پیپلزپارٹی کا یوم تاسیس اور مہنگائی کے خلاف تحریک؟

 پیپلزپارٹی کا یوم تاسیس اور مہنگائی کے خلاف تحریک؟
 پیپلزپارٹی کا یوم تاسیس اور مہنگائی کے خلاف تحریک؟

  

پاکستان پیپلزپارٹی کا یوم تاسیس آ رہا ہے اور اس کے چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدائت پر پورے ملک میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ گزشتہ روز جیالوں نے اپنے لیڈر کی ہدائت پر عمل کیا اور پارٹی کے جھنڈے پکڑ کر نعرہ بازی کی، بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں دو روز قبل ورکرز کنونشن سے خطاب کے دوران دعویٰ کیا کہ کسی بھی جماعت کے پاس مہنگائی اور غربت کے خاتمے کا پروگرام نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی جب بھی برسراقتدار آتی ہے تو عوامی مسائل حل کرتی ہے۔ بلاول نے اس سے قبل یوم تاسیس کی مرکزی تقریب خیبرپختونخوا میں منعقد کرنے کا اعلان کیا جس کے مطابق پشاور میں جلسہ ہوگا۔ پیپلزپارٹی سے قبل جماعت اسلامی اور پی ڈی ایم نے بڑھتی ہوئی خوفناک مہنگائی کے خلاف مظاہرے شروع کر رکھے ہیں۔ ان کو اب پذیرائی ملنا شروع ہوئی ہے تاہم ایسی نوبت نہیں آئی کہ لوگ بھاری تعداد میں متوجہ ہوں، اب پیپلزپارٹی نے بھی احتجاج کیا ہے تو پارٹی کارکن اور ووٹر ہی تھے،تاہم تعداد جماعتی حیثیت کے مطابق نہیں تھی۔ گزشتہ روز مظاہرے اور احتجاج ہوگیا، لیکن یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہ سلسلہ ایک ہی روز کے لئے تھا کہ آگے بھی بڑھے گا۔ آج اعلان بھی ہو سکتا ہے اور شاید مہنگائی کا جِن ہی سیاسی جماعتوں کو اتحاد میں پرو دے۔

پاکستان پیپلزپارٹی اور روزگار کے علاوہ روٹی کا بھی پرانا ساتھ ہے کہ پارٹی کے یوم تاسیس کے حوالے سے یاد آیا، ذوالفقار علی بھٹو نے چاروں اساسی نعروں کے ساتھ روٹی کپڑا اور مکان کا دعویٰ اور اعلان بھی کیا تھا، تاہم جب آدھے پاکستان میں اقتدار ملا تو مسائل ہی کچھ اور تھے۔ عوام کو روٹی پلانٹ بنا کر پکی پکائی تازہ روٹی دے دی گئی اور عوامی شلوار قمیض رائج کرکے کپڑے کا وعدہ بھی پورا کر دیا گیا البتہ مکان کی حوالے سے ذرا ریسرچ کرنا ہوگی کہ اس دور میں پلاٹ ضرور دیئے گئے لیکن عوام کے حصے میں نہیں آئے، البتہ غریب صحافیوں اور ادیبوں کا بھلا ہوا کہ ہماری پی یو جے کی بھرپور کوشش کے نتیجے میں علامہ اقبال ٹاؤن میں پلاٹ مل گئے اور ارزاں قیمت پر ملے، جبکہ شادمان اور ریواز گارڈن میں بعض سینئر بھی مستفید ہوئے۔

یوم تاسیس کے حوالے سے ایک تاریخ نظروں کے سامنے سے گزر رہی ہے۔ یہ دعویٰ درست ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو جب اقتدار سونپا گیا تو پاکستان آج سے بھی بڑے بحران سے دوچار تھا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ مشرقی پاکستان میں شکست ہوئی اور پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالے گئے تھے۔ معیشت کا سرے سے وجود ہی نہیں تھا۔ اس حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو کی تعریف لازم ہے کہ انہوں نے اس بحران کو سنبھالنے کے لئے انتھک جدوجہد کی، اسی کے دوران جمہوریت کا وعدہ بھی نبھایا اور 1973ء میں آئین بھی مل گیا، جبکہ ایٹمی صلاحیت کی بنیاد بھی رکھ دی گئی، میں اس سے زیادہ ان کی تعریف اس حوالے سے کرتا ہوں کہ کئی رکاوٹوں اور ابتداء ہی میں دوستوں سے شکرنجی کے باوجود انہوں نے ملکی معیشت کو سنبھال لیا، میں ذاتی طور پر اس دور کے بعض اقدامات کا تب بھی مخالف تھا اور آج بھی سمجھتا ہوں کہ جس طرح یہ کیا گیا، ویسے نہیں ہونا چاہیے تھا، ابتدا میں ہمارے دانشور ڈاکٹر مبشر حسن کا فسوں چل رہا تھا۔ ضرورت کے مطابق کرنسی ڈی ویلیو کی گئی۔ میں نے تب مخالفت کی تھی لیکن آج کے بحران اور ڈالر کی اڑان سے اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ تب ایک ہی بار کرنسی ”ڈی ویلیو“ کرکے معیشت سنبھال لی گئی اور اس کے بعد اس کی ضرورت پیش نہ آئی، تاہم ڈاکٹر مبشر حسن (مرحوم)نے کسی تیاری کے بغیر صنعتیں اور تعلیم کو قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کرکے بہت بڑا نقصان کیا، درحقیقت یہ نیشنلائزیشن نہیں، گورنمنٹ لائزیشن ہو گئی تھی کہ کارکن ذہنی طور پر تیار نہیں تھے اور نہ ہی ان کی تربیت تھی چنانچہ جہاں ابتدا میں اتحاد کیمیکلز میں یکایک منافع ہوا اور پیداوار بڑھی، وہاں بعد میں لوٹ مار شروع ہو گئی اور پھر ہر دو شعبوں کے اداروں کا وہی حال  ہوا جو ہر سرکاری شعبہ کا ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ تب کے نقصان کا ازالہ اب تک نہیں ہوا، لیکن یہ ماننا ہوگا کہ بھٹو نے ڈوبتی کشتی کو سنبھالا اور اسے ایک جہاز بنا دیا۔ آج بہت فخر کیا جاتا ہے کہ غیر ممالک میں مقیم پاکستانی زرمبادلہ کا بہت بڑا ذریعہ ہیں، لیکن یہ کوئی یاد نہیں کرتا کہ یہ کارنامہ بھٹو ہی کا تھا کہ 1974ء میں اسلامی کانفرنس کا انعقاد کرکے پاکستانیوں کے لئے بیرونی روزگار کے دروازے کھلوا دیئے۔

میں آج بھی یہی سمجھتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کے علاوہ یہ کانفرنس بھی بہت بڑا جرم تھا، اس کے نتیجے میں شاہ فیصل اور معمر قذافی کے علاوہ صدام حسین اور خود بھٹو کو بھی اپنے اپنے انجام سے دوچار ہونا پڑا کہ اس کانفرنس کے ذریعے نہ صرف اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا گیا بلکہ یہ بھٹو ہی تھے جنہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ مسلم امیر ممالک سرمایہ کاری کریں، پاکستان ہنر مند افراد مہیا کرے گا اور ان سب کو مل کر ترقی کرنا چاہیے اور یہیں مشترکہ مفادات اور دفاع کا بھی ڈول ڈالا گیا تھا، کہنے کو بہت کچھ ہے۔ آج اتنا ہی سہی کہ مہنگائی نے تنگ کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اگر یوم تاسیس کے حوالے سے مہنگائی کے خلاف جدوجہد کا اعلان کیا ہی ہے تو پیپلزپارٹی کو اسے ”کور ایشو“ بنا کر سیاست کرنا ہوگی کہ آج مہنگائی کے باعث فاقوں کی نوبت آ گئی، ہر روز اشیاء خوردونوش کے نرخ بڑھتے ہیں، لوگ روٹی پوری کرنے سے عاجز آ چکے ہیں وہ دوسری ضروریات کہاں سے پوری کریں۔ آج صبح سبزی فروش نے مٹر چار سو روپے فی کلو، ٹماٹر 180روپے فی کلو اور پیاز 60روپے فی کلو دیا ہے۔ اللہ بھلا کرے آپ سب عوام کا کہ یہ جِن ہر روز ایک دانت تیز کرتا ہے۔ اختتام کہاں ہوگا، کون جانے؟ اس لئے پیپلزپارٹی کے لئے یہی ایک درخواست ہے کہ مہنگائی کی بات شروع کی تو پہرہ دینا۔

مزید :

رائے -کالم -