اقلیتوں کے مسائل کب حل ہوں گے؟

 اقلیتوں کے مسائل کب حل ہوں گے؟
 اقلیتوں کے مسائل کب حل ہوں گے؟

  

قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم کے پاکستان کے نظریہ پاکستان کا آنے والی حکومتوں نے سلسلہ وار حلیہ بگاڑ دیا۔ پہلے پاکستانیوں کو اقلیت اور اکثریت کے پلڑے میں ڈال کر ان کے درمیان تفریق و امتیاز کی داغ بیل ڈال دی  گئی اور پھر جب اُن کی پارلیمان میں نمائندگی کا سوال اٹھا تو کبھی اُنہیں آبادی کے تناسب سے مخصوص نشستیں الاٹ کر دی گئیں۔ اور ان نشستوں کے حصول کے لئے بھی حکمران جماعتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ کبھی انتخابات میں مختلف کامیاب ہونے والی پارٹیوں کی نشستوں کے تناسب سے متناسب نمائندگی کی صلیب پر لٹکا دیا گیا۔ غرض کہ جس کا جیسے جی چاہا اقلیتوں کو اُن کے بنیادی حقوق اور براۂ راست نمائندگی کے بین الاقوامی حق سے محروم کر دیا۔ اور ستم ظریفی دیکھئے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں 70 سال قبل جتنی نشستیں مقرر کی گئی تھی اُن میں کوئی اضافہ نہ کیا گیا۔ جبکہ اکثریتی نشستوں میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ کیا جاتا رہا گویا اکثریتی آبادی کے بڑھنے کے عمل کو تسلیم کیا جاتا رہا اور اقلیتوں کی آبادی بڑھنے کے عمل کو نظر انداز کیا جاتا رہا جب پاکستان کی آبادی دس کروڑ تھی اُس وقت بھی اقلیتوں کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی تعداد یہی تھی جو بائیس کروڑ کی آبادی کے ملک وطن عزیز پاکستان میں اقلیتوں کی نشستوں کی آج بھی وہی ہے

کیا یہ ستم ظریفی نہیں اس سے بڑھ کر اقلیتوں کے ساتھ اور زیادتی کا عمل کیا ہوگا اور پھر دعویٰ کیا جاتا ہے، پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں جبکہ پاکستان کا آئین اس دعوےٰ کی نفی کرتا ہے کیونکہ کوئی اقلیتی فرد نہ تو وطن عزیز کا وزیراعظم بن سکتا ہے اور نہ ہی صدر بن سکتا ہے اس اعتبار سے اقلیتیں پاکستان میں دوسرے درجے کے شہری قرار پاتی ہیں جبکہ اگر مغربی ممالک اور امریکہ میں کوئی پاکستانی شخص اور خاتون وفاقی وزیر یا میئر بن جائے تو یہاں بڑے فخر سے اُن کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ وطن عزیز میں تو اقلیتوں کو کلیدی عہدوں تک متمکن کرنے کا طریقہ کار بھی حکومتوں کے رحم و کرم پر ہے کسی ادارے کا سربراہ شاید ہی کسی اقلیتی فرد کو بنایا گیا ہو افواج پاکستان میں لیفٹنٹ سے برگیڈیر کے عہدے پر تو کئی مسیحی ترقی پاسکے لیکن صرف دو مسیحی میجر جنرل کے عہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے ایک میجر جنرل لیفٹیننٹ پیٹر اور دوسرے نوئیل اسرائیل کھوکھر تھے لیکن اس سے اُوپر یعنی لیفٹیننٹ جنرل اور جنرل کے عہدے پر کسی مسیحی کو متمکن نہیں کیا گیا اور اس سے قبل ہی ریٹائر کر دیا جاتا ہے اور یہی صورت حال ائیر فورس اور نیوی اور رینجرز کی ہے۔

اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی دیکھ بھال اور اُن کے مسائل کے حل کے لئے کمیشن بھی بنتے رہے اور وفاقی اور صوبائی سطح پر وزارتیں بھی تشکیل دی جاتی رہیں اور اقلیتی مشاورتی اورثقافتی کونسلیں بھی بنتی رہیں لیکن اقلیتوں کے مسائل جوں کے توں موجود رہے بلکہ اُن میں وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج اضافہ ہی ہوتا چلا گیا پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اقلیتوں کو صوبائی مسئلہ قرار دے دیا گیا اور وفاقی سطح پر اقلیتی اور انسانی حقوق کی وزارت ہی ختم کر دی گئی اور ضلعی سطح پر جو ہر شہر میں ایک اقلیتی کمیٹی ہوتی تھی جس کے اقلیتی افراد رکن ہوتے تھے اور ڈپٹی کمشنر اُن کا سربراہ ہوتا تھا اُنہیں بھی موقوف کر دیا گیا۔ اقلیتوں کے ادیبوں شاعروں اور صحافیوں کے مسائل کے حل اور اُن کو اعلیٰ کارکردگی پروفیشنل کلچرل ایوارڈ برائے شعر و نثر اور صحافت دیا جاتا تھا وہ بھی یاد پارینہ بن کر گیا۔ غرض  اقلیتوں کے مسائل اور حل اور فلاح و بہبود کی کسی کو چنتا نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اقلیتوں کی درست رائے شماری کے ذریعے ان کی قومی، صوبائی اور ضلعی کونسلوں اور میونسپل کارپوریشن میں نشستوں کا تعین کیا جائے تاکہ اُن کے نمائندے اُن کے مسائل کے حل کے لئے پیش رفت کر سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ موجود حکومت کو اقلیت مخالف رویہ ترک کر کے اُن کے مسائل کے حل اور حقوق کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنا چاہئیں جبکہ ہو اس سے الٹ رہا ہے۔ خیر پختواہ خوا کے دارلخلافے پشاور میں مسیحیوں کے ڈیڑھ صدی قبل کے ملکی تعلیمی ادارہ ایڈوڈز کالج پشاور پر غاصبانہ قبضہ کر لیا گیاہے اور اُسے حکومت کسی صورت واپس کرنے کے لئے تیارنہیں اس سلسلہ میں مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے لہٰذا ہم اس پر مزید بات نہیں کرتے اسی طرح لاہور کے یونائیٹڈ کرسچن ہسپتال گلبرگ IIIیو سی ایچ کو عمران خان نیازی وزیراعظم پاکستان کے ادارہ شوکت خانم ہسپتال میں ضم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

اسی طرح کے بے شمار مسائل ہیں جو اقلیتوں اور خصوصاً مسیحیوں کو درپیش ہیں جن میں جبری تبدیلی مذہب بھی شامل ہے جس کے بل کو اسمبلی میں پیش ہونا تھا لیکن اس کوشش کو بھی مسترد کر دیا گیا جیلوں میں دیگر قیدیوں کو اپنے دینی شعار ادا کرنے کی سہولت اور مراعات دی گئی ہیں اور اُن کے علمائے کرام کو بھی ان قیدیوں سے رابطہ کی سہولت موجود ہے جبکہ دیگر اقلیتوں خصوصاً مسیحی قیدیوں کو یہ سہولت اور مراعات حاصل نہیں۔ حکومت کو اس امتیاز سلوک اور ناروا رویے کو ختم کرنا چاہیے آخر میں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئین میں ترمیم کر کے قومی اسمبلی سے یہ قانون پاس کرایا جائے کہ جو ہر سیاسی جماعت کو پابند کرے کہ وہ اپنے اقلیتی اراکین کو براۂ راست انتخاب میں حصہ لینے کے لئے مختلف حلقوں میں ٹکٹ دیں تاکہ وہ براہ راست منتخب ہو کر اقلیتوں کی صحیح نمائندگی کر سکیں۔ یاد رہے کہ وطن عزیز کے بہت سے حلقوں میں اقلیتی ووٹر بیلنس آف پاور کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ کوئی اچنبے کی بات نہیں کیونکہ اقلیتیں آج بھی براۂ راست انتخاب میں مختلف پارٹیوں کے اکثریتی ٹکٹ ہولڈرز کو ووٹ دیتی ہیں جو مختلف حلقوں سے اکثریتی اور اقلیتی ووٹوں سے کامیاب ہوتے ہیں فرق صرف ہے کہ اقلیتی افراد اگر خود براہ راست انتخاب کے لئے کھڑے ہوں تو کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ کوئی قومی جماعت اُن کے پیچھے نہیں ہوتی اس لئے وہ اکثریتی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے اور ناکام ہو جاتے ہیں وطن عزیز میں ایسی آئینی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے جس سے اقلیتوں کے مسائل حل ہوں تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کی نیک نامی میں کمی واقع نہ ہو۔

مزید :

رائے -کالم -