ایک مقام پر یک جا کر دے اور وفاقی وزیر اطلاعات اور وزیر داخلہ کے بجائے چند دوسرے وزراء پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے۔ انہوں نے اس کے لئے شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر اور علی محمد خان کے نام بھی تجویز کر دیئے ہیں۔ ان سب پر یا ان میں سے دو تین پر مشتمل کمیٹی اگر بنا دی جائے تو مفتی صاحب کے نزدیک معاملات کو سنبھالا جا سکتا ہے۔مفتی صاحب کی دونوں تجاویز توجہ کی مستحق ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو ان پرفوری غور کرنا چاہیے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کسی طور بھی ترک نہیں کرنی چاہیے۔ جو خون بہہ چکا ہے، اس کا ماتم اپنی جگہ، لیکن جو خون بہنے کا خدشہ ہے، اس کا تصور ہی لرزانے کے لئے کافی ہے۔مفتی صاحب اور ان جیسے دوسرے سنجیدہ علمائے کرام پر لازم ہے کہ وہ بھی میدان میں نکلیں۔ اسلام آباد کی طرف جانے والوں کو روکیں۔ انہیں سڑکیں بند نہ کرنے کی تلقین کریں، بلکہ حکم دیں تو حالات کو سنبھالا جا سکتا ہے۔ پاکستانی معیشت خون خرابے کی متحمل ہے، نہ سیاست۔ اس کے لئے حکومت کو جہاں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، وہاں کالعدم تحریک کے رہنماؤں کو بھی ٹھنڈے دل سے معاملات پر غور کرنا چاہیے۔ قیادت فراست سے کام نہیں لے گی تو اس کے ہاتھ بھی خالی رہیں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -