چھاتی کی کینسر سے بچاؤ

چھاتی کی کینسر سے بچاؤ

  

قیصرہ آنٹی کا المیہ تھا کہ ان کی شادی نہ ہوسکی اور اب چھاتی میں نکلی گلٹی نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا یہ گلٹی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی اور اپنی جڑیں ان کے جسم میں مضبوط کررہی تھی،جس کی وجہ سے ہونے والی تکلیف بھی ان سے برداشت نہ ہو پا رہی تھی نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹروں نے ان کی بائیں چھاتی کا آپریشن کرکے اسے نکال دیا، مگر گلٹی کی جڑیں کینسر کی صورت اختیار کرگئیں اور آخر کار وہ ایک سال کے اندر وفات پاگئیں یہ صرف قیصرہ آنٹی کا المیہ نہیں تھا، بلکہ یہ تمام خواتین کی صحت کی بات ہے جو چھاتی کے کینسر سے نبرد آزما ہوتی ہیں۔

چھاتی کا کینسر ایک ایسی بیماری ہے، جس کی علامات،پیچیدگیوں اور علاج کے حوالے سے نہ صرف خواتین، بلکہ مرد حضرات کو بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اس حوالے سے جب میں نے اسسٹنٹ پروفیسر آف سرجری میو ہسپتال ڈاکٹر رانا سہیل سے بات کی تو ان کا کہنا تھاکینسر چھاتی کا ہو یاپھر کسی بھی دوسری قسم کا اسے موت کے نام سے تشبیہ دی جاتی ہے،ماضی کی طرح کینسر اب لاعلاج نہیں رہا اب تو سائنس کی ترقی کی بدولت اس کا علاج آسان ہوتا جارہا ہے مگر اب بھی اس کا علاج کرانا غریب آدمی کے بس کی بات نہیں۔ جدید ریسرچ کے مطابق چھاتی کا کینسر ایسا کینسر ہے جس کی تشخیص اگر ابتدائی سٹیج پر ہوجائے تو اس کا مکمل علاج ممکن ہے اس کو خواتین کا کینسر بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ 90 فی صد سے ذائد خواتین اس کا شکار ہوتی ہیں،جبکہ مردوں میں اس کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔عام طور پر یہ کینسر بوڑھی عورتوں میں پایا جاتا ہے، لیکن موجودہ دور میں نوجوان لڑکیوں جن کی عمر 21 سال سے 27 سال تک ہے شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ دونوں میں پایا جاتا ہے۔خصوصاََ بے اولاد عورتوں میں اولاد والی عورتوں کی نسبت ذیادہ پایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر رانا سہیل کا بریسٹ کینسر کی علامات پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا بریسٹ کینسر کی عام طور پر جو علامات ظاہر ہوتی ہیں ان میں چھاتی میں گلٹی کا بننا،چھاتی کے ایک طرف یا دونوں طرف بوجھ کا محسوس ہونا یا بھاری پن۔نپل کا سکڑنا اندر کی طرف دھنس جانااورنپل سے کسی قسم کی رطوبت کا اخراج اس کے علاوہ بریسٹ کینسر کی صورت میں اگر پھیپھڑے یا جگر متاثر ہوں تو سانس کا پھولنا، پیٹ میں پانی کا پڑ جانا، کمر درد اور شدید تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔بریسٹ کینسر کی چار قسمیں ہیں۔پہلی اور دوسری تو عام طور پر ابتدائی علاج کے ساتھ اور احتیاط کے ساتھ ہی ٹھیک ہو جاتی ہیں۔تیسری اور چوتھی قسم بھی بروقت علاج سے ٹھیک ہو جاتی ہیں،لیکن اس میں پیچیدگیاں بہت ہوتی ہیں یہاں تک کہ سرجری بھی ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے خواتین کو چھاتی سے محروم ہونا پڑتا ہے اس بات پر میں حیران ہوا، مگر ڈاکٹر صاحب نے میرے چہرے کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے کہا کہ یہاں سے پلاسٹک اور کاسمیٹکس سرجن کا کام شروع ہوجاتا ہے یہ بھی سرجری کی ایک جدید مہارت ہے جس میں اعضاء کی دوبارہ تعمیر کی جاتی ہے ان کی اس بات سے مجھے ڈاکٹر افضال باجواہ یاد آ گئے جو اسسٹنٹ پروفیسر آف پلاسٹک اینڈ کاسمیٹکس سرجری ہیں اور ان کا شمار ان چند گنے چنے سرجن میں ہوتا ہے،جو اس فیلڈ سے وابستہ ہیں اپنے موضوع کی مناسبت سے ان سے اظہار خیال کیا تو انہوں نے برملا کہا کہ پلاسٹک سرجن کا کام اس وقت شروع ہوجاتا ہے جب بریسٹ کینسر کی مریضہ کو آپریشن کروانے کا کہ دیا جاتا ہے

اس حوالے سے ہماری پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ مریضہ کی بریسٹ کو کیسے بچایا جائے اور اگر بریسٹ کو کاٹنا ہی مقصود ہے تو اس کی recosctruction کیسے کرنی ہے اور ان کے لئے سلیکون کے علاوہ کس میٹریل کا استعمال کرنا ہے، دراصل یہی وہ چیزیں ہیں جنرل سرجن اور پلاسٹک سرجن کو الگ الگ اہمیت دیتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ کینسر کی مریضہ کی سب سے بڑی مشکل یہی ہوتی ہے کہ وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجاتی ہے اس لئے جب ایسے کیسز ہمارے پاس آتے ہیں تو ہم پہلے ان کو سائیکالوجیکل طریقے سے ہینڈل کرتے ہیں ان کو ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کا کہتے ہیں تاکہ یہ ذہنی طور پر کسی بھی متوقع صورتحال کے لئے تیار رہیں۔پلاسٹک سرجری مہنگا علاج ہے، مگر حکومت کی دلچسپی سے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں اس حوالے سے ہرطرح کی سہولیات فراہم کی جاچکی ہیں اور حکومت پاکستان بریسٹ کینسر کی آگاہی کے حوالے سے اکتوبر کاپورا مہینہ مناتی ہے، جس میں سرکاری سطح پر اس بیماری سے بچاؤ اور علاج کی اہمیت پر ذور دیا جاتا ہے۔

 صدر پاکستان تو خود بھی بریسٹ کینسر کی آگاہی پر تقریبات میں مفصل گفتگو کرتے رہتے ہیں اور قصرصدر کو بھی گلابی روشنیوں میں چمکایا جاتا ہے۔ڈاکٹر افضال باجواہ کا مزید کہنا تھا عام طور پر کلچر،لباس،خوراک، فیشن کواتنا سنجیدہ نہیں لیا جاتا، لیکن اس وقت ان چیزوں کو سنجیدہ لینا پڑتا ہے جب مشرق کی بیماریاں مغرب کی جانب اور مغرب کی بیماریاں مشرق کی جانب رخ کرنا شروع کر دیتی ہیں اور مناسب علاج اور مکمل آگاہی نہ ہونے کی صورت میں غریب ممالک کے لاکھوں افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔

بریسٹ کینسر کا موروثی طور پر بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ اس کے جرثومے بھی نسل درنسل چلتے ہیں اور جہاں انسانی مدافعتی نظام کمزور ہوا نہیں یہ اپنا کردار ادا کردیتے ہیں۔پاکستان میں سال 2020ء میں 25928عورتیں چھاتی کے کینسر کی شکایت کے ساتھ ہسپتالوں میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ دوسرے ڈیٹا کے مطابق دیگر کینسر کی شرح کے مقابلے میں پاکستانی خواتین میں چھاتی کے کینسر کی شرح 14.5 فیصد ہے اور ہر9 میں سے ایک خاتون کو چھاتی کا کینسر ہوسکتا ہے،جو انتہائی الارمنگ ہے اس سلسلے میں ہمیں خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیسے اپنے آپ کو اس مرض کی گرفت سے بچاسکتے ہیں۔  

مزید :

رائے -کالم -